اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی فضائی بمباری کے نتیجے میں اب تک 24 افراد شہید اور 180 زخمی ہو چکے ہیں۔

Spread the love

اسرائیل بمباری میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے ہر طرف چیخ و پکار سنائی دیا۔

فلسطین(انٹرنیشنل ڈسک)گلوبل ٹائمز میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی فضائی بمباری کے نتیجے میں اب تک 24 افراد شہید اور 180 زخمی ہو چکے ہیں۔ شہدا میں بچے بھی شامل ہیں۔مظلوم فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل نے اس وقت وحشیانہ بمباری کی ہے جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہے اورعید الفطر میں صرف دو دن رہ گئے ہیں۔عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی بمباری میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے ہر طرف چیخ و پکار سنائی دیا، زخمیوں کی آہ و بکا سے آسمان لرز اٹھا اور خوف و دہشت کے عالم میں ماں باپ اپنے معصوم بچوں کو بچانے کی کوشش میں ادھر ادھر بھاگتے رہے۔گلوبل ٹائمز میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملے کے نتیجے میں حماس کے 15 کمانڈرز بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ فلسطین کے صدر محمود عباس نے غزہ پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ عید الفطر کی مناسبت سے منعقد کی جانے والی تقاریب اب نہیں ہوں گی۔فلسطین کے صدر نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی جرائم کو روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات اٹھائے۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ سے داغے جانے والے راکٹوں سے اسرائیل میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو نے عالمی سطح پر کی جانے والی اپیلوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ تنازع آئندہ کئی روز تک جاری رہ سکتا ہے۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کیمطابق وزیراعظم نے واضح طور پرکہا ہے کہ اسرائیل پوری قوت سے جواب دے گا اور حملہ کرنے والوں کو بھاری قیمت چکانا ہو گی۔غزہ کی صورتحال پر اوآئی سی کے مستقل مندوبین کا اجلاس آج طلب کرلیا گیا ہے جس میں فلسطینیوں کی بیدخلی پر غور کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں