بغیر کسی جرم کی گرفتاری، نازیبا الفاظ کی استعمال اور سیاسی ورکرز کے عزت مجروح کرنا کہا کا انصاف ہے

Spread the love

لنڈی کوتل.
بغیر کسی جرم کی گرفتاری، نازیبا الفاظ کی استعمال اور سیاسی ورکرز کے عزت مجروح کرنا کہا کا انصاف ہے. پولیس کا کام عوام کی تحفظ ہے نہ کہ پرامن شہریوں کی تذلیل کرنا. پولیس حکام نوٹس لے اور مجرمانہ غفلت پر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے. پاکستان تحریک انصاف تحصیل چیئرمین شپ کے سابق امیدوار محمد صديق افریدی.
لنڈی کوتل پریس کلب میں پی ٹی آئی تحصیل جمرود چئیرمین شپ کے سابق امیدوار صدیق آفریدی، جماعت اسلامی کے ابرار، عبدالعزيز، پی ٹی آئی کے اشفاق آفریدی ودیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چروازگئی کے مقام پر دفعہ 144 کو بنیاد بنا کر پولیس اہلکار کماندان آفریدی نے سخت لہجے میں بات کر تے ہوئے کہا کہ مجھے اختیار ہے کہ میں جو کچھ بھی کرو اور اس کے خلاف مجھے پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی چیئرمین اور مشران سمیت مجھے سخت برا بھلا اور نازیبا الفاظ استعمال کئے حالانکہ ہم نے ان کے خلاف نہ کوئی غیر قانونی بات یا غلط بات نہیں کی ہے انہوں نے کہا کہ لنڈی کوتل میں مختلف علاقوں سے ٹورسٹ اور کاروباری لوگ آتے ہیں اس طرح کی غیر ذمہ دار پولیس اہلکار رویہ قابل افسوس ہے اس کی ہم پرزور مزمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلاجواز مجھے پھر گرفتار کرکے غیر قانونی طریقے سے جیل بھیج کر کئی گھنٹے مجھے حراست میں رکھ کر میری بے عزتی کی انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او لنڈیکوتل اور مذکورہ پولیس اہلکار کے خلاف چروازگئی کے مقام پر احتجاج کرینگے اور ان کی معطلی تک دھرنا جاری رکھیں گے کیونکہ تمام زمہ داران سے بھر وقت ایکشن لینے کی اپیل کرتے ہیں کیونکہ میں ایک مہمان کی حیثیت سے آیا ہوں پوری قوم سے اس میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہیں تاکہ آئندہ کسی ماؤں اور بہنوں کے سامنے کسی کی بے عزتی نہ کریں یہ کے پی کے مثالی پولیس ہے جو صوبے کے چیف ایگزیکٹو اور وزیراعظم کو گالی دیتے ہیں متعلقہ حکام بھر وقت ایکشن لے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں