قرآن اور صحت

Spread the love

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر فیاض احمد
قرآن شریف کوئی صحت یا ادویات کی کتاب نہیں ہے لیکن قرآن شریف میں ایسے پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے جو ہمیں صحت اور بیماری میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں جیسا کہ بیان ہے کہ ”تمام اشیاء جو تمہارے رب کی طرف سے ہیں وہ تمہاری صحت کے لئے اچھی ہیں۔۔وہ اشیاء جو تم نے خود تیار کی ہیں وہ تمہاری صحت کے لئے نقصان دہ ہیں:(القرآن ۹۷:۴)۔
کیوں منتیں مانگتا ہے اوروں کے دربار سے اقبال۔۔۔وہ کونسا کام ہے جو ہوتا نہیں تیرے پروردگار سے۔
جس طرح ایک ریڈیو میں بہت سارے الیکٹریکل اور مکنیکل کے حصے ہوتے ہیں لیکن جب تک اس میں سے کرنٹ نہ گزرے یہ ریڈیو چلنے کے قابل نہیں ہوتااسی طرح جسم انسانی کے بہت سارے حصے ہیں لیکن پھر بھی انسان نہیں ہوتا جب تک اس میں روح نا ڈالی جائے جس طرح سے ایک مشین سے کام لینے کے لئے اس کا خیال رکھا جاتا ہے یعنی صفائی۔آرام۔ اور احتیاط وغیرہ اسی طرح جسم انسانی کی بھی ضرورت ہے کہ اس کا بھی خیال رکھا جائے اور احتیاط سے کام لیا جائے جسم انسانی کی حفاظت اور دیکھ بھال سے پہلے روح کی تازگی کو بھی سر سبزشاداب ہونا ضروری ہے کیونکہ جب تک روح میں شادابی نہیں ہو گی اس وقت تک جسم کی بناوٹ اور خوبصورتی بے کار ہے روح کی تازگی عبارت پر منحصر ہوتی ہے مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ایمان یقین سے ہے وضو صرف منہ۔ہاتھ اور پاؤں دھونے سے۔ نماز پڑھنے سے۔ زکوٰۃ مدد کرنے سے اور حج مکہ جانے سے۔
ایمان:اللہ تعالیٰ پر کامل یقین روح کی تازگی کا سب سے اہم جزو ہے اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کا مطلب اللہ تعالیٰ کے نبیوں پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان۔ یوم آخرت پر ایمان، جنت اور دوزخ پر ایمان، حتیٰ کہ ہر اچھائی اور برائی اس کی پہنچ میں ہے پر کامل یقین ہی روح کی تازگی اور شادابی کا باعث بنتی ہے
صلوٰۃ: وضو کے دوران ہاتھوں۔ منہ اور پیروں کے ساتھ ساتھ جسم انسانی کے پوشیدہ اعضاء کو بھی دن میں پانچ مرتبہ دھونا۔ہاتھوں کے دھونے سے ہمیں جراثیموں کے پھیلنے سے بچاتا ہے اس کا ذکر قرآن میں واضع ہے اسی طرح قرآن کی تلاوت جسم دماغ اور دل کیلئے باعث علاج ہے یہ تقویت آواز اور مطلب سے پیدا ہوتی ہے قرآن مجید میں ارشادباری تعالی ہے کہ”اے نبی نوع انسان مھارے خدا کی طرف سے تمھاری طرف ایک اشارہ آیا ہے جو تمھارے درد دل کا علاج ہے اور وہ صرف ان کے لیے جو ہدایت اور رحمت مانگتے ہیں“ (القرآن ۷۵:۰۱)۔قرآن مجید میں ایک اور جگہ ا رشادباری تعالی ہے کہ ”اور ہم نے قرآن مجید میں یہ بات نازل کی ہے جو شفاء بخش ہے اور ایمان والوں کے لیے رحمت۔ ظالموں کیلئے اس کے نقصان کے سوا کچھ نہیں“(القرآن ۲۸:۷۱)۔نمازکے دوران دماغ اور جسم انسانی کے تمام مسلز اور جوڑحرکت کرتے ہیں جس کی بدولت انرجی کا لیول برقرار رہتاہے

زکوۃ: زکوۃ کا مطلب خالص اور بڑھاؤ ہے یہاں پر مطلب کمائی ہوئی دولت کو پاک کرنا ہمارے معاشرے میں بہت سارے جرائم دولت اور دولت سے پیار کی وجہ سے جنم لیتے ہے قرآن میں ارشادباری تعالیٰ ہے کہ”اور وہ اپنی دولت سے محبت میں متشدد ہے“(القراٰن ۸:۰۰۱) ۔
صوم: روزہ ہمارے ذہن کی تربیت اور اور جسمانی استحکام کی مشق ہے قرآن میں ارشادباری تعالیٰ ہے کہ ”اے لوگوں جوایمان لائے ہو تم پر روزہ فرض ہے جیساکہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم خود پر سیکھ جاؤ“(القرآن ۳۸۱:۲)۔اس لئے دوران روزہ ہم خوراک سے دور ہوتے ہیں اور نا کہ ہمارے معدے کو سکون ملتا ہے بلکہ اس دوران ہمارے جسم کے ہارمون میں ایک تسلسل پیدا ہوتا ہے جو ہماری مطابقت کو کنٹرول کرتا ہے
حج: حج فرض ہونے کے ساتھ ساتھ ہم کو یوم حساب کے لئے تیار کرتا ہے کہ کس طرح ہم نے قیامت کے دن کی گرمی۔ پیاس اور تھکن برداشت کرنا ہے تاکہ ہم میڈ قوت برداشت پیدا ہو اور ہم اپنے اندر کے گھٹیا انسان کو مار کر ایک اچھا بشر بن سکیں حج کے دوران سب بادشاہ اور غریب برابر ہوتے ہیں جو ہم میں برابری کا درس ہے اہل عقل کے لئے نشانیاں ہیں یہ تو روح کی بات تھی روح کو سکون دینے کے بعد انسانی جسم کی حفاظت کا ذکر ہے جس کے لئے سب سے پہلا جز غذا ہے
غذا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انسان کی خوراک کا سب سے پہلے خیال کرتا ہے اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ انسان کیا کھاتا ہے اور کیا چیز جسم کے اندر لے جاتا ہے ہمارے جسم کے مسلز۔ ہڈیاں۔ پھیپھڑے۔ جگر اور دماغ یعنی تمام اعضاء خام مال سے تیار شدہ ہیں اگر ہم فضول خام مال کو جسم میں داخل کریں گے تو یہ تمام اعضاء نا پائیدار ہو جائیں گے اور ہم مختلف مصائب کا شکار ہو جائیں گے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”اے انسان زمین میں جو اچھا اور حلال ہے اس میں سے کھاؤ:“(القرآن ۸۶۱:۲)۔
زیادہ کھانے سے پرہیز کرو کیونکہ یہ موٹاپے کا سبب بنتا ہے اور موٹاپا بیماریوں کا سبب بنتا ہے اسی طرح بعض لوگوں کی غذا ضائع کرنے کی عادت ہوتی ہے اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”اور زیادتی سے ضائع نہ کرو اللہ تعالیٰ برباد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا: (القرآن ۱۳:۷)۔ایک اور جگہ پر ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”ہم نے تمہارے رزق کے لئے جو اچھی چیزیں فراہم کی ان میں سے کھاؤ لیکن اس میں زیادتی نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ میرا غضب آپ پر انصاف ہو اور جس پر میرا غضب نازل ہو وہ واقعی ہلاک ہو جائیں“(القرآن ۱۸:۰۲)۔
مثال کے طور پر جوس بنانے والی مشین میں جوس بناتے وقت ہم اس کو پورا بھرتے نہیں ہیں کیونکہ اس کے ٹوٹنے یا جوس کے گرنے کا خطرہ ہوتا ہے اسی طرح ہمارے معدے کی بھی یہی صورت حال ہے اگر ہم اس میں تھوڑی جگہ چھوڑیں گے تو غذا کے ہضم اور جزو بدن بننے مبں آسانی ہو گی اور ہم بہتری محسوس کریں گے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم کو صحت مند غذائیت اور مشروبات ملتے ہیں عقل والوں کے لئے اس میں نشانی ہے“ (القرآن ۷۶:۶۱)پھلوں میں نشاستے۔فائبراور پروٹین کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے شہد میں شکر کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے مگر سیکروز کی نہیں بلکہ لیکروز کی کیونکہ سیکروز ذیابیطس کے مرض کا سبب بنتا ہے
صفائی: اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس پاک اور خالص ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو صفائی پسند ہے جس کی وجہ سے ہر نماز سے پہلے مسواک کرنا سنت ہے اور ہر دفعہ کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھوں کو دھونا بھی سنت ہے اسی طرح غسل کرنا بالوں اور ناخنوں کی کٹائی وغیرہ بھی ہم جراثیموں سے محفوظ کرتے ہیں جو آج کل کی سائنس کہتی ہے صفائی طہارت ایمان ہے
ورزش: کھانے کے بعد ہلکی پھلکی چہل قدمی کرنا غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے جو ایک سنت ہے سائنس کی روح سے بھی رات کے کھانے کے فوراً بعد سو جانے کا مطلب ہے کہ ہم نے بیماریوں کو دعوت دی ہے جیسا کہ قبض۔ گیس۔ تیزابیت اور ڈپریشن وغیرہ جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں
آجکل ہمارے معاشرے میں بہت سی مزمن بیماریاں جن میں دل کی بیماریاں۔ ڈپریشن۔ بلند فشار خون۔ معدے کا السر۔ شوگر او ر موٹاپا قابل ذکر ہیں اگر ہم سائنس کی رو سے دیکھیں تو ان کی اصل وجہ میٹھے یا نمکین چیزوں کا بے دریغ استعمال ہے اور اس کے ساتھ فضول خام مال کا استعمال بھی ہے یہ بیماریاں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں اگر ہم ان سے بچاؤ چاہتے ہیں تو اپنے کھانے میں میانہ روی سے کام لیں اور حسب ضرورت کھانا کھائیں اور اگر ہم کسی بیماری میں مبتلا ہوں تو اس کے گناہ کا کفارہ ادا کریں اور اللہ تعالیٰ سے اس کے مصائب کو دور کرنے کے لئے کہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”اور اگر اللہ تعالیٰ تمہیں تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں نکال سکتا اور وہ تمہیں خوشی دے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے: (القرآن ۷۱:۶)اگر ہم فضول غذاؤں سے پرہیز کریں تو ہم اپنے آپ کو خوبصورت توانا اور چست رکھ سکتے ہیں اور زندگی سے انپے آپ کو لطف اندوز کر سکتے ہیں پر اس کے لئے ہمیں اپنی زبان اور ہاتھ کو قابو میں رکھنا ہو گا جسم اور روح میں تازگی ہو گی تو انسان کو اشرف المخلوقات بننے سے کوئی نہیں روک سکتا اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں