پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت مسائل کو حل کرنے کے بجائے سندھ میں انتشار چاہتی ھے

Spread the love

پاک سرزمین پارٹی برطانیہ کے سنیئر نائب صدر مرزا فیصل محمود نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت مسائل کو حل کرنے کے بجائے سندھ میں انتشار چاہتی ھے اور اس طرح کے اقدامات کر رھی ھے جس سے صرف آس کی حکومت کی بقاء رھے اور عوام اور ان کے دیرینہ مسائل بھاڑ میں جائیں اگر پیپلز پارٹی سندھ کی عوام سے مخلص ہوتی تو اندون سندھ پیرس بن چکا ہوتا وھاں ہسپتال اور تعلیمی اداروں کی بھرمار ہوتی کوٹہ سسٹم کا خاتمہ ہوچکا ہوتا 2013کو ایم کیو ایم کے ساتھ ملکر کراچی کو کھنڈرات میں تقسیم کرنے کا بل نا پاس کرتے ۔کراچی دنیا کا ٧٠ ممالک سے بڑا ملک ھے جس کے ١٧ ٹاون تھے اور دنیا کا بارہ ترقی کرنے والے شہروں میں شمار ہوتا تھا جب ایک کامیاب نظام موجود تھا تو کیوں آس نظام کا خاتمہ کیا گیا اور جب ٢٠١٣ کے بعد سے مسائل کے انبار لگ گیے سپریم کورٹ نے ایکشن گیا پھر وفاق کے ساتھ ملکر کر صوبائی اور شہری حکومت کی کیمٹی بنا دی گئی۔ تو کراچی کا ایک اور ضلع بنانے کیوں مقصود ہوا سندھ حکومت کا کراچی کا ساتواں ضلع بنانا یہ ظاہر کرتا ھے کہ پیپلز پارٹی کراچی کے مسائل حل نہیں کرنا چاہتی ۔مرزا فیصل محمود نے صدر پاکستان جناب عارف علوی, وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب, سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ارباب اختیار سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو ٢٠١٣ سے پہلےوالی بلدیاتی اختیارات اور اس سے بھی زیادہ اختیارات دیئے جاییں تاکہ کراچی کے عوام کے مسائل حل ہوسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں