برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے کشمیر میں ایک سال سے جاری کرفیو، لاک ڈاؤن، کو فوری اٹھانے کا مطالبہ کر دیا

Spread the love

بریڈفورڈ ( عارف چودھری)برطانوی ارکان پارلیمنٹ لیبر فرینڈز آف کشمیر کے چئیرمن ایم پی اینڈریو گوون، شیڈو وزیر ایم پی ناز شاہ، ایم پی پال بلانا فیلڈ، ایم پی کلائیو بیٹس، ایم پی لوسی ہیگ، ایم پی گل فورنس، ایم پی اولیویا بلیک نے کشمیر میں ایک سال سے جاری کرفیو، لاک ڈاؤن، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور متنازعہ علاقے کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے خلاف عالمی برادری، عالمی میڈیا اور برطانوی حکومت کو فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کر دیا، برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے اپنی اپنی الگ الگ اسٹیٹمنٹس میں اس بات پر زور دیا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور کشمیریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، ارکان نے بھارتی حکومت کو کشمیر میں کالے قوانین، کشمیر میں ڈیموگرافی تبدیلی اور دیگر اقدامات کو روکنے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دینے کا مطالبہ کر دیا، برٹش حکومت فوری طور پر بھارتی حکومت سے بات کر کے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو رکوائے، بین الاقوامی برادری، عالمی میڈیا اور ادارے کشمیریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے کے لیے حرکت میں آئیں۔ دوسری جانب مذکورہ برطانوی ارکان پارلیمنٹ کی اس کوشش پر جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے چئیرمن راجہ نجابت حسین، کونسلر یاسمین ڈار، سرپرست اعلیٰ تحریک حق خودارادیت سردار عبد الرحمان، سیکرٹری جنرل محمد اعظم نے مشترکہ طور پر برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کا بھرپور خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے زمینی حقائق کے مطابق آواز بلند کر کشمیریوں کی حوصلہ افزائی کی ہے، برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے اس سے قبل بھی کشمیریوں کے حق میں بھرپور آواز بلند کی اور بھارت کے کشمیر میں بدترین ظلم و ستم اور بربریت کو بے نقاب کیا، ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے کشمیر میں لاک ڈاؤن، کرفیو، ڈیموگرافی تبدیلی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف جاری بیان عالمی برادری، عالمی اداروں، اقوام متحدہ اور حکومتوں کے لیے ایک مستند حوالہ ہے اور یہ عالمی برادری کی آنکھیں کھولنے کے لیے ایک واضح آواز ہے کہ کشمیر کے حالات بھارت کی انتہاء پسندی اور بربریت کی وجہ سے انتہائی سنگین ہو چکے ہیں، اگر عالمی اداروں اور بین الاقوامی برادری نے کشمیر کی صورت حال پر نوٹس نہ لیا تو اس کے اثرات دنیا بھر کے امن اور حالات پر مرتب ہوں گے۔ آج پوری کشمیری قوم کی طرف سے ان ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے کشمیر کی صورتحال پر عالمی برادری اور برطانوی حکومت کو جھنجھوڑنے کی بھرپور کوشش کی۔ تحریک حق خودارادیت سفارتی محاذ پر ارکان پارلیمنٹ، کونسلرز، سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں اور عالمی اداروں کے مندوبین سے مسلسل رابطوں اور لابنگ کے ذریعے کشمیریوں کا مقدمہ پیش کرتی رہے گی۔ انشاءاللہ بھارت کا ہر محاذ اور ہر فورم پر پیچھا کریں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں