فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطی کا سب سے پرانا اور حل طلب مسئلہ ہے۔سید یوسف رضا گیلانی

Spread the love

جس سے اب تک بڑے پیمانے پر تباہی ہو چکی ہے اور اس تنازعہ کی وجہ سے پورے نمشرق وسطی میں کشیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔سینیٹر پاکستان پاکستان پیپلزپارٹی

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹ میں حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطی کا سب سے پرانا اور حل طلب مسئلہ ہے جس سے اب تک بڑے پیمانے پر تباہی ہو چکی ہے اور اس تنازعہ کی وجہ سے پورے نمشر ق وسطی میں کشیدہ صورتحال سکا سامنا ہے،حالیہ دنوں میں جو صورتحال سامنے آئی ہے وہ انتہائی نافسوسناک ہے کیونکہ اسرائیلی افواج کی گولہ باری اورتشدد کے باعث سینکڑوں معصوم فلسطینی جن میں بچے بوڑھے اور عورتیں شامل ہیں جاںبحق ہو چکے ہیں ،بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں،اس طرح کی جارحیت قابل مذمت ہے اور اب اس مسئلہ کا پر امن حل انتہائی لازمی ہوگیاہے،بے گناہ شہریوں کو مسجد اقصی میں ظلم اور بربریت کا نشانہ بنایا گیا ہے جسکی نہ تو کوئی قانون اجازت دیتا ہے اور نہ ہی تاریخ میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے،ایسے مظالم کی کسی مذہب،عقیدے میں گنجائش نہیں۔ اپنے بیان میں سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے اسرائیلی بربریت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی بدترین مثال کرار دیا اور کہا کہ حالیہ تناؤ کے باعث پورے خطے کا امن داؤ پر لگ گیا ہے۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ بربریت کی حالیہ لہر فلسطینی عوام کے جائز اور قانونی حق تسلیم نہ کرنے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور فلسطینیوں کے ساتھ کیئے گئے وعدوں کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے مزید زور پکڑ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی نبرادری کی مسلسل ناکامی کی وجہ سے بے چینی اور غم وغصے میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور اس کے پورے خطے کیلئے خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے انھوں نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ افواج نے مقبوضہ وادی میں ظلم و جارحیت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور مقبوضہ وادی میں کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا جس سے نہتے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے تا ہم بھارت ان تمام ہتھکنڈوں کے باواجود اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے مسئلہ کا حل معنی خیز ڈائیلاگ میں ہے۔اور انھوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا حل بھی ڈائیلاگ اور گفت وشنید میں ہے۔ انھوں نے بین الاقوامی کمیونٹی پر یہ چیز واضح کی کہ طاقت کے بل بوتے پر کمزور کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ غیر قانونی قبضے کی بھی بین الاقوامی قانون میں گنجائش نہیں۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی حالیہ جارحیت مشر ق و سطیٰ میں قیام امن کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کو نقصان پہہنچا رہی ہے۔ او ر اب تمام بین الاقوامی برادری پر لازم ہو گیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایاجائے۔ انھوں نے تجویز دی کہ تشدد کو کم کرنے کے لئے اسرائیلی نقیادت کو بڑے فیصلے کرنے ہوں گے اور ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔
جبکہ بین الاقوامی برادری کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں دو ریاستی تصور کے عزم کو ہرانا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک اور خطہ کے ملکوں کو اس سلسلہ میں تعمیری کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ دونوں فریقین کو ڈائیلاگ پر قائل کیا جا سکے۔ سینیٹر یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں آباد کاری کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔
جبکہ میڈیا کا بھی اس سلسلہ میں کلیدی کردارہے اور میڈیا کو انسانی حقوق کی پامالیوں سمیت مسئلہ کے حل کے لئے اٹھنے والی آوازوں کو زیادہ اجاگر کرنا ہو گاتاکہ پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے۔سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے اس آن لائن کانفرنس کو اہم قرار دیا اور کہا کہ اس اہم پلیٹ فارم پر نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے ساتھ جو برتاؤ ہو رہا ہے اس پرہر نپاکستانی کا دل افسردہ ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی برادری اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کا ناحساس کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کریگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں