جہلم تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ کا نفاذ کر کے حکومت پنجاب نے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے

Spread the love

جہلم(چوہدری عابد محمود +مرزاکفیل بیگ کیفی)جہلم تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ کا نفاذ کر کے حکومت پنجاب نے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے، تحفظ بنیاد اسلام بل منظور ہونے پر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار، سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی،اور دیگر ارکان اسمبلی کو مبارک باد پیش کرتے ہیں یہ بل پاس ہونا نظریہ اسلام کی جیت او ر نظریہ پاکستان کو زندہ کرنا ہے۔ تحفظ اسلام ایکٹ فرقہ وارانہ تشدد روکنے کا ذریعہ ہے، علماء و دیگر قائدین کی پریس کانفرنس، تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ منظور ہونے پر وزیراعلیٰ پنجاب اور اسپیکر پنجاب اسمبلی سمیت ہم تمام ممبران اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور متفقہ طور پر اعلان کرتے ہیں کہ تحفظ اسلام ایکٹ بنیادی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے، اور فرقہ وارانہ تشدد اور باہمی منافرت کو روکنے کا ذریعہ بنے گا، ان خیالات کا اظہار جامعہ علوم اثریہ میں رئیس الجامعہ حافظ عبدالحمید عامر کی میزبانی میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس کے موقع پر مذہبی،سماجی، کارروباری، شہری، فلاحی تنظیموں کے عمائدین جن میں قاری محمد ابو بکر صدیق مہتمم جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام، مولانا صوفی محمد اسلم نقشبندی سرپرست سنی علماء کونسل، حافظ اظہر اقبال مہتمم جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات، قاری محمد ظفر نقشبندی خطیب جامع رحمانیہ پیراغیب، حافظ نذیر حسین نقشبندی، خطیب جامع مسجد حافظ نور محمد، حافظ احمد حقیق مدیر جامعہ اثریہ للبنات، سیاسی قائدین جن میں سابق ممبر پنجاب اسمبلی چوہدری لال حسین،عامر سلیم میر، تاجر رہنماؤں میں صدر مرکزی انجمن تاجران ملک محمد اقبال، جنرل سیکرٹری عبدالرشید بٹ، چیئرمین میجر چوہدری محمد آصف، سرپرست شیخ محمد جاوید، سٹی صدر شیخ ندیم اصغر، جہلم بار ایسوسی ایشن کے صدر رانا اورنگزیب، ڈاکٹر شاہد تنویر جنجوعہ، سماجی شخصیات میں میاں نعیم بشیر، حاجی محمد اسلام قریشی و دیگر شامل تھے، قاری محمد ابوبکر صدیق، دیگر رہنماوں اور قائدین نے کہا کہ ایک عرصہ سے ملک میں مقدس ہستیوں کی توہین کا سلسلہ جاری تھا، اورآج کل سوشل میڈیا اس غلاظت کی آماجگاہ بن چکا ہے جس کے باعث مختلف طبقات میں نفرت کی چنگاریاں بھڑک رہی ہیں، کسی شخصیت یا نظریے سے اختلاف اپنی جگہ، لیکن گالیاں اور توہین فساد کو جنم دیتی ہیں، وطن عزیز کے معروضی حالات ایسی کسی بھی شر انگیزی کے متحمل نہیں ہیں، قرآنی تعلیمات میں تو کافروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی گالی دینے سے منع کیا گیا، چہ جائیکہ مقدس ہستیوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے، جبکہ بعض عناصر کی طرف سے بل کی مخالفت افسوس ناک ہے اور ان کے لب و لہجے سے کسی طور پر بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات سے روشناس ہیں، ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ معاشرے میں فتنہ و فساد کا سبب بننے والی اس سرگرمیوں کو سختی سے روکا جائے اور ملک میں امن و امان کا قیام یقینی بنایا جائے اور اس مقصد کے لئے علمائے کرام نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا اور آئندہ بھی انشاء اللہ کرتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں