جشن آزادی یا جشن غلامی

Spread the love

محمد طاھر شہزاد 14 اگست 2020
[email protected]

73 سال پہلے بھارت اور انگریزوں سے آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کو بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑی ، لاکھوں مسلمانوں کا خون بہا ، ھزاروں ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عصمتیں لٹی ، گھر بار لٹے ، مگر یہی مسلمان جب سب کچھ اپنا لٹا کر پاکستان پہنچے تو ایک خوشی ان کے لبوں پر تھی کہ اب ہم اپنی مرضی سے جئیں گے ، ھمارا مسلمانوں کا اپنا وطن ھوگا ، ہمیں مذھبی آزادی ھو گی ، ہمارے اپنے پیارے اب مذھبی تعصب کی بھینٹ نہیں چڑھیں گے ، ہم آزاد قوم ھونگے ہماری آنے والی نسلیں آزاد فضاء میں پروان چڑھیں گی آزاد فضاء میں سانس لینگی ، خواب بیش بہا تھے امیدکاجذبہ ھی تھا جس نے ہمارے آباؤ اجداد کو ایک نئی طاقت بخشی ، امیدکی اسی کرن نے اس لٹی پٹی قوم کے زخموں پر مرہم کا کام کیا اور ایک بار پھر اپنے سارے ذخم بھلا کر اپنے پیارےملک کو اپنے خوابوں کے مطابق ڈھالنے میں مگن ھو گئے ۔ یہ خوبصورت خواب ھی تھے جنہوں نے اس قوم کو ایک بار پھر ایک نیا حوصلہ نئی طاقت بخشی ،
خواب بہت تھے اور سفر بہت طویل تھا ، نہ گھر نہ پہننے کو کپڑے نہ کھانے کو روٹی نہ اپنے پیاروں کاساتھ کچھ بھی تو نہیں تھا پاس
مگر ایک آمید ایک خوشی ہی تھی جس کے سہارے ہمارے آباؤ اجداد نے حوصلہ نہ ھارا اور اپنے خوابوں کے گھر کو اپنی آنے والی نسلوں کو خوبصورت مستقبل دینے کی امیدوں سے سنوارنے میں مگن ھو گئے ۔
آزادی کی خوشی ایک قیدی غلام سے ھی پوچھی جا سکتی ھے اور اسوقت وہی خوشی ان لٹے پٹے قافلوں کے چہروں پر عیاں تھی ۔

مگر کون جانتا تھا کہ جس ملک جس زمین جس امید پر اتنی سعوبتیں جھیلیں اپنے پیاروں کی قربانی دی اپنا گھر بار قربان کیا اپنی ماؤں بہنوں کی عصمتیں لٹوائیں وہ خوشی ہمیں نصیب بھی ھو گی یا نہیں ؟
شائید آج میں اپنی آزادی کا جشن بھی شرمندہ شرمندہ نظروں سے منا رھا ھوں ۔ آج قائد ذندہ ھوتے تو ایک بار ضرور سوچتے کہ اگر اسی ملک کا خواب لے کر انھوں نے اتنی جدوجہد کی تو کہیں غلطی تو نہیں کی اپنی قوم کو مستقبل کے خوبصورت خواب دکھا کر ؟ اپنی ماؤں بیٹیوں بہنوں کی عصمتوں سے کھیل کر ؟ کیونکہ جہاں سے جس منزل سے میرے آباؤ اجداد نے سفر کا آغاز کیا تھا ا ج میں وہیں پر کھڑا ھوں ۔ کل بھی میری قوم غلام تھی انگریزوں کی اور آج بھی غلام ھے ، کل ایک طوق تھا میرے آباؤ اجداد کےگلے میں آج بیش بہا طوق میرے گلے ھاتھوں پیروں اور ذہن کو اپنی قید میں جکڑے ھوے ہیں ,
کل بھی میراذہن مذھبی تعصب سے آزاد نہیں تھا اور آج بھی نہیں ھے ، کل بھی مجھے مذھبی آزادی کا گلہ تھا اور آج بھی اسلام وہی ھے جو امریکہ یورپ و اسرائیل ہمیں بتاتا ھے ,
کل ہمارے آباؤ اجداد نے صرف ایک گلے میں پڑے ھوے طوق کو بوجھ جانا اور آج میرے گلے میں اتنے طوق ہیں کہ میری گردن بھی اٹھنے کے قابل نہیں رہی ۔ کل میرے آباؤ اجداد کے گلے میں طوق تھا غلامی کا آج میرے گلے میری نظروں ، میرے ھاتھوں میرے پیروں میری سوچ میری زبان سب غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ھوے ہیں ۔ میری آنکھوں پر طوق ڈال کر آج مجھے مجبور کر دیا گیا ھے کہ میں وہی دیکھوں جو میرے آقا مجھے دکھانا چاہتے ہیں ، میری سماعت پر طوق ڈال کر مجھے وہی سننے پر مجبور کر دیا گیا ھے جو میرے آقا سنانا چاہتے ہیں ۔ میرے ھاتھوں میں طوق ڈال کر مجھے مجبور کر دیا گیا ھے کہ میں وہی لکھوں جو میرے آقا لکھوانا چاھتے ہیں , میرے پیروں میں طوق ڈال کر مجھے اسی راستے پر چلنے پر مجبور کر دیا گیا ھے جس رستے پر میرے آقا کا مفاد ھو ، میری زبان میرے ذہن تک کو نہیں بخشا گیا ۔ میری زبان کو طوق کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ھے تاکہ میں وہی الفاظ اپنی زبان تک لاسکوں جو میرے آقا کو پسند ھوں ۔ میرے ذہن تک کو طوق کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ھے تاکہ میری سوچ بھی تابع ھو میرے آقاؤں کے ۔

14 اگست 1947 کو ایک طوق میرے آباؤ اجداد اپنے گلے سے اتار کر اتنے خوش تھے کہ شائید غلامی کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا ھے ، مگر برطانیہ کی غلامی کی لوھے کی بھاری بھرکم ذنجیروں سے آزادی پانے کے بعد ہم نے یہودی سونے کی زنجیروں کو اپنا زیور بنا کر خوش فہمی میں مبتلا ھو گئے کہ یہ زنجیریں نہیں ہمارازیور ہیں ۔ ہم بھول گئے تھے کہ طوق لوھے کا ھو یا سونے کا دونو صورتوں میں غلامی کی ہی نشانی ھوتا ھے ۔
آج ہم امریکہ و اسرائیل کی غلامی ، آئی ایم ایف کی غلامی ، ورلڈ بینک کی غلامی ، سعودی عرب اور یو اے ای کی غلامی اور شائید چائنہ کی بھی غلامی کے طوق اپنے گلے میں دیکھ کر بھی آزادی کے جشن مناتے نظر آتے ہیں ۔ یا شائید آزادی کے جشن میں ہم اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کا ماتم کرتے نظر آتے ہیں ۔ آج آزادی کا جشن مناتے ھوے ہمارے چہروں پر وہ مسکراہٹ اور خوشی اور امید نظر نہیں آتی جو ہمارے آباؤ اجداد کے چہروں پر نظر آرہی تھی آزادی پانے پر ؟
کل ہمارے آباؤ اجداد کے سر اپنی قربانیوں کی داستانوں کے ساتھ اس آزادی پر فخر سے تنے ھوے نظر آتے تھے مگر آج ہمارے سر اور نظریں جھکے ھوے کیوں نظر آتے ہیں ۔ یا شائید ہماری امیدیں دم توڑ چکی ہیں اب ۔ ہم بھی آج وہیں کھڑے ہیں جہاں سے ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا ۔ سو سال کا اتنا طویل سفر اور اس طویل ترین سفر میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا ؟
یا شائید ہم نے پایا تو کچھ بھی نہیں مگر جو پاس تھا اپنی آنا اپنی خوداری اپنی عزت وہ بھی ہم نے اس طویل ترین سفر میں کھو دی ھے ،
اب تو ہمارے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ۔ سب ہم نے غلامی کی نذر کر دیا ھے ، شائید آج ایک بار پھر ہمیں سوچنا ھوگا کہ وہی سفر جس پر چلتے ھوے ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے خوبصورت خواب سجائے تھے ہمیں ایک بار پھر اسی سفر پر چلنا ھوگا یا اب ہم تھک چکے ہیں اور ہمارے بوجھل قدموں میں اب چلنے کی بھی سکت نہیں رھی ، اب تو شائید موت ھی ہمیں اس غلامی سے نجات دلا سکتی ھے ،
اپنے آباؤ اجداد کا حوصلہ ہمت اور ثابت قدمی ہم میں نہیں ۔ شائید ہمیں اب جینا ھے انہیں طوق کی زنجیروں کے ساتھ ھی ۔ کیونکہ ہمارے دل مر چکے ہیں ہمارے ذہن ماؤف ھو چکے ہیں ، ہمارے پیر لہو لہان ھو چکے ہیں ۔ ہمارے کٹے ھوے ھاتھ پیر اور کٹی ھوئی زبان اب ہمارے راستے کا تعین نہیں کر سکتے ۔ اب شائید ھمارا مقدر غلامی کا طویل پڑاؤ ھی ھے اور اسی میں ہم اپنی بھولی بسری ان دیکھی آزادی کی یادوں کو تازہ کر کے خوش ھونے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں شائید ۔
مردہ قومیں خواب تو دیکھ سکتی ہیں اپنی خوشیوں کے مگر ان خوابوں کی تکمیل کے لیے دل دماغ ھاتھوں پیروں زبان اور کان کا ذندہ ھونا بھی ضروری ھوتا ھے ، مردہ قومیں صرف خواب دیکھنے کے قابل ھی ھوتی ہیں جبکہ ذندہ قومیں اپنے خوابوں میں رنگ بھرکر انہیں خوبصورت سے خوبصورت بناتی نظر آتی ہیں ۔

مگر کاش ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں