فرانس میں امن عامہ کیخلاف جرائم اور انتہا پسند سمجھے جانے والے غیر ملکیوں اور پناہ گزینوں سے انکا رہائشی اجازت نامہ واپس لے لیا جائے۔جیرالڈ ڈرمانا

Spread the love

فرانس میں امن عامہ کیخلاف جرائم اور انتہا پسند سمجھے جانے والے غیر ملکیوں اور پناہ گزینوں سے انکا رہائشی اجازت نامہ واپس لے لیا جائے۔جیرالڈ ڈرمانا

جیرالڈ ڈرمانا نے کہا ہے کہ وہ انتہا پسندوں کی فہرست میں شامل غیر ملکیوں سے رہائشی حقوق لے لینے کے خواہاں ہیں تاہم انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ کورونا کی عالمی وبا کے دوران غیر ملکیوں اور پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنا بہت مشکل ہے۔دائیں بازو کی لیڈر مارین لے پین ایک عرصے سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ ایسے غیر ملکیوں کو ملک بدر کر دیا جانا چاہیے جن پر شبہ ہے کہ وہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔یورپی ملک فرانس میں اسلام سے متعلق چند اہم حقائق

ملک بدریاں فرانسیسی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 ء میں اس یورپی ملک سے 24 ہزار افراد کو ملک بدر کیا گیا تھا جو کم از کم ایک دہائی کے دوران فرانس سے ملک بدری کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔اسی عرصے کے دوران فرانس میں پناہ کے حصول کی ایک لاکھ چالیس ہزار درخواستیں بھی جمع کرائی گئی تھیں۔علاوہ ازیں اس عرصے کے دوران فرانسیسی حکام نے پہلی بار 2 لاکھ 75 ہزار غیر ملکیوں کو رہائشی اجازت نامے یا کاغذات بھی جاری کیے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں