وہ سترہ دن

Spread the love

تحریر چوہدری زاہد حیات
کرونا وائرس کے مہلک وار سے بچنے والے مریض کی حقیقی داستان
میں سترہ دن کرونا آی سی یو میں گزارے جہاں سنا ہے ڈاکٹر ٹیکے لگا کر موت بانٹتے ھیں۔
تین جون رات بہت مشکل تھی سانس لینا ایک مشکل مرحلہ تھا باوجود اس کے کہ آکسیجن سلنڈر کی معاونت حاصل تھی۔
چار جون صبح تیز بخار اور پھولی سانس یہ بتا رھی تھی کہ کرونا کا وارشدید ہے۔ بڑے بھائ میرے سامنے نہیں آرہے تھے وہ ٹیلیفون پر مجھ سے رابطے پر تھے اور ان کی آواز کے زیروبم کے نیچے کہیں دور مشکل سے رکا ھوا رونا مجھے سنائ دے رھا تھا۔ میرے بچے میری بیوی “حوصلہ حوصلہ” کھیل رھے تھے۔ رات ہی ایک پوسٹ پڑھی تھی جناح ھسپتال نہ جانا وھاں سے کوئ واپس نہیں آیا۔ بچوں کو سختی سے منع کردیا کہ اسپتال نہیں جانا۔ آکسیجن سیچوریشن نیچے جارھی تھی۔ کہ اچانک سینے میں درد شروع ھوگیا۔ بیٹے نے کہا ابا اسپتال جانا پڑے گا صرف چیک اپ کے لئے شام کو واپس آجائیں گے۔ کھلی آنکھوں سے دھوکا کھایا ایمبولینس آگئ ۔میں نے اپنے قدموں کا سہارا لیتے ھوئے گھر سے باھر قدم نکالا میری کوشش تھی کہ اس گھر کی جزیات کو اس کے مکینوں کو دیکھ سکوں شائید آخری بار ۔میں نے ادھر ادھ دیکھا لیکن میں اپنی بلی” مسٹی “کو نہ دیکھ پایا۔ اور پھر میں پوری سانس پوری طاقت جمع کرکے اوپری منزل کی طرف دیکھا میں ایک نظر اپنی بہو کو دیکھنا چاہتا تھا۔ابھی کل ھی تو رخصت ھو کر آئ تھی۔ بہرحال اسے میرے جانے کا بتایا ھی نہیں گیا تھا۔ چھت پر لگا علم کا پھریرا پوری آب تاب سے لہرا رھا تھا اور میں اس کے سایہ کے نیچے کھڑا تھا
ایمبولینس آگئ یہ زندوں کے لئے بہرحال نہیں تھی اکسیجن تک نہیں تھی اپنا آکسیجن سلینڈر رکھا اور تپتے ہوے سٹریچر پر لیٹ گیا۔ کیفیت کیا تھی شائید جان کنی کی۔ تینوں بچے اور اشعر میرے ساتھ تھے۔ خدا خدا کر کے آئسی یو میں بیڈ الاٹ ھوا ۔جانتے ھیں کونسا نمبر پانچ۔تو اب بیڈ نمبر پانچ کے مریض نے بیٹے سے پوچھا رات واپسی ھے ۔ نہیں ابا جواب آیا۔ تو مجھے دھوکھے سے لا ئے ھو بیٹےکے چہرے پر ایک تکلیف دہ مسکراہٹ آی اور وہ آنکھوں کے پانی کو سمیٹتا ھوا باھر چل دیا۔
چار جون سے اکیس جون کے دن رات برابر ھوگئے۔میں اکیسجن کے فل لیول پر بمشکل سانس لے پا رھا تھا۔ میرے ساتھ کے بیڈز سے مریض بدلتے چلے گئے گھر جانے کے لئے یا آخری منزل کے لئے ۔ایک بات یہ کہ میں نے ڈاکٹرز کو مریضوں پر سایہ کئے دیکھا۔ بہت سے مریض جن کے اٹینڈینٹ کرونا کے خوف سے ان کے قریب بھی نہیں آتے وہاں ڈاکٹرز ان کے بیڈز پر جھکے ھوے ان کی سانسوں کی بحالی میں لگے دیکھا۔ سخت گرمی اور بند کٹ کے ساتھ کام کرنا آسان نہیں۔ وینٹی لیٹر اور مختلف مانیٹرز کی آوازیں میرے لئے تو دہشت پیدا کررہی تھیں لیکن ڈاکٹرز پرسکون رہ کر کام کررہے تھے اس وقت بھی جب کسی مریض کی سانس ڈور ٹوٹنے لگتی تھی وہ اپنی پیشہ وارانہ
تربیت کو بروےکار لاتے سانس بحال کرنے کے لئے انجیکشن دیتے آخری کوشش کے طور پر اور۔۔۔۔۔۔۔کسی کے لئے یہی آخری انجیکشن موت کا انجیکشن ثابت ہوتا مانیٹر اتار دیا جاتا اور مجھے لگتاجیسے ڈاکٹر کا کوئ اپنا مر گیا ھو۔ یقین کیجئے ڈاکٹر اس مشکل ترین دور میں بھی زندگی بانٹ رہے ھیں مسیحا کا موت سے کیاکام۔
افواہیں اپنا کام کرتی ہیں آئ سی یو میں اگر کسی کو بچانا ہے تو انجیکشن ضرور لگیں گے اور آپ گھر سے یہ رائے بنائے بیٹھے ھیں کہ وہاں سے واپسی ممکن نہیں سوشل میڈیا کا یہ ایک منفی اثر ھے۔ مجھے بھی تو فیس بک پر ایک پروفیسر صاحب نے کہا تھا نہ کہ جناح گئے تو واپس نہیں آو گے مجھ پر بھی اس کا اثر ھوا تھا۔ایک رات میرے لئے مشکل ترین رات تھی اس رات آئ سی یو میں زیادہ کام نہیں تھا ایک میں تھا یعنی بیڈ نمبر پانچ دوایک وینٹی لیٹر پر سیرئیس مریض اور میرے آس پاس کے بیڈز پر دولاشیں ۔مشکل کام پتہ ھے کیا تھا ان ہمسائیوں کی موجودگی میں رات کا کھانا جو میں نے کھایا کیسے کھایا میں ھی جانتا ھوں۔
دن کچھ بہتر گزرتا بیٹا کٹ پہنے ماسک لگائے میرا سایہ بنا رھا۔ چھوٹا بیٹا شدید گرمی میں اسپتال کے کاریڈور میں بیٹھا رھا کہ ٹیسٹ اور دوائیاں فوری طور پر لاسکے۔ سترہ دن رات اس مشکل ترین ماحول میں رہنا یہ انہیں کا حصہ ہے ۔ میرے بھائ میرے بھتیجے بھتیجیاں اپنی محبت کا احساس دلاتے رہے ۔ صہیب حیدر امریکہ سے میری صحت کا جائزہ لیتا رھا۔ وہ جو کہتا اسی طرح کیا جاتا۔
مسلسل اعلاج اور ایکٹمرا انجیکشن سے کہ جس کا حصول بھی معنی رکھتا ھے میں بہتر ھوتا چلا گیا انہیں ڈاکٹروں کی محنت سے جو سوشل میڈیا کے مطابق موت کے انجیکشن لگا رہے تھے۔اب میں کم اکسیجن پر بھی سانس لینے لگا تھا۔
اٹھارہ جون کی رات مجھے آئ سی یو سے آسولیشن کیبن میں شفٹ کردیا گیا ۔ اب کے ریکوری میری منتظر تھی تکلیف دہ مناظر میری نگاھوں سے ھٹ چکے تھے مشینوں کی کربناک آوازوں کی بجائے میں اپنی پرسکون سرگوشیاں بھی سن سکتا تھا ۔ یقین کیجئے ڈاکٹر یہاں بھی مجھے نہیں بھولے ان کے راونڈ جاری رھے اور ان کا یہ کہنا کہ اب آپ گھر جارہے ھیں مجھ پر کیا اثر کرتا بیان سے باھر ہے۔
اکیس جون شام کو ڈاکٹر صاحب راونڈ پر آئے آکسیجن لیول کو دیکھا مجھے دیکھا اور کہا ھم آپ کو ڈسچارج کررھے باقی کام پاک پروردگار کے حکم سے گھر پر ھوگا ۔ریکوری آہستہ ھوگی لیکن گھبرائیے گا نہیں ھماری محنت رنگ لائ ھے۔
میں گھر واپس آگیا دوبارہ اسی طرح گھر کو دیکھا اتنے دن بعد گھر دیکھنا عجیب سا لگا ۔ اوپری منزل کی طرف نظر دوڑائ کوئ نظر نہ آیا کیوں کہ بہو میکے تھی ۔ میری مسٹی بھی کہیں چھپی ھوئ تھی لیکن اب احساس یہ تھا کہ آج نہیں تو کل یہ میرے ساتھ ہی ہونگے۔ شام ھورھی تھی مغرب کی آذان بلند ھورہی تھی اور میرا گھر کا علم ھر حال میں مجھ پر سایہ کئیے ھوئے تھا۔
میرے مسیحا کون ھیں سچ پوچھیے تو میں کسی کو ان کے چہرے سے نہیں جانتا چہرے پر ماسک سجائے کٹ پہنے وہ سب ایک جیسے ھی لگے لیکن سب میں ایک ھی جزبہ تھا دوسروں کو بچانے کا ۔جس مٹی سے مریض بنے ھیں اس مٹی سے یہ ڈاکٹر صاحبان بھی تو بنے ھیں ۔ میں نے ان دنوں میں کئ دفعہ لوگوں کا خون سفید ھوتے دیکھا کہ جب کوئ مر گیا تو اس کے ساتھ آنے والا غائب ھوگیا اور لاش لاوارث پڑی رھی البتہ ھاں اس کی موت تک ڈاکٹر لڑتے رھے۔خود یہ بھی کورونا سے متاثر ھوتے رھے اور متعدد شہید ھوچکے ھیں سوال یہ پیدا ھوتا ھے انہیں موت کا ٹیکہ آخر کس نے لگایا۔
میں میں شکریہ ادا کرتا ھوں
ڈاکٹر اشرف ضیاء ۔۔ڈاکٹر لیاقت علی ڈاکٹر وقار عظیم ڈاکٹر آصف ہاشمی اور ڈاکٹر بلال کا ان کی کاوشوں نے مجھے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کردیا۔
آخری بات اگر کرونا ھے تو جناح اسپتال ضرور جائیں لیکن وقت رھتے ورنہ وہی زندگی دینے والا ٹیکہ موت کا ٹیکہ بن سکتا ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں