کرونا سے نمٹنے میں رمضان المبارک کا کردار(تحریر)محمد علی جوہری

Spread the love

آج کل کرونا وائرس نے ہماری زندگیوں کو پٹری سے اتار دیا ہے، ہمارے روز وشب کو بدل کر رکھ دیا ہے، ہمیں ہمارے گھروں میں بند کردیا ہے، ہمارے روٹین کو بدل دیا ہے،ہمارے سونے جاگنے اور کام کرنے کے اوقات پر بھی اثر انداز ہوگیا ہے،ہمارے سکول اور مدارس بند ہوچکے ہیں، قرنطینہ کے نام سے گوشہ نشینی کا بازار گرم ہے لوگوں میں نفسیاتی بیماریاں زیادہ عام ہوگئی ہیں، خودکشی کا رسک بڑھتاجا رتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ اسی کے ساتھ عدم تحفظ کا احساس اور خواتین اور بچوں کے خلاف گھریلو تشدد میں اضافہ، لوگوں کے باہمی روابط میں خلل، بے روزگاری کے نتیجے میں متعدد اقتصادی اور معاشرتی مسائل، طلاق کی شرح میں اضافہ، خاندانی نظام میں تزلزل، اور اخلاقی انحطاط اور معنویت میں گراوٹ وغیرہ وہ چیدہ مسائل ہیں جو کرونا وائرس سے جنم پانے عالمی وباء COVID-19 نے دنیا کے سامنے چیلنج کے طورپر سامنے رکھاہے اور بہت سے میدانوں میں دنیا کے مستقبل کو بہت سے خطرات سے دوچار کردیا ہے، چنانچہ ایسی صورت حال میں ہمیں اس بحران سے نمٹنے کیلئے معنویت کو تقویت دیتے ہوئے عالمی سطح پر یکجہتی اور ہمدردی کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس وباکے نتیجے میں مترتب ہونے والے منفی اثرات اور نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ موجودہ شرائط میں دنیا میں معنویت کے گہرے اثرات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے جب ہمینیزم (Humanism) پر مبنی انسانی عقل، کورونا جیسے مہلک وائرس کی لہر کی روک تھام میں بے بس نظر آتی ہے، چنانچہ ہمینیزم (Humanism) کی اسی بے بسی نے انسان کو عملی طور پر ہمینیزم (Humanism)سے انسان کی توجہ ہٹاکر خدا پرستی کی طرف راغب کردیا ہے، یہاں تک کہ مغربی معاشرے میں زندگی گزار نے والے لوگ بھی کرونا کے تباہ کن نتائج سے نجات پانے اور معنوی سکون حاصل کرنے کیلئے مسلم سماج کی طرح خداسے راز و نیاز اور مومنانہ انداز میں زندگی گزارنے کیلئے گوشہ نشینی اور عزلت گزینی کی طرف مائل ہوتے جارہے ہیں جس کے بہت سے نمونے اور مثالیں حالیہ مہینوں میں دنیا کے میڈیا میں ہمیں دیکھنے کو ملیں۔بلاشبہ آج کے دور میں ماڈرنیزم سےمنہ موڑ کر خدا پرستی کی جانب میلان پر مبنی لوگوں کے زاویہ نگاہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلامی تعلیمات اور معارف کو دنیا کے گوشہ و کنار تک پہنچانے میں امت مسلمہ کی ذمہ داری میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے، چنانچہ ان حالات میں اسلامی سماج سمیت دینا کے مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے مختلف معاشروں میں معنویت کو فروغ دینے میں رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ایک گولڈن چانس کی حیثیت رکھتا ہے تاکہ کرونا وائرس سے مبہوت دنیا کے لوگ، دین اور فطرت کے مابین باہمی ارتباط اور تعلق کے نتیجے میں اپنے اصل یعنی خداپرستی کی طرف لوٹ آئیں جس کے نتیجے میں معنویت اور قلبی سکون کو فروغ دیا جاسکے۔ رمضان المبارک کا مبارک مہینہ خالص انسانی فطرت کی طرف لوٹنے کے لئے انتہائی موزون اور زمینہ ساز مہینہ ہے جس میں انسان، روزہ اور دیگر عبادت کے ذریعے رضائے الہی کے حصول کے ساتھ دنیا کے سامنے مومنانہ طرز زندگی کی بہترین تصویر پیش کرسکتا ہے جوکرونا وائرس سے متاثردنیا کیلئے سکون اور اطمینان کے اسباب کی فراہمی کا موجب ٹھہر سکتی ہے ۔
ماہ مبارک رمضان میں روزه‌ داری کا نیک عمل، خدا کی جانب میلان کے ساتھ ہمینیزم (Humanism) سے بے رخی کا عظیم مظہر ہے جوروزہ داری کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، اب ایسی صورت میں جہاں ہمینیزم (Humanism) سے بے رخی اختیار کرتے ہوئے خدا محوری کو ترجیح دی جاتی ہو تو وہاں عموما لوگوں کی کوشش اپنی انانیت کو فراموش کرتے ہوئے اعلاء پیمانے پر خدا کی رضا کے حصول کیلئے سعی اور تلاش میں صرف ہوتی ہے اور اس زاوئے سے اگر دیکھا جائے تو ماہ مبارک رمضان کی معنویت، الہی حدود کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے ساتھ خدائے واحد کی اطاعت کیلئے انسانی معاشروں کی مذہبی حیات کو کروناکے بعد کی دنیا کیلئے روشن اور واضح کرتی دکھائی دیتی ہے۔حقیقت حال یہ ہے کہ کروناوائرس جہاں ایک طرف بعض منفی پہلووں کا حامل ہے وہی دوسری جانب بہت سے مثبت پہلووں پر بھی مشتمل ہے جس میں سے ایک معنویت کی جانب ترغیب ہے، جو قرنطینہ کی صورت میں دنیاکے گوشہ و کنار میں ہمیں دکھائی دیتی ہے اور لوگوں کے لئے ہمینیزم (Humanism) کو چھوڑ کر خداسے راز و نیاز کرنے کا سنہرا موقع فراہم کیاہے۔ اور اس کے علاوہ کورونا وائرس کے بحران کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے نفسیاتی نتائج نے مغربی مشینری منظومے پر مبتنی ماڈرنیزم کی کوکھلی حقیقت کو بھی دنیا کے سامنے ظاہر کردیا ہے جو لوگوں کی معنوی ضروریات کو فراہم کرنے میں بری طرح ناکام اوربے بس نظر آتی ہے ،جبکہ اس وقت انسان مادی اور مشینری لائف کی ہلچل سے آزاد ہوکر اپنی روح اور جسم کی سلامتی کیلئے ایسے سکوت کا محتاج ہے جو اسکی روح اور جسم دونوں کیلئے سکون اور آرامش فراہم کرسکے اور یہ چیز مغرب کی مشینری لائف پر مشتمل تہذیب میں کہیں نظر نہیں آتی ہے، تاہم اس اہم حیاتی عنصر کو سحر خیزی، راز و نیاز اور عبادت اور ریاضت کی صورت میں رمضان المبارک کے عظیم اور بابرکت مہینے سے حاصل کیا جاسکتا ہے دنیا میں معنویت کے فروغ کیلئے ماہ مبارک رمضان کی ظرفیتوں سے استفادہ کرنے کی اہمیت میں اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب ہمیں کرونا جیسی عالمی وباء سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح پر یکجہتی اور ہمدردی کا فروغ ، ایثار و فداکاری کا جذبہ، تہذیب نفس کیلئے وسیع پیمانے پر شرائط کی فراہمی جیسے عوامل کا دار و مدار معنویت کی تقویت پر موقوف نظر آتاہے جو ماہ مبارک رمضان میں نیازمندوں اور فقراء کی ضرورتوں کو لمس اور درک کرنے کے ساتھ انکی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے اقدام کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے اور رمضان المبارک کا یہ عظیم مہینہ اس عمل کیلئے بہتریں زمینہ ہموار کرتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ ماہ مبارک رمضان میں انجام پانے والے معنوی اعمال و عبادات اور لوگوں کی معیارِ زندگی کے درمیان آپس میں گہرا رابطہ پایا جاتا ہے جس میں لوگوں کی جسمانی سلامتی کے ساتھ معنویت کے اعتبار سے بھی انسان کی زندگی میں کافی تبدیلی رونما ہوتی ہے جو کرونا جیسے عالمی وباء سے جنم پانے والی بیماری COVID-19 کے خلاف جنگ میں جہاں ایک طرف امید کے چراغ کو انسان کے قلب و نظر میں روشن کرتے ہوئے اسے شکست دینے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے وہی دوسری طرف اسلامی احکام اور عقائد کے خلاف پائے جانے والے شکوک و شبہات کا سد باب کرتے ہوئے دین مبین اسلام کی حقانیت کو دنیا کے سامنے واضح کرنے میں بھی معاون ومددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں