ہمارا مقصد زراعت و لائیو اسٹاک محکمے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہیں۔محب اللہ خان صوبائی وزیر زراعت و لائیو اسٹاک

Spread the love

لائیو اسٹاک کی بہتری صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔محمد عالمزیب خان مہمند ڈاریکٹر جنرل لائیو اسٹاک خیبر پختون خواہ

بہتر پیداوارکیلئے بہتر کھاد کا استعمال از حد ضروری ہے بہتر کھاد سے بہتر فصلیں پیدا ہوتی ہے۔محمد اسرار خان سیکرٹری زراعت خیبر پختون

مویشیوں پر ظلم کرنے سے گریز کرے مویشی بھی اللہ کی مخلوق ہے اسکی خوراک کا خاص خیال رکھیں۔محمد سیار علی خان ڈاریکٹر لائیو اسٹاک چارسدہ

/صوبائی وزیر زراعت و لائیو اسٹاک محب اللہ خان/

صوبائی وزیر زراعت و لائیو اسٹاک محب اللہ خان کا شمار خیبر پختون خواہ کے ان ایماندار اور فرض شناس صوبائی وزراء میں ہے جنہوں نے صوبے کے عوام اور خاص کر سوات عوام کیلئے جو کارنامے سر انجام دیے ہے وہ قابل تعریف ہیں اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے محکمہ زراعت و لائیو اسٹاک کی بہتری میں جو کردار ادا کیا ہے وہ کسی سے چھپا نہیں ہے محب اللہ خان کی وجہ سے آج محکمہ زراعت و لائیو اسٹاک ترقی کی راہ پر گامزن ہے جو صوبائی حکومت کیلئے فخر کی بات ہے صوبائی وزیر محب اللہ خان کا کہنا ہے کہ زراعت کے بغیر ملکی ترقی ناممکن ہے زراعت کی وجہ سے ملک و قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہے انکا کہنا تھاکہ کہ وزیر اعظم عمران خان کا مشن بھی ملک و قوم کو ترقی دینا ہے بحران کی وجہ سے ملک وقوم تباہی کی طرف جا سکتا ہے جو ملک کیلئے نقصان دہ ہے۔

/ڈاریکٹر جنرل لائیو اسٹاک
خیبر پختون خواہ ڈاکٹر عالمزیب خان مہمند/

ڈاکٹر عالمزیب نے ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ – ایکسٹینشن ، خیبر پختونخوا کا چارج سنبھال لیا….
ڈاکٹر عالمزیب نے ایل اینڈ ڈی ڈی (ایکسٹین) ٹیم کے ساتھ ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے پہلی سرکاری ملاقات میں اظہار خیال کیا ، “ہم مشترکہ طور پر لائیوسٹاک سیکٹر کی بہتری اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ملکی اور قومی سطح پر مشترکہ طور پر کوشش کریں گے محکمہ لائیو اسٹاک ڈاکٹر عالمزیب کی سربراہی میں آہستہ آہستہ کام جاری رھے گا ڈاکٹر عالمزیب خان مہمند وہ قابل قدر شخصیت ہے جنہوں نے بہت کم وقت میں صوبہ خیبر پختون خواہ میں اپنے اچھے اخلاق سے شہرت پائی ڈاکٹر عالمزیب خان مہمند کا تعلق قبائلی علاقہ مہمند ایجنسی سے ہے جنہوں نے محکمہ لائیو اسٹاک خیبر پختون خواہ کی بہتری کیلئے جو اقدامات کیے ہے قابل ستائش ہیں ڈاکٹر عالمزیب خان مہمند نے محکمہ لائیو اسٹاک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے جو صوبائی حکومت اور محکمہ لائیو اسٹاک کیلئے ایک مثال ہے ایسے افسران کی وجہ سے ادارے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتےہے لائیو اسٹاک محکمے میں 1 سال کے اندر جو تبدیلی آئی ہے کئی سالوں سے بہتر ہے محکموں کے بہتری کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ سب افسران کا بھی کردار ادا کرنا ضروری ہے تا کہ صوبے مئں جتنے ادارے ہے وہ ترقی کر سکے اور عوامی توقعات پر پورا اتر سکے۔

/محمد اسرار خان سیکرٹری زراعت خیبر پختون خواہ/

محمد اسرار خان محکمہ زراعت خیبر پختون خواہ میں بحیثیت سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہیں اور اپنے فرائض کو اچھے طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کی ترقی کیلئے صوبائی حکومت کی اہم اقدامات قابل تعریف ہیں محکمہ زراعت ملک کی ترقی کا سب سے اہم ڈیپارٹمنٹ ہے جس کے ذریعے خیبر پختون خواہ صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے خیبر پختون خواہ حکومت کسانوں کی مسائل و مشکلات کی حل کیلئے سرگرم ہے کسانوں کو چاہئے کہ زرعی پیداوار کی بہتری کیلئے بہتر کھاد استعمال کریں تا کہ زرعی پیداوار میں بہتری آسکے انہوں نے کہا کہ افسران بالا کو چاہئے کہ ملک کی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کرنا چاہیے تا کہ ملک و قوم ترقی کر سکے اعلی افسران کی اہم اور بہتر کارکردگی سے صوبے کے تمام ادارے ترقی کر سکتی ہے جو حکومت وقت کیلئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔

/ڈائریکٹر لائیو اسٹاک چارسدہ ڈاکٹر سیار علی خان/

ڈاریکٹر محکمہ لائیو اسٹاک چارسدہ ڈاکٹر سیار علی خان نے اپنے ایمانداری اور دیانتداری کی وجہ سے محکمہ لائیو اسٹاک میں نام کمایا ہے جو محکمے لائیو اسٹاک کے اعلی افسران کیلئے ایک زندہ مثال ہے 16 مارچ 2020 میں ڈاکٹر سیار علی خان نے ڈائریکٹر لائیو اسٹاک چارسدہ کا چارج سمبھال لیا اور لائیو اسٹاک محکمہ کی بہتری کیلئے انہوں نے جدوجہد اور اہم اقدامات شروع کیا تا کہ ضلع چارسدہ میں محکمہ لائیو اسٹاک بہتر ہو جائے ڈائریکٹر لائیو اسٹاک چارسدہ ڈاکٹر سیار علی خان کا مشن و مقصد محکمہ لائیو اسٹاک میں اہم کردار ادا کرنا ہے اسکا کہنا ہے کہ جانور بھی اللہ کی مخلوق ہے اللہ کی مخلوق کا خیال رکھنا ایمان کا ایک حصہ ہے عوام کو بھی چاہیے کہ جانوروں پر ظلم کرنے سے گریز کرے…..

/تحریر سینئر صحافی اکرام الدین چیف بین الاقوامی گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ/

لائیوسٹاک پاکستان زراعت کا ایک ذیلی حصہ ہے جو زراعت میں قدر میں اضافے کا تقریبا 56 56٪ اور مجموعی گھریلو مصنوعات(جی ڈی پی)میں تقریبا 11 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے۔مویشیوں کی پیداوار زراعت کی مالیت سے متعلق خدمات میں ایک اہم حصہ ہے۔مویشیوں کی پیداوار اور مویشیوں اور پولٹری کی مصنوعات کی اصل کارکردگی کو اجاگر کرنے کے لئے،اس تحقیق میں زرعی جی ڈی پی اور مویشیوں کی مصنوعات کی پیداوار کے مابین تعلقات کی کھوج کی گئی،جس میں دودھ، گائے کا گوشت ، مٹن ،مرغی کا گوشت،انڈے ، اون، بال ،کھالیں ،کھالیں اور ہڈیوں شامل ہیں۔،1980 میں 2015 سے 35 سال کے عرصے میں پاکستان میں۔ٹائم سیریز کے اعداد و شمار نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ ،اکنامک سروے آف پاکستان اور پاکستان بیورو آف شماریات(مختلف اشاعتوں)سے جمع کیے گئے تھے۔ لائیوسٹاک کے اعداد و شمار کو عام طور پر کم سے کم اسکوائر (او ایل ایس) کے طریقہ کار اور اګمنٹڈ ڈکی فلر (اے ڈی ایف) ٹیسٹ کا استعمال کرتے ہوئے تجزیہ کیا گیا ،اور نتائج کی ترجمانی جوہانسین کوہ انضمام ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی۔ہماری تحقیق میں پتا چلا ہے کہ دودھ ،چربی ،انڈوں ،ہڈیوں اور مٹن کی پیداوار کا پاکستان کے زرعی جی ڈی پی کے ساتھ مثبت ،اہم رشتہ ہے جبکہ گائے کا گوشت ،پولٹری کے گوشت ، اون ،بالوں ،کھالوں اور چھپانے کی پیداوار میں منفی ،اہمیت نہیں ہے پاکستان کے زرعی جی ڈی پی سے تعلقات۔لہذا، اس مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت پاکستان لائیو اسٹاک سیکٹر کی ترقی کے لئے نئی فنڈنگ ​​اسکیمیں شروع کرتی ہے حالیہ دہائیوں میں،آب و ہوا کی تبدیلی نے پرجیویوں اور میزبان جانوروں کی ذاتوں کے مابین تعلقات کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔مویشیوں میں طفیلی امتیاز خاص طور پر ٹک اور ٹک سے پیدا ہونے والی بیماریوں (ٹی ٹی بی ڈی) کے معاملے میں بڑھ گیا ہے۔ایکٹوپراسائٹ اور ان سے وابستہ بیماریاں پاکستان جیسی ڈیری پر مبنی معیشتوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ پیش کرتی ہیں جہاں کاشتکاروں کی معاش معاش دودھ اور دودھ سے متعلق مصنوعات کی مارکیٹنگ سے گہری وابستہ ہے۔اس کام کے تحت پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا (کے پی کے) کے مختلف علاقوں سے گھریلو بڑے شیر خوار (گائے اور بھینسیں) کو گھونپنے والی گدوں کی تقسیم کی تحقیقات کے لئے تیار کردہ ایک متنازعہ مطالعہ کی وضاحت کی گئی ہے۔فروری سے مئی 2018 تک کے پی کے کے ماحولیاتی لحاظ سے الگ الگ پانچ اضلاع کا انتخاب کیا گیا اور گائوں (این = 156) اور بھینسوں (این = 121) سے مجموعی طور پر 649 ٹک ٹک جمع کی گئیں۔جمع کردہ ٹک کو معیاری چابیاں کا استعمال کرتے ہوئے شکل میں شناخت کیا گیا سائٹوکوم سی آکسیڈیز (COX1) جین کو نشانہ بنانے والی سالماتی تصدیق۔خطرہ ماڈل اور پیئرسن چی مربع ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ وضاحتی تجزیہ بھی خطرے کے عنصر کے تجزیہ اور ٹکٹس کے پھیلاؤ کے لئے کیا گیا تھا۔کے پی کے میں لائیو اسٹاک سے حاصل کی جانے والی ٹکٹس کے COX1 جین سلسلوں سے ایک فائیلو جنیٹک درخت بنایا گیا تھا۔ہم نے مشاہدہ کیا کہ کے پی کے میں رھیفیسافلس (97.22٪) سب سے زیادہ روایتی ٹک جنریگا کا شکار جانور ہے جس کے بعد ہائیلوما (2.77٪) ہے۔اس مطالعے میں صوبے میں ٹک پرجاتیوں کی سب سے زیادہ نشاندہی کی گئی ہے،جو پر جاتیوں کی تقسیم کے اعداد و شمار پر مبنی ٹک کنٹرول کے لئے کس حکمت عملی پر عمل پیرا ہوسکتی ہے اس میں شراکت کرے گی پچھلی حکومتوں نے محکمہ زراعت اور محکمہ لائیو اسٹاک کے ترقی کیلئے کچھ بھی نہیں کیا پاکستان تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ملکی ترقی کیلئے جو اہم اقدامات شروع کیے ہے قابل تعریف اور قابل ستائش ہیں صوبائی حکومت نے خیبر پختون خواہ کے تمام اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ محکمہ لائیو اسٹاک اور محکمہ زراعت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا زراعت ملکی پیداور کا اہم حصہ ہے کسانوں کی محنت اور لگن سے ملکی عوام کو بہتر پیداوار مل سکتی ہے لیکن کسانوں کی بہتری کیلئے حکومت وقت کی لیے اہم اقدامات از حد ضروری ہے حکومت کو بھی چاہیے کہ کسانوں کو بہتر کھاد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں کسانوں کو بہتر کھاد ملنے سے عوام کو بہتر پیداور مل سکتی ہے جس کی وجہ ملک کی معیشت بہتر ہو سکتی ہے کسانوں کو بھی چاہیے کہ گندم، اور دیگر فصلوں کیلئے اچھے کھاد کا استعمال کرے تا کہ اچھی فصلوں کے پیداوار میں اضافہ ہو سکے زمیداروں کو چاہئے کہ مویشیوں کو بہتر خوراک مہیا کریں مویشیوں سے صاف ستھرا دودھ اور دہی مل سکتا ہے جو انسانی زندگی کیلئے بہت مفید ہے اور بیماریوں کا اہم علاج ہے صوبائی حکومت زراعت، اور مویشیوں کی بہتری کیلئے بھرپور اہم اقدامات کرے۔

Please follow and like us:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں