جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل نے یوم دفاع پاکستان کے موقع پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے منظم مہم کا آغاز کر دیا

Spread the love

بریڈفورڈ(عارف چودھری) جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل نے یوم دفاع پاکستان کے موقع پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے منظم مہم کا آغاز کر دیا ، برنلے اور ایکرنگٹن کے کنزرویٹو پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ ایم پی چینگن بوتھم ، ایم پی سارہ برٹکلف سے خصوصی چیئرمین تحریک راجہ نجابت حسین کی خصوصی ملاقاتیں ، 6ستمبر کو ویڈیو کے ذریعے کشمیر کانفرنس کے مہمان خصوصی وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان ہوں گے جبکہ ویڈیو کشمیر کانفرنس کی صدارت لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر نفیس زکریا کریں گے ۔کانفرنس میں 2درجن سے زائدبرطانوی ،یورپین ، پاکستانی اور کشمیری ممبران پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے نمائندے خطاب کریں گے ، 7ستمبر کو کو اسلام آباد میں تحریک حق خود ارادیت کے پاکستان چیپٹر کے زیر اہتمام کشمیر سیمینار منعقد ہو گا جس کے مہمان خصوصی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان ہوں گے اور صدارت چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار خان آفریدی کریںگے ۔ برطانیہ و یورپ کے علاوہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے ممبران پارلیمنٹ اور یوتھ پارلیمنٹ کے ارکان سمیت انسانی حقوق کے نمائندے اور مختلف تنظیموں کے مندوبین بھی شرکت اور خطاب کریں گے ۔ گذشتہ سال بھی 3ستمبر کو 10ڈائوننگ سٹریٹ میں ممبران پارلیمنٹ سے مل کر برطانوی وزیر اعظم کو یاداشت جمع کرائی گئی تھی ۔ امسال بھی برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران سے رابطے، پارلیمنٹ میں کانفرنسیں اوردورے مسلسل لابی مہم اور منظم سفارتی مہم کی ترجیحات میں شامل ہیں۔9ستمبر کو لندن میں تحریک حق خود ارادیت کے عہدیداران لابی مہم کے سلسلہ میں ممبران پارلیمنٹ سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے مسئلہ پر چوتھی بحث کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جا سکے ۔ 11ستمبر کو گریٹر مانچسٹر کے ممبران پارلیمنٹ اور کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر کے عہدیداران کے ساتھ خصوصی نشست کا اہتمام کیا جائے گا ۔برطانیہ کے ممبران پارلیمنٹ اور کونسلرز اور کشمیری تنظیموں اور یورپ بھر سے کشمیریوں کو متحرک کرنے کے لئے خصوصی رابطے کئے جائیں گے تاکہ نیو یارک اور جنیوا میں ہونے والے مظاہروں میں زیادہ سے زیادہ کشمیریوں کی شرکت کو یقینی بنایا جا سکے ۔ اس سلسلہ میں برسلز سے سردار صدیق خان ، پیرس سے مرزا آصف جرال ، ہالینڈ سے راجہ محمد فاروق کے علاوہ دیگر متحرک شخصیات کی ذمہ داریاں لگائی جا چکی ہیں ۔ اسی طرح برطانیہ کے ان علاقوں میں جہاں حالات نارمل ہیں وہاں مقامی کونسلرز اور کشمیری رہنمائوں کی معاونت سے ممبران پارلیمنٹ کی لابی کر کے برطانوی حکومت پر دبائو بڑھایا جائے گا تاکہ وہ 15ستمبر سے شروع ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں برٹش کشمیریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اٹھائیں گے اور مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے خاتمے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرانے میں اپنا کردار کریں ۔ برطانیہ میں تحریک حق خودارادیت کے چیئرمین راجہ نجابت حسین ، کونسلر یاسمین ڈار ، کونسلر سمیرا خورشید ، جبکہ پاکستان میں عبد الحمید لون ، عبید الرحمن قریشی ، عنبرین ترک اور ممبر کشمیری کمیٹی نورین فاروق ابراھیم اعلیٰ سطحی رابطوں کے ذریعے تقریبات اور کانفرنسوں کے انتظامات کریں گے ۔ چیئرمین راجہ نجابت حسین نے کہا کہ ہم سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر کے لئے مسلسل کاوشیں کرنے والے برٹش اور اوورسیز کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ ہم حکومت آزاد کشمیر ، پارلیمنٹری گروپوں کے بھی مشکور ہیں اور مستقبل میں بھی ان سے تعاون کی توقع رکھتے ہیں ۔ کانفرنسوں اور دیگر سرگرمیوں میں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں ، مسلسل لاک ڈائون کے بعد اب آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے اور کشمیریوں کو ٹارگٹ کر کے قتل عام کرنے سمیت کشمیر کی جملہ تازہ صورتحال کو زیر بحث لایا جائے گا ۔ معروف کشمیری رہنماء راجہ نجابت حسین نے مزید کہا کہ گذشتہ 6ماہ سے پوری دنیا لاک ڈائون کی اذیت جھیل چکی ہے لیکن کشمیری گذشتہ ایک سال سے دوہرے لاک ڈائون کا شکار ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت دہشت گردی کا شکار کشمیری انصاف اور اپنے بنیادی حق کے لئے دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں ، گذشتہ 73برس سے بھارتی فورسز کشمیر میں جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہی ہیں ۔ انسانی حقوق کی پامالی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے ، اقوام متحدہ ،بین الاقوامی برادری کشمیریوں سے کئے گئے وعدوں پر عملد رآمد کرائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں