ٹلہ جوگیاں جہلم

Spread the love

لمحہ بھر کےلئے رانجھے کی ونجلی کی تان اور “کَن پاٹے جوگی” کانوں میں مُندرے دالے اور بدن پہ راکھ ملے چشمِ تصور سے ایک افسانوی سا عکس بناتے ہوئے ظاہر ہوے اور اپنی طلسماتی طاقت کی بنا پر 400 سال قبل مسیح اُس دور میں لے گئے جب جہلم کے اِس ٹلہ کو جوگیوں نے آباد کیا تھا۔کہیں یہ جوگی دنیا کی رنگینیوں سے منہ موڑے اپنے دیوتاوں کی پوجا پاٹ میں مشغول نظر ائے تو کہیں حصولِ نروان کی خاطر اپنی مخصوص طریقت میں محو۔
کہیں عشق کے ہاتھوں نڈھال رانجھے کو جوگ کیلئے ونجلی کی شیرنیں بکھیرتے دیکھا تو کہیں بابا گوروناتھ کو ٹلہ کے سب سے بالائی مقام پر موجود گنبد میں قیام پزیر۔ کہیں ہندو زایرین کو اپنی مُرادیں پانے کی خاطر مندروں کی گینٹھیاں بجاتےدیکھا تو کہیں میلے کے سماں کو ٹلہ کی کڑی خاموشی میں خوشی کے شادمانے بجاتے۔ٹلہ جوگیاں کی صدیوں پر محیط تاریخ فاسٹ فاروڈ موڈ میں چند سیکنڈ کے فلمی ٹریلر کی مانند انکھوں کے پردے پر پلے ہوئی اور اگلے ہی لمحے ساتھی رننر کی آواز نے 2020 کے اُس دور میں لا کھڑا کیا جہاں اب نہ تو جسم پہ راکھ ملے جوگی تھے، نہ رانجھے کی ونجلی کی کومل تان، نہ بابا گوروناتھ کا فیض تھا تو نہ مندروں سے اتی گینٹھوں کی آواز، فقط ہولناکی، ویرانی اور دہشت۔ بیہانک سناٹے کے ایک وجود نے مندروں کو اپنی اغوش میں لے رکھا تھا، بابا گوروناتھ کے گنبد میں خاموشی ڈیرے ڈالے بیٹھی تھی اور اِنہیں خاموشیوں میں کہیں رانجھے کی داستانِ عشق دفن۔ جوگیوں کا یہ اشرم دکھ درد اور بے بسی کی تصویر بنے اپنے ساتھ ہوئے سلوک کی شکایت کر رہا تھا۔
ٹلہ جوگیاں، ضلع جہلم کا سب سے اونچا پہاڑ جو سطح سمندر سے 1000میٹر بلند ہے۔ شہر دینہ سے 37 کلومیٹر مغرب کی جانب سڑک قلعہ روہتاس، چکیام، گتر، مائر سے ہوتی ہوئی ٹلہ کے دامن میں آباد گاوں بھیٹ تک جاتی ہے، جہاں سے بل کھاتا ہوا راستہ پہاڑ کی چوٹی تک ،ٹریک کا مکمل فاصلہ تقریباً 3.2 کلومیٹر اور چڑھائی 500 میٹر ہے۔
پچھلی 24 صدیوں کے مختلف ادوار کا احوال اور چوٹی پر پُر لطف اور خوشگوار موسم ٹلہ کو ایک انتہائی عُمدہ اور دلکش سیر گاہ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جوکہ نہ صرف تاریخ اور ایڈوینچر سے لگاؤ رکھنے والے حضرات بلکہ ہر قسم کے سیاحوں کیلئے ایک انتہائی موضوع مقام ثابت ہو سکتا ہے۔جہلم کا یہ تاریخی سرمایہ جہاں حکومتی توجہ کا طلب گار بھی ہے وہی عوام الناس سے تاریخی عمارات کی اہمیت کو سمجھنے اور اُجاگر کرنے کی اپیل بھی کرتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں