دن بہ دن گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ بندش بھی اپنے عروج پر۔

Spread the love

جہلم (اختر شاہ عارف)ملک بھر کی طرح جہلم میں بالخصوص ڈھوک جمعہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بجلی کی بندش اپنے پورے عروج پر ہے۔ کرہ ارض پر جغرافیائی تبدیلیوں کے باعث جہاں بہت سی تبدیلیاں آ رہی ہیں وہاں گرمی کی شدت میں بھی دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ گرمی کی شدت کے اس اضافے میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ بندش عذاب جاں بنی ہوئی ہے۔بہت سی سماجی تنظیموں کے علاوہ چیدہ چیدہ حضرات اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کر کے ان کی توجہ اس سنگین مسلئے کی طرف دلا چکے ہیں مگر وہ انتہائی اطمینان سے لا یعنی جوابات دینے کے ساتھ ساتھ اس تمام تر بحران کا ذمہ دار گزشتہ حکومتوں کو ٹھہرا کر گویا بری الزمہ ہو جاتے ہیں۔ بجلی کے اس بحران کی وجہ کچھ بھی ہو صاحبان اقتدار اپنے ٹھنڈے ٹھار محلات اور ایوان اقتدار سے باہر نکل کر گرمی سے بلبلاتی ہوئی اپنی اس فاقہ کش رعایا کی بھی خبر لے لیں جو خالی پیٹ “فلاں زندہ باد،فلاں ذندہ باد”کے نعرے لگاتے ہوئے آپ کو ووٹ دے کر ایوان اقتدار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور آپ اقتدار کے ٹھنڈے ٹھار اور پر تعیش شبستانوں میں پہنچتے ہی انہیں بھول بھال کر اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل بنانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔آپ کو اتنا بھی احساس نہیں ہے کہ چولستان کے صحرا میں لوگ بھوک پیاس سے مر رہے ہیں پورے پاکستان میں لوگ مہنگائی کے ہاتھوں خود کشیاں کر رہے ہیں۔ بجلی کی غیر ضروری بندش سے گھبرا کر لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر صاحبان اقتدار کو بد دعائیں دے رہے ہیں۔
بجلی کی پیداوار میں کمی کو جواز بنا کر اپنی نالائقیوں،نا اہلیوں اور کوتاہیوں کو چھپایا جا رہا
ہے۔صاحبان اقتدار کے حاشیہ بردار اور کاسہ لیس اپنے “مالکوں”کا نمک حلال کرنے میں لاکھ بے معنی تاویلیں پیش کرتے ہوئے اگلے الیکشن تک اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرتے رہیں۔مگر بجلی کی بندش کے وہی جوابدارہیں۔۔اب تو یہ بھی شنیدن ہے کہ خدانخواستہ ذر مبادلہ کے محفوظ ذرائع بھی ختم ہونے کے قریب ہیں۔جسکے بعد خاکم بدہن ملک دیوالیہ ہو سکتا ہے۔۔
اس لیئے میری تمام اہلِ اقتدار سے انتہائی درد مندی سے اپیل ہے کہ خدا را”اقتدار،اقتدار”کا کھیل بند کریں اور مل جل کر پاکستان کو تما بحرانوں سے نکالنے کے لیئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں