جنگ ستمبر (یوم دفاع) کے شہداء کی ارواح کے ایصالِ ثواب کے لیئے المرکزجہلم میں خصوصی تقریب

Spread the love

جہلم (اختر شاہ عارف)آج جنگ ستمبر (یومِ دفاع) کے شہداء کی ارواح کے ایصالِ ثواب کے لیئے کیمیونٹی ڈیویلپمنٹ کونسل رجسٹرڈ المرکزجہلم کے زیرِ اہتمام المرکزجہلم میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔جس میں چوہدری جاوید اقبال ،ڈاکٹر شاہد تنویر سابق ای ڈی او ہیلتھ،سیدہ شاہدہ شاہ،کرنل(ر)محمد عبید مرزا ،ڈاکٹر محمد اسد مرزا،ڈاکٹر مرزا سعد اللہ بیگ،میجر(ر)ذرغون گل خان،ارشد محمود مبارک،پروفیسر قدرت علی سیالوی،آفس سیکرٹری راجہ توقیر احمد اور سید اختر علی شاہ نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔تلاوت کلام پاک کے بعد ہدیہ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیش کیا گیا۔اس کے بعد تمام شرکاء نے مل کر قومی ترانہ پڑھا۔قومی ترانے کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔پروفیسر قدرت علی سیالوی نے جنگ ستمبر 1965ءکے شہداء اور 1947ءکی ہجرت سے لے کر اب تک ہونے والے تمام شہداء کے ساتھ ساتھ دیگر تمام مرحومین،بالخصوص سیلاب میں جانے کی بازی ہار جانے والوں کی ارواح کے ایصالِ ثواب کے لیئے فاتحہ خوانی اور ان کے درجات کی بلندی کے لیئے دعا کروائی۔میجر(ر) ذرغون گل خان نے جنگ ستمبر کے حوالے سے انتہائی سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ ستمبر 1965ء کی جنگ میں افواج پاکستان نے دشمن کی کثیر افواج اور جدید ہتھیاروں کے مقابلے میں باوجود کم تعداد اور نسبتاً کم جدید ہتھیاروں کے نہ صرف دشمن کا ہر محاذ پر ہر حملہ روک لیا۔بلکہ کئی محاذوں پر دشمن کو رگیدتے ہوئے اسے پسپا کر دیا۔اور اس کے کئی مربع میل علاقے پر قبضہ کر کے دشمن فوج کے جدید جنگی ہتھیاروں سمیت اس وقت کے جدید ترین ٹینک شرمن ٹینک اور سنچورین ٹینک بھی اپنے قبضے میں لے لیئے۔ اس کے علاوہ دشمن افواج کی بڑی تعداد کو جنگی قیدی بھی بنا لیا گیا۔1965ء کی جنگ کے حوالے سے کرنل(ر) محمد عبید مرزا،سیدہ شاہدہ شاہ،ڈاکٹر شاہد تنویر سابق ای ڈی او ہیلتھ،پروفیسر قدرت علی سیالوی،ارشد محمود مبارک اور سید اختر علی شاہ نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت نہ صرف افواج پاکستان کا مورال ہائی تھا۔ بلکہ پوری قوم کے حوصلے بھی بلند تھے۔اور پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی تھی ۔
تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء کو پرتکلف چائے پارٹی دی گئی جسکی میزبانی صدر تقریب چوہدری جاوید اقبال نےکی۔اس کے بعد یہ تقریب۔اختتام پزیر ہو گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں