لاوارث تحصیل پنڈدادنخان کے خالی دفاتر

Spread the love

پنڈدادنخان کھیوڑہ(راشدخان)

نامور وارثوں کے ہوتے ہوئے بھی تحصیل کی عوام بے وارثوں کی طرح دربدر دھکے کھانے پر مجبور

گزشتہ تین سال سے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے تمام انتظامی معاملات میں تحصیل پنڈدادنخان کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے

محروم تحصیل کے عوام کی بڑھتی ہوئی محرومیاں موجودہ حکومت سے بھی نالاں کر رہی ہیں

پنڈدادنخان ؛: تفصیلات کے مطابق تحصیل پنڈدادنخان کے اکثر دفاتر ضروری عملہ کی انتہائی کمی کا شکار ہیں پسماندگی اور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کے باعث یہاں آنے والے ملازمین کو سہولیات کا فقدان نظر آتا ہے جس کے باعث وہ اپنی تعیناتی کے بعد یہاں سے یا تو تبادلہ کرا لیتے ہیں یا چھٹی پر چلے جاتے ہیں عملہ نہ ہونے کی وجہ سے کام التوا کا شکار ھیں۔ مقام سیاسی قیادت کی تمام تر کوششوں کے باوجود باعث مزید پسماندہ ہوتی چلی جا رہی ہے
تحصیل ایڈمنسٹریشن آفس میں گزشتہ دو سال سے میونسپل پلاننگ آفیسر ؛میونسپل اسٹرکچر آفیسر ؛بلڈنگ آفیسر۔ سب انجینئر۔ میونسپل فنانس آفیسر میونسپل ریویکریشن آفیسر کی آسامیاں خالی ہیں آسامیاں خالی ہونے کے باعث عوام کے کام گزشتہ تین سال سے التواء کا شکار ھیں
پنڈدادنخان میں محکمہ تعمیرات کی بلڈنگ تو ہے جس میں بجلی بھی چل رہی ہے اور کلاس فور کے چھ سے سات ملازمین بھی ڈیوٹی ادا کر رہے ہیں لیکن اس دفتر میں کسی بھی قسم کا دفتری کام سر انجام نہیں دیا جاتا کیونکہ ان کے مرکزی سربراہ ڈبل ڈیوٹی کے طور پر دوسری تحصیل میں ڈیوٹی ادا کر رہے ہیں اسی قسم کے دفاتر 15 ؛ 15 کلو میٹر کے فرق سے دینہ سوھاوہ جہلم میں موجود ہیں اور وہاں پر عملہ بھی مکمل ہے
جبکہ اس کے برعکس تحصیل پنڈدادنخان جس کی لمبائی چوڑائی سو کلومیٹر سے زیادہ ہے آفیسر ہی میسر نہیں
اراضی سنٹر میں بھی عملے کی کمی یا ٹوکن سسٹم کی مس مینجمنٹ کی وجہ سے لوگ تین تین چار چار دن معمولی سے معمولی فرد کے لئے دھکےکھانے پر مجبور ہیں
تحصیل کی سب سے بڑی علاج گاہ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال میں گزشتہ دس سال سے آپریشن تھیٹر بند ہے سرجن اور ارتھو پیڈک ڈاکٹر انتھسیشزیا سمیت متعدد سپیشلسٹ کی سیٹیں خالی ہیں نادرا آفس میں کاؤنٹروں کی کمی کے اور چھوٹی بلڈنگ کی باعث شناختی کارڈ بنوانے والے خواتین و حضرات پورا پورا دن مین روڈ کی سڑک پر کھڑے رھتے ہیں

تحصیل کی عوام کا کہنا ہے کہ ہم سے سوتیلی ماں جیسا سلوک ختم کرتے ہوئے دفاتر میں نہ صرف عملے کو پورا کیا جائے بلکہ تمام ضلعی دفاتر کے سب کیمپس پندرہ روز بعد دو روز کے لیے پنڈدادنخان میں قائم کیے جائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں