میں وکیل ہوں میرے سر پر دوپٹہ دے دیں

Spread the love

از قلم بنت گوندل

اب کہاں ہے وہ معاشرہ جو کل جب وکلاء اس اپنی وکیل بہن ارشاد کے حق کے لئے نکلیں گے تو ان کو برا بھلا کہے گا۔
ایسے ظلم ہوتے دیکھ کر یہ سوچ کر خاموش رہنے والو کے ارشاد ہماری کچھ نہیں لگتی
پتا نہیں کوئی وکیل ہے تو سن لو ایسا نہ ہو کہ اگلی بار آپ کا کوئی اپنا ارشاد کی طرح انسانی شکل میں موجود شیطانوں کے ہاتھ لگ جائے جن کے ضمیر مردہ ہیں جو شاید اپنی ماں بہن بیٹیوں کےساتھ یہی سلوک کرتے ہیں
میرے والد وکیل ہیں کالے کوٹ پر آواز لگانے والوں سے مجھے نفرت ہے میں لڑکی ہوں معاشرے کی کسی بھی ارشاد چاہے وہ ملک پاکستان بلکہ دنیا کہ کسی بھی خطے مذہب سے تعلق رکھتی ہو اس کے حق کی خاطر لڑ مر جانے کے لئے تیار ہوں
حکومت وقت سے گزارش ہے کہ معاملہ مسئلہ جو بھی ہو کسی عورت اور بچی کی عزتوں کو پامال کرنے والے درندوں کے سر قلم کئے جائیں انہیں نشان عبرت بنایا جائے یہ ملک اپنی قوم کی بچیوں عورتوں کے تحفظ کے لئے ہے یہ مٹی ہر ارشاد کے سر کی چادر ہے
بس کرو
خدا کے لئے اب بس کرو عورت کو عزت دو
یہ ماں ہے بہن ہے بیٹی ہے کسی کی بیوی ہے اس کے سر کی چادر نہ چھینو بس کر دو یہ ظلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں