ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن کے دفتر کے اندر اور باہر ٹاؤٹ مافیا کا راج

Spread the love

جہلم(چوہدری عابد محمود +عبدالغفارآذاد)جہلم ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن کے دفتر کے اندر اور باہر ٹاؤٹ مافیا کا راج،شہریوں کو جائز کاموں پر بھی لوٹا جانے لگا، ٹاؤٹ خود کو سرکاری اہلکار ظاہر کر کے سادہ سائلین کی جیبوں کا صفایا کرنے لگے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ذمہ داران کی خاموشی سوالیہ نشان، تفصیلات کے مطابق ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفاتر کے باہر اور اندر ٹاؤٹ مافیا نے مضبوط نیٹ ورک قائم کررکھا ہے ایکسائز دفتر کے کلرک سائلین کی درخواستوں پر بے جا اعتراضات عائد کرکے سائلین کی مشکلات کو کم کرنے کی بجائے اضافے کا سبب بن رہے ہیں، ایکسائز دفتر کے اہلکار سائلین کو ٹاؤٹ مافیا کا رستہ دکھاتے ہیں اس طرح ٹاؤٹوں اور سائلین کے مابین معاملات طے پانے کے بعد وہی فائلیں پروٹوکول کے ساتھ وصول کر لی جاتی ہیں، اس حوالے سے سائلین کا موقف ہے کہ وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب نے کرپشن مکاؤ مہم کے بلند و بانگ نعرے بلند کرنے شروع کر رکھے ہیں جبکہ سرکاری اداروں میں افسران کی سرپرستی میں کرپشن کا بازار گرم ہے، چند برس قبل تک رشوت کی ادائیگی کے لئے سفارشی تلاش کئے جاتے تھے اب سرکاری محکموں کے ملازمین نے ایک ہی چھت تلے سہولت مہیا کر رکھی ہے دفتر کے اندر اور باہر ٹاؤٹ مافیا سائلین کو تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں اور شکار ہتھے چڑھتے ہی دبوچ لیا جاتا ہے، شہری، سماجی، رفاعی، فلاحی تنظیموں کے عمائدین نے صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم میں نافذ جنگل کے قانون کے خاتمے کے لئے فرض شناس، ایماندار افسران کو تعینات کیا جائے تاکہ رشوت کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں