اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں کے اتحاد کا فیصلہ بڑی جماعتوں کی لیت و لعل کا منطقی نتیجہ ہے: حافظ حسین احمد

Spread the love

تاریخ: 24اگست 2020

بڑی جماعتیں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں بصورت دیگر اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے ایک نئے فیصلے کی ضرورت درپیش ہوگی

نواز شریف کو اب ملک واپس آجانا چاہئے کیوں کہ حکومت کے لیے لندن میں بیٹھا نواز شریف پاکستان آکر زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے

وزیر اعظم اور وزراء نواز شریف کے بیرون ملک بھیجے جانے کے معاملے پر جعلسازی کا الزام لگا کر یہ بھول جاتے ہیں کہ اس میں خود ان کا کتنا حصہ ہے

وزراء ہوائی بیان داغنے کے بجائے عملی قدم کیوں نہیں اٹھاتے؟حالانکہ ضامن شہباز شریف، ڈاکٹر عدنان، یاسمین راشد اور شوکت خانم کے ڈاکٹرز پاکستان میں موجود ہیں

نواز شریف کو باہر بھیجنے والے ہی عمران خان کو لانے والے بھی ہیں آزادی مارچ کے نتیجے میں ”لانے والوں“نے نہ صرف اپنے لانے کا بلکہ ان کو واپس بھیجنے کا بھی اعتراف کیا

کوئٹہ(پ ر) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں کے اتحاد کا فیصلہ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی لیت و لعل کا منطقی نتیجہ ہے اب امید کی جاسکتی ہے کہ بڑی جماعتیں بھی دیکھا دیکھی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گی بصورت دیگر اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے ایک نئے فیصلے کی ضرورت درپیش ہوگی،شاہد خاقان عباسی سچے اور کھرے آدمی ہیں انہوں نے نہ صرف اس صورتحال کا اعتراف کیا بلکہ پارٹی میں بھی ان کا طرز عمل مثبت رہا ہے،مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف کو اب ملک واپس آجانا چاہئے کیوں کہ حکومت کے لیے لندن میں بیٹھا نواز شریف پاکستان آکر زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی چینل اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جے یو آئی کے ترجمان حافظ حسین احمد نے مزید کہا کہ مصلحتوں اور مصالحت کے بھنور میں پھنس کر کبھی بھی اپوزیشن اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکے گی، انہوں نے کہا کہ اس ملک کی خصوصیت یہ ہے کہ اقتدار کسی پاس ہوتا ہے اور اختیار کسی اور کے پاس ہوتا ہے، مشرف کو شریف کے دور میں، شریف کو عمران کے دور میں اور ریمنڈڈیوس کو زرداری کے دور میں عدالتی چنگل سے جس انداز میں نکال کر باہر بھیجا گیا کسی اور ملک میں اس کی مثال نہیں ملتی، ان کا کہنا تھا کہ آج عمران خان اور ان کے وزراء نواز شریف کے بیرون ملک بھیجے جانے کے بارے میں جعلسازی کا الزام لگا کر یہ بھول جاتے ہیں کہ اس میں خود ان کا کتنا حصہ تھا اگر ان کی باتوں میں صداقت ہے تو ضامن شہباز شریف تو پاکستان میں ہے ڈاکٹر عدنان بھی واپس آچکے ہے پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد اور سب سے بڑ ھ کر شوکت خانم کے وہ تمام ڈاکٹرز موجود ہیں وزراء ہوائی بیان داغنے کے بجائے عملی قدم کیوں نہیں اٹھا سکتے اس لیے کہ وہ بہتر سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کو باہر بھیجنے والے عمران خان کو لانے والے بھی ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلی بار جے یو آئی کے آزادی مارچ کے نتیجے میں ”لانے والوں“نے نہ صرف اپنے لانے کا بلکہ ان کو واپس بھیجنے کا بھی اعتراف کیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں