فلسطینیوں کے قتل عام پر نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کی خاموشی افسوس ناک ہے۔چیف اکرام الدین

Spread the love

اج کے مسلم ممالک کے حکمران صرف اور صرف اقتدار کے لالچ میں ہے کہ حکومت کی مراعات ملیں۔سربراہ جزبہ اتحاد یونین آف جرنلسٹ یورپین آرگنائزیشن

جرمن(انٹرنیشنل ڈسک)غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جزبہ اتحاد یونین آف جرنلسٹ یورپین آرگنائزیشن کے سربراہ و گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے چیف ایگزیکٹو اکرام الدین نے کہا کہ اگر اسلامی ممالک کے حکمران اسرائیل سے جنگ نہیں کر سکتے تو برائے مہربانی اسلامی ممالک کی جو فوج ہے اسے ختم کریں انہوں نے کہا کہ افواج بیرونی دشمن قوتوں کو سبق سیکھانے کیلئے ہے نہ ہی اپنی ملک کے اندر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ملک کے اندر دہشت گردی کا خاتمہ صرف پولیس فورسز، رینجرز، اور دیگر اداروں کا ذمہ داری ہے اسرائیل کیخلاف جہاد کرنے کا وقت آگیا ہے کیونکہ مسلمانوں نے بہت مظالم برداشت کر لیے اب اسرائیل کو سبق سیکھانے کا وقت آگیا ہے تمام اسلامی ممالک کے افواج اپنے میزائلوں کا روح اسرائیل کی طرف کرے اور اسرائیل کو عبرت ناک شکست دیں کیونکہ اسرائیل نے ہمیشہ فلسطین، شام، لبنان، عراق اور دیگر اسلامی ممالک کے مسلمانوں پر ظلم و ستم اور بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے جو قابل افسوس اور انسانیت کی توہین ہے مسلم ممالک کے افواج کا آن میزائلوں کا کیا کرنا جو ہر بار مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کو ہی نہ روک سکیں مسلمانوں کو ہر طرف سے گھیر لیا گیا ہے اور اب اسرائیل ہمیں ایک ایک کرکے شکار کر رہے ہیں اور ہمارے مسلم ممالک کے حکمران اپنے ملک میں انکی مصنوعات تک بھی نہیں روک سکتے اگر تمام مسلم ممالک ان سب اسلام مخالف ممالک کی اشیاء پر پابندی لگا دیں اور ان اسلام مخالف ممالک کے ساتھ ہر قسم رابطہ ختم کریں ورنہ ایک دن ہم سب اسلامی ممالک اس ظلم کا شکار ہو جائیں گے اج موقع ہے ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور دین اسلام کا فریضہ ادا کریں صد افسوس ہے کہ مسلم ممالک طاقت، قوت ہونے کے باوجود بے بس اور لاچار ہے فلسطینی تجزیہ نگار معروف صحافی جلال محمد نے ایک لائیو پروگرام میں روتے ہوئے کہا کہ تمام مسلم ممالک فلسطین کو چھوڑ دیں خدارا بیت المقدس کی حرمت کیلئے کوئی قدم اٹھا لیں بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اسکا تحفظ عالم اسلام کی اہم ذمہ داری ہے جزبہ اتحاد یونین آف جرنلسٹ یورپین آرگنائزیشن کے سربراہ و گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے چیف ایگزیکٹو اکرام الدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو شرم انی چاہئے کہ فلسطین میں جاری اسرائیلی دہشت گردی کیخلاف ابھی تک اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے کوئی ایکشن نہیں لیا وقت مذمت کا نہیں وقت سبق سیکھانے کا ہے اسرائیل کو غبرت ناک سبق دیں میں حیران ہوں کہ اج کے مسلمانوں میں غیرت کہا ہے 57 اسلامی ممالک پھر انکی 50 لاکھ فوج مگر اسلحہ کو زنگ لگا ھے یا ان بے غیرت لوگوں کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے تھوڑے سے یہودی سرعام مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں اور دوسری طرف ہمارے مذہبی رہمنا اور حکمران صرف اور صرف اقتدار کے لالچ میں ہے بس کیسے بھی کرکے حکومت کی مراعات ملیں اللہ کے غضب سے ڈریں انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح اگر مذمت کرتے تو پاکستان وجود میں نہ آتا انہوں نے عمل کیا اس کے بعد کوئی لیڈر آیا جو مذمت کرنے کی بجائے عمل کرے اس ایک لفظ نے امت مسلمہ کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا اللہ پاک کی زمین کتنی بڑی ہے ایک ایسا حطہ بتا دیں جو مسلمانوں نے جنگ کئے بغیر حاصل کیا ہو مذمت کرکے کچھ حاصل نہیں ہوتا عمل کرکے حاصل ہوتا ہے ویسے تو مذمت غیر مسلم بھی کر رہے ہیں اللہ تبارک و تعالی فلسطینی مسلمانوں پر اپنا فضل و رحم کرے۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں