سنیما خصوصی طور پر نوجوانوں کی تفریح کا سب سے بڑا میڈیم ہے۔عادل سعید

Spread the love

آزدای سے لے کر اب تک ہندوستانی فلموں کے موضوع اور تکنیک میں بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے۔معروف ہدایت کار و فلم ساز

یورپ(چیف اکرام الدین)سنیما خصوصی طور پر نوجوانوں کی تفریح کا سب سے بڑا میڈیم ہے ،سماجی وتاریخی شعور سے آراستہ وپیراستہ سنیما اور سماج لازم و ملزوم ہیں ،یہ بات نوجوان ہدایت کار،ایڈیٹر ،فلم ساز عادل سعید نے کہی،متعدد ٹی وی سیریل اور فلموں میں ہدایت کاری اور ایڈیٹر کی خدمات انجام دینے والے عادل سعید کوان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے سر فراز کیا جاچکا ہے۔جسمیں لندن ایشیا ایوارڈ، پاکستان انٹر نیشنل فلم فئیر ایوارڈ،لیکس ایوارڈ، پی ائی ایف ایف ایوارڈ قابل زکر ہیں،اعظم گڑھ کے مردم خیز علاقہ میں واقع طوی سے تعلق رکھنے والے عادل سعید نے کہا آزادی سے لے کر اب تک ہندوستانی فلموں کے موضوع اور تکنیک میں بہت زيادہ تبدیلی آئی ہے آج ہماری فلمیں تکنیکی لحاظ سے مغربی ممالک میں بننے والی فلموں کی مدمقابل ہيں انہوں نے کہا
اس وقت ہندوستانی سنیما کا کاروبار سالانہ پانچ ہزار کروڑ روپے سے زائد کا ہے اور اس میں پندرہ سے بیس فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔عادل سعید نے کہا فلمیں سماج کے بدلتے مزاج ،پسند نا پسند کو سامنے رکھکر بنائی جاتی ہیں،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا آج ہندوستان کی نصف آبادی نوجوان ہے آئندہ پندرہ، بیس سالوں تک یہی حالات رہیں گے اس لیے ہندوستان میں سنیما کی ترقی کے امکانات روشن ہیں معروف ہدایت کار و فلم ساز عادل سعید نے بین الاقوامی گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے ساتھ ایک اخباری بیان میں کہا کہ سنیما میں بھی وقت کے ساتھ تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں مثلا آزادی کے وقت ایک نئے قسم کا جوش اور اصول پسندی تھی۔ لوگ مستقبل کے ہندوستان کا خواب دیکھا کرتے تھے۔ہماری فلموں کے موضوعات اور کردار بھی اسی طرح کےہوتے تھے۔بسا اوقات فلموں میں معاشرے کو بدلنے کی مہم دکھائي دیتی تھی۔مثلا راج کپور نے اپنی فلموں میں ہندوستان کے عام آدمی کو دکھانے کی کوشش کی ’آوارہ‘ اور ’شری 420‘جیسی فلموں نے یہ بتانےکی ہر ممکن کوشش کی کہ آدمی دنیا میں ہونے والی تبدیلی کو کیسے دیکھ رہا ہے۔ راج کپور اداکار سے زيادہ بڑے فلم ہدایت کار تھے۔راج کپور نے طبقاتی وصنفی تضادات ،حویلی کلچر کے پیچھے چھپی خباثت ،حسن کے خارجی معیار اور عشق کے اسرارو رموز کو اپنا موضوع بنایا۔انہوں نے بھاری بھرکم ہیرو تراشنے کے بجائے عام فٹ پاتھیے کو اپنا مرکزی کردار بنایا۔اسی طرح
’مدر انڈیا‘ ایک شاہ کار فلم تھی جو ’آسکر‘ کے لیے نامزد کی گئی تھی یہ فلم ہندوستان اور اس کی تمناؤں اور آرزؤں کی نمائندگی کرتی ہے۔ہندوستان کےعام عوام کا جب ’آئیڈلزم‘ ٹوٹنے لگا تو ’اینگری ینگ مین‘ کے طور پر امیتابھ بچن پردہ سیمیں پر آئے۔ وہ فلموں میں ظلم کے خلاف نوجوانوں کی آواز بن کر ابھرے۔
امیتابھ بچن کا ’اینگری ینگ مین‘ کا دور تقریباً بیس سال تک چلا۔اس سے پہلے دلیپ کمار کی روایت میں راجیش کھنہ ایک رومانی ہیرو کے طور پر منظر عام پر آچکے تھے۔انیس سو نوے کے عشرے میں ہندوستان میں اصلاح پسندی اور گلوبلائزیشن کی وجہ سے ہندوستانی سنیما میں زبردست تبدیلی آئی۔اس دور کو اپنا ہیرو چاہیے تھا جس کے اندر جوانی کا جوش ہو، جو پرامید اور مثبت فکر کا حامل ہو ۔سلمان خان، شاہ رخ خان، عامر خان اسی دور میں سامنے آئے اور تینوں خانوں کا یہ دور ابھی جاری ہے۔امیتابھ بچن کا ’اینگری ینگ مین‘کا دور تقریباً بیس سال تک چلا جہاں انیس سو پچاس اور ساٹھ کے عشرے کی ’مدر انڈیا‘ اور ’شری 420‘جیسی فلموں میں معاشرتی ضرورتوں کو دکھانے کی کوشش کی جاتی تھی وہیں اصلاح پسندی کے بعد سنیما میں آئي تبدیلی کے سبب ان موضوعات پر فلمیں بننا کم ہوئي ہیں فلمیں اپنے وقت کا آئینہ ہوتی ہيں جب لوگوں کے خيالات بدلتے ہيں تو فلمیں بھی بدلنے لگتی ہيں ایک دور تھا جب ’متوازی سنمیا‘ کے ذریعہ عام آدمی اور متوسط طبقہ کی ضرورتوں اور ان کے سوالوں کو سنمیا میں ترجیح دی گئی۔لیکن وقت کے ساتھ متوسط طبقہ اور سنیما کی ضرورتیں بدل گئیں اور اس طرح کی فلمیں بننا کم ہوگئیں۔ASBA پرڈکشن ہاوس کے فائنڈر عادل سعید نے کہا کہ جہاں تک سنیما کے ذریعہ معاشرتی ضرروتوں کو پردے پر لانے کی بات ہے تو میں کہنا چاہوں گا کہ فلمیں بنانے والے کوئی سماجی مصلح نہیں ہوتے اور انہيں سماجی مصلح بنانے کی ضرورت بھی نہيں ہے فلمیں اپنے وقت کا آئینہ ہوتی ہيں فلمیں بنانے والوں کا اصل کام تفریح کرانا ہوتا ہے اگر چاہیں تو وہ ایسی فلمیں بھی بنا سکتے ہيں جو معاشرتی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہو سکتی ہیں ہدایت کار عموما وقت کی نبض پسند نا پسند، کو سامنے رکھ کر ہی کام کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں