عالمی یوم مادری زبان کیوں منایا جاتاہے؟ جانیں تفصیلات

Spread the love

اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم کی جنرل کانفرنس نے نومبر 1999 میں مادری زبانوں کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا۔

نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈسک)اردو گلوبل میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم کی جنرل کانفرنس نے نومبر 1999 میں مادری زبانوں کا عالمی دن(International Mother Language Day 2022) منانے کا اعلان کیا۔ تاہم اسے 2002 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا کے لوگوں کے ذریعہ استعمال کی جانے والی تمام زبانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے اور اس کو فروغ دینا ہے۔گلوبلائزیشن اور ڈیجیٹلائزیشن کے دور میں کئی مقامی زبانیں معدومیت کے دہانے پر ہیں۔
اقوام متحدہ نے اس مسئلے کو تسلیم کیا اور اس دن کا آغاز کیا تاکہ لوگوں کو اپنی مادری زبان کا احترام اور اس کی اہمیت کو تسلیم کرنے کے ترغیب دی جا سکے۔ ہر زبان ایک میراث ہے جسے ثقافتی تنوع اور بین الثقافتی مکالمے کو یقینی بنانے کے لیے محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔بنگلہ دیش پہلا ملک تھا جس نے عالمی یوم مادری زبان منانے کے خیال کو نہ صرف پیش کیا، بلکہ اس نے اس دن کو پورے جوش و خروش سے منایا بھی۔عالمی یوم مادری زبان دو زبانوں کے کارکنوں رفیق الاسلام اور عبدالسلام کے دماغ کی اختراع ہے،جنہوں نے 1998 میں دنیا کی زبانوں کو معدوم ہونے سے بچانے کے لیے اس دن کو منانے کی سفارش کی تھی۔ مجوزہ دن کی ایک تاریخی اہمیت بھی ہے۔ یہ بنگلہ دیش (اس وقت مشرقی پاکستان) میں 1952 میں ہونے والی المناک ہلاکتوں کی یاد ہے، جب لسانی بنیادوں پر شہریوں کے ساتھ غیرمساویانہ سلوک روا رکھا گیا تھا۔نومبر 1999 میں یونیسکو (UNESCO) نے مادری زبانوں کے تحفظ اور اپنی مادری زبانوں کے لیے بنگلہ دیش میں اپنی جانیں قربان کرنے والے مہلوکین کی یاد میں 21 فروری کو پوری دنیا میں مادری زبانوں کا عالمی دن قرار دیا۔اس سال تھیم ’’کثیر لسانی سیکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال: چیلنجز اور مواقع‘‘ ہے، جو کثیر لسانی تعلیم کو آگے بڑھانے اور سب کے لیے معیاری تدریس اور سیکھنے کی ترقی میں معاونت کے لیے ٹیکنالوجی کے ممکنہ کردار پر مبنی ہے۔ٹیکنالوجی میں آج تعلیم کے سب سے بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے۔یہ سب کے لیے یکساں اور جامع مواقع فراہم کرتی ہے۔ٹیکنالوجی کے ذریعے زندگی بھر سیکھنے کے مواقع کو یقینی بنانے کی کوششوں کو تیز کیا جاسکتا ہے۔ اگر شمولیت اور مساوات کے بنیادی اصولوں کو اپنایا جائے تو مادری زبانوں میں بھی اعلی تعلیم کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ مادری زبان پر مبنی کثیر لسانی تعلیم، تعلیم میں شمولیت کا ایک اہم جز ہے۔عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کے دوران پوری دنیا میں نظام تعلیم کو سخت مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
دنیا کے بہت سے ممالک نے سیکھنے کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حل استعمال کیے ہیں۔ یونیسکو، یونی سیف ، ورلڈ بینک اور او ای سی ڈی کے ایک حالیہ سروے میں 143 ممالک میں اسکولوں پر بندش کی وجہ سے قومی تعلیمی ردعمل کا پتہ چلایا ہے۔مذکورہ سروے میں 96 فیصد اعلیٰ آمدنی والے ممالک نے صرف 58 کے مقابلے میں کم از کم ایک تعلیمی سطح کے لیے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ریموٹ لرننگ فراہم کی ہے۔ وہیں کم آمدنی والے ممالک کا فیصد بہت ہی کم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں