کسے وکیل کریں ،کس سے منصفی چاہیں

Spread the love

جہلم (اختر شاہ عارف) پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ وطن عزیز پاکستان بہ یک وقت ہر قسم کے بحرانوں کا شکار ہو چکا ہے ۔بجلی کا بحران ،گیس کا بحران ،مہنگائی کے طوفان کا بحران ،پیٹرولیم کی مصنوعات کا بحران،گڈ گورنس کا فقدان ،آئے دن گیس،بجلی،پٹرولیم کی مصنوعات میں ہوشربا اضافہ،ڈالر کی اونچی اڑان،غرضیکہ زندگی کا کون سا شعبہ ایسا ہے، جہاں بحران پیدا نہیں ہوا ہے۔اور پاکستان کی تاریخ کی یہ سب سے ناکام ترین حکومت ہے۔جس کے نا اہل ترین حکمران ان بحرانوں سے نمٹنے کیلئے سنجیدگی سے کوئی لائحہ عمل یا حکمتِ عملی بنانے کی بجائے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اپنی تمام نا اہلیوں اور نا کامیوں کا ملبہ سابقہ حکومت پر ڈال کر خود ہر معاملے سے بری الزمہ ہو کر اپنی عیاشیوں میں گم ہیں۔نہ مہنگائی ان سے کنٹرول ہو رہی ہے۔نہ بجلی اور گیس کا غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا جن ان کے قابو میں آرہا ہے۔ نہ ڈالر کی اونچی ان سے پرواز روکی جا رہی ہے۔اور نہ دن دیہاڑے ڈاکہ ڈالنے والوں کو نکیل ڈالی جا رہی ہے۔دکھ اور تکلیف کی بات تو یہ ہے کہ صاحبان اقتدار و اختیار بحرانوں کے بھنور میں گھری ہوئی اس مظلوم و مجہور عوام کو کسی بھی حوالے سے کوئی بھی معمولی سا ریلیف دینے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔اور یہ حیران و پریشان عوام ہر طرف سے مایوس ہو کر بزبان خامشی بس ایک ہی سوال کر رہی ہے کہ وہ کسے وکیل کریں،کس سے منصفی چاہیں کہ یہ تو گونگے بہرے اور اندھے حکمرانوں کی حکمرانی ہے۔جو اس بے بس عوام کے مسائل سے چشم پوشی اختیار کیئے ہوئے بس اپنے مفادات کے لیئے اپنی من پسند کی قانون سازی کر رہی ہے۔”اقتدار اقتدار” کے اس کھیل سے عوام اس حد تک متنفر اور اکتا چکی ہے۔کہ اسے اس نام نہاد جمہوریت اور گندی سیاست سے رائی برابر بھی دلچسپی نہیں رہی۔ہر قسم کی بحرانوں سے ستائی ہوئی عوام تو بس یہ چاہتی ہے۔کہ انہیں ان کے بنیادی حقوق بلا تفریق ملنے کے ساتھ ساتھ انہیں باعزت طریقے سے جینے کا حق دیا جائے۔صاحبان اقتدار و اختیار اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے غربت و افلاس کی ستائی ہوئی عوام کو کم از کم اتنا ریلیف ضرور دیں۔کہ وہ عزت سے جی سکیں۔اگر ایسا نہ ہوا تو تاریخ ان نا اہل ترین صاحبان اقتدار و اختیار کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔ کبھی بھی نہیں۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں