گورنمنٹ ہائیر سیکرٹری سکول غلنئی میں کرپشن اور خرد برد کا انکشاف

Spread the love

پرنسپل اور اساتزہ طلباء کو پڑھانے کی بجائے مال بٹورنے میں مصروف ہیں۔لیب اٹنڈنٹ سلیم خان کی پریس کانفرنس

ضلع مہمند(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول غلنئ میں کرپشن اور خرد برد کا انکشاف،پرنسپل اور اساتذہ طلباء کو پڑھانے کی بجائے مال بٹورنے میں مصروف کرپشن کے تمام ثبوت موجود ہیں حقائق بیان کرنے پر مجھے نوکری سے برخاست کیا گیا ملوث افراد کے خلاف شفاف انکوائری کی جائے گلوبل ٹائمز میڈیا تفصیلات کے مطابق ہیڈکوارٹر غلنئ مہمند پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہائیر سیکنڈری سکول کے سابقہ لیب اٹنڈنٹ سلیم خان نے سکول میں کرپشن کا انکشاف کیا ہے کہ سلطان محمد,ادریس اور مومن خان جو ہائیر سیکنڈری سکول میں تعینات ہیں پرنسپل سلطان محمد جو اس سے پہلے کئ تنازعات کے وجہ سے مختلف جگہوں پر ٹرانسفر ہوا ہے اور اس سے پہلے باجوڑ سے ضلع بدر ہوا تھا. اب یہاں قائم سرکاری الیکٹریکل لیب جو کہ پچاس ساٹھ لاکھ کے لاگت سے 2009 میں قائم ہوا اور 2011 کو باقاعدہ طور پر شروع ہوا لیکن اس سے مقامی طلباء کو کوئی فائدہ نہیں ملا لیکن اب اس ورکشاپ کو بطور ہاسٹل استعمال کیا جاتا ہے ٹی وی اور وائ فائ خود استعمال کر رہے ہیں۔اس ورکشاب کا ایک کمرہ بطور کچن استعمال ہو رہا ہے. اس کے علاوہ جو طلباء چھٹی یا ساتویں جماعت میں داخلہ لینے اتے ہیں ان سے 500 سے 900 تک ایڈمشن اور پاس ہونے والے طلباء سے پوموشن فیس بھی لیا جاتا ہے جو کہ مکمل غیر قانونی ہے. اور ساتھ ہی امتحان کے وقت داخلہ فیس 800 کی بجائے 1800 سے 3000تک وصول کرتے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ کچھ اساتذہ جنہوں نے اپنے سٹمپ بنائے ہیں اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے باہر سے آئے ہوئے لوگوں کے 300 سے 500 روپے کے فیس میں نادرا ویریفیکشن کرواتے ہیں.جبکہ سلطان محمد نے شاہ حسین نامی شخص جو اسکا ایجنٹ ہے اس کو اہلیت کے بغیر ہی کلرک کے عہدے پر تعینات کررکھا ہے۔سکول میں بہت سے اساتذہ اور سٹاف ممبر کئ سالوں سے ڈیوٹی سے غائب ہیں جبکہ انکی حاضری لگ رہی ہے اور تنچواہ بھی لے رہے ہیں سلیم خان نے واضح کیا کہ مذکورہ شخص نے 8 سے 10 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری فرنیچر اور سکول میں موجود بڑے درخت بھی بیچ دئے ہیں.جسکے بارے میں محکمہ جنگلات میں شکایت درج کرائی اور انہوں نے اسکی ویڈیوز بھی بنائی لیکن انکے خلاف کوئ کاروائی نہیں کی گئی۔مقامی طلباء کو بلڈنگ اور سٹاف کی کمی کا بہانہ بناکر داخلہ نہیں ملتا جبکہ سکول کے کمرا اپنے جاننے والوں کو رہائش کیلئے دیا گیا متعلقہ شخص کے کرپشن کا پول کھولنے اور حقائق بیان کرنے پر مجھے انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا گیا اور مجھے نوکری سے نکال کر میرے خلاف انکوائری شروع کی گئی ان تمام مسائل کے بارے میں نے وقتاً فوقتاً تمام اعلی حکام اور سٹیزن پورٹل پر شکایات درج کرائی ہیں لیکن تاحال کوئی رسپانس نہیں ملا.سلیم خان نے محکمہ تعلیم کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس مسئلے کی شفاف تحقیقات کرکے ملوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں