جہلم ضلع بھر میں گزشتہ 2سال سے نئی بھرتی نہ ہونے کی وجہ سے محکمہ تعلیم سمیت دیگر محکموں میں سینکڑوں آسامیاں تقرری کی منتظر

Spread the love

جہلم(چوہدری عابد محمود +عمیراحمدراجہ)جہلم ضلع بھر میں گزشتہ 2سال سے نئی بھرتی نہ ہونے کی وجہ سے محکمہ تعلیم سمیت دیگر محکموں میں سینکڑوں آسامیاں تقرری کی منتظر، جس کیوجہ سے ضلع بھر کی عوام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہاہے تو دوسری طرف نئی بھرتی نہ ہونے کیوجہ سے بیروزگاری میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہاہے، پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے چینی اور تشویش پائی جاتی ہے، حکومت کی جانب سے 1 کروڑ نوکریاں دینے کا نعرہ اب محض نعرہ بنتا جا رہاہے، پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں کی تعداد میں دن بدن تیزی کے ساتھ اضافے سے یہ بات عیاں ہوتی جارہی ہے کہ گزشتہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت کی ترجیحات میں بھی شہریوں کے مسائل میں اضافہ کرنا ہے کہ اڑھائی سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود حکومت نے سرکاری محکموں میں ابھی تک نئی بھرتیاں نہیں کیں، ان خیالات کا اظہار شہر کی سماجی رفاعی فلاحی،مذہبی و شہری تنظیموں کے عمائدین نے اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں پر پڑھے لکھے نوجوانوں کی بھرتیاں کی جائیں تاکہ پنجاب کے تمام صوبائی اداروں میں خالی ہونے والی آسامیوں پر نوجوان خدمات سرانجام دیں جس سے شہریوں کے مسائل میں کمی واقع ہو سکے اور بیروزگاری کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ حکومت نے 2018 کے عام انتخابات میں نوجوانوں کونوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا اڑھائی سال گزرجانے کے باوجود سرکاری اداروں میں پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں کو نہ تو بھرتی کیا گیا ہے اور نہ ہی روزگار کے مواقع پیدا کئے گئے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں سے مدت ملازمت مکمل کرنے والے سینکڑوں افراد ریٹائرڈ ہو چکے ہیں لیکن موجودہ حکومت نے نوجوانوں کو نوکریاں دینے کی بجائے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر گامزن ہے جس کیوجہ سے نوجوانوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں