میں پکا مومن ہوں

Spread the love

تحریر چوہدری زاہد حیات
میں ان پکے مومنین میں شامل ہوں جو کلمہ نماز حج روزہ زکوٰۃ کو ادا کرنے کے بعد اپنے آپ کو جنت کا حقدار سمجھ لیتے ہیں.. نوکری ہو.. مزدوری ہو یا تجارت
اپنے “نفس” کا خیال رکھتے ہوئے کرتے ہیں..کچھ عرصہ قبل کریانے کی دکان کھولی..چل پڑی.. چلنے کے بعد دال چاول چینی کی کلو کی تھیلیوں سو گرام کی
ڈنڈی مارنے لگا.. تھرڈ کلاس کھلے پکوان کو خوبصورت سی تھیلی میں پیک کرکے فرسٹ کلاس پکوان کے داموں میں فروخت کرنے لگا.. کچھ ماہ بعد سامنے ایک اور
دکان کھل گئی..وہ بھی پکا مومن نکلا..شروع میں ایمانداری سے پورا تول کر میرے گاہکوں کو اپنی طرف کھینچ لیا میری دکان “ٹھپ” ہونے لگی.. میں اپنے مرشد
پیر صاحب کے آستانے گیا..حضور سامنے والے دکاندار نے تعویذ گنڈے کے ذریعے میری چلتی دکان ٹھپ کردی ہے کوئی ایسا “تگڑا” تعویذ دیں کہ وہ یہاں سے
بھاگنے پر مجبور ہوجائے.. بابا جی نے پانچ منٹ مراقبے میں جانے کے بعد سر اٹھایا مجھ پر کچھ پڑھ کر پھونک ماری اور ایک تعویذ مجھے دیکر کہا.. جا بیٹا یہ تعویذ
اس کی دکان کھلنے سے پہلے دکان کے سامنے زمین میں کچی جگہ گاڑدے..میں نے آستانے میں رکھے نیاز کے باکس میں پانچ سو روپے ڈالے اور اگلے دن صبح چھ بجے ہی تعویذ اس کی دکان
کے سامنے گاڑدیا.. اسی طرح درجن بھر تعویذ گاڑنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کے مرشد کے پاس ضرور میرے مرشد سے زیادہ طاقتور “مؤکل” قبضے میں ہیں..
پھر ایک چلتی جگہ پر فاسٹ فوڈ کھولا.. حسب سابق بڑی ایمانداری سے اعلیٰ معیار مناسب دام قائم رکھ کر گاہکوں کا اعتماد جلد ہی حاصل کرلیا.. اور پھر اپنی روایتی بے ایمانی شروع کر دی ا..شہر کے بڑے چکن سپلائر کے پاس گیا جو مجھ سے بھی بڑا پکا جنت میں جانے کا امیدوار تھا..مردہ مرغیوں کے گوشت جن کے ریٹ آدھے سے بھی کم تھے ان کا
آرڈر دیکر آگیا..اب میرا منافع دوگنا ہوچکا تھا.. ستیاناس ہو اس نامکمل مسلمان فوڈ انسپکٹر کا جس کی وجہ سے میرے چلتے ہوئے فاسٹ فوڈ کو سیل لگ گئی..
ظاہر ہے میں تو پکا مومن تھا پھر شک قریبی فاسٹ فوڈ پر گیا.. ضرور اس حاسد نے کوئی “کالا” جادو کرایا ہوگا.. اب پھر دوبارہ مرشد کے آستانے حاضری لگائی..
لیکن پھر حسب سابق درجن بھر چکر لگانے اور نیاز کا باکس بھرنے کے بعد اسٹیٹ ایجنسی کھول کر بیٹھ گیا. محکمہ مال کی مدد سے ادھر کی زمین ادھر اور ادھر کی ادھر کرنے لگا لیکن گھر سے پریشانیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں تھیں ایک دوست سے ذکر کیا تو وہ اپنے مرشد کے پاس لے گیا
لیکن وہ پیر صاحب عجیب نکلے میری ساری پریشانیوں کی داستان سن کر بولے بیٹا آپ کو تعویذ کی نہیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے ۔ اور توبہ کی ضرورت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں