ملکہ کے تابوت کو ونڈزر کاسل میں سینٹ جارج چیپل کے رائل والٹ میں اتار دیا گیا

Spread the love

لندن (عارف چودھری)
یہ ایک سرکاری تدفین تھی جو عام طور پر بادشاہوں اور ملکاؤں کے لیے مخصوص ہوتی ہے، اور اس میں فوجی جلوس اور آخری دیدار جیسی رسومات شامل تھیں ۔
یہ جذبات اور شاہی شان و شوکت سے بھرپور تقریب کا دن ہے جس کا آخری مظاہرہ 60 سال قبل برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے ریاستی جنازے میں ہوا تھا۔
ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات سرکاری طور پر ادا کی جا رہی تھی اور ان کا آغاز برطانوی وقت کے مطابق دن گیارہ بجے ویسٹ منسٹر ایبی میں دو ہزار افراد کے مجمعے کے سامنے دعائیہ تقریب سے ہوا جبکہ اس موقع پر لندن کے مرکزی علاقے میں ہزاروں شہری بھی موجود تھے۔
اس تقریب کے بعد ملکہ کا تابوت ویسٹ منسٹر ایبی سے لندن کے ہائیڈ پارک کارنر میں واقع ولنگٹن آرچ لے جایا گیا جہاں سے اسے ونڈزر کاسل منتقل کیا گیا اور وہاں کے گرجا گھر سینٹ جارج چیپل میں دعا کے بعد اسے رائل والٹ میں اتار دیا گیا۔
برطانیہ پر سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں آٹھ ستمبر کو بیلمورل میں وفات پا گئی تھیں۔ انھوں نے 70 سال تک برطانیہ پر حکمرانی کی۔

بدھ سے ملکہ الزبتھ کی میت کو ویسٹ منسٹر ہال میں رکھا گیا تھا اور پیر کی صبح تک لاکھوں افراد نے ملکہ کی میت کے سامنے حاضری دے کر انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
بکنگھم پیلس کے مطابق ملکہ الزبتھ دوم نے اپنے ریاستی جنازے کی منصوبہ بندی میں خود بھی حصہ لیا تھا اور چند تبدیلیاں کی تھیں۔
19 ستمبر کو ملکہ الزبتھ دوم کے آخری سفر کی تفصیلات ذیل میں برطانیہ کے مقامی وقت کے مطابق پیش کی جا رہی ہیں:
وسطی لندن میں واقع ویسٹ منسٹر ہال میں ملکہ کے آخری دیدار کا وقت ختم ہو جانے کے بعد کچھ ہی فاصلے پر ویسٹ منسٹر ایبی کے دروازے کھول دیے گئے تھے۔
ملکہ کی زندگی اور خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے برطانیہ پہنچنے والے دنیا بھر کے سربراہان مملکت اور اہم شخصیات کے علاوہ برطانیہ کے سینیئر سیاست دان اور سابق وزرائے اعظم بھی وہاں موجود ہوں گے۔
یورپ بھر سے شاہی خاندانوں کے اراکین، جن میں سے اکثر ملکہ کے رشتہ دار ہیں، کی آمد بھی متوقع ہے جن میں بیلجیئم کے بادشاہ فلپ اور ملکہ متھیلڈا، سپین کے بادشاہ فلیپی اور ملکہ لیٹزیا شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں