انتظامیہ کی غفلت اور لا پرواہی کے باعث آئیو ڈین کے بغیر کھلے نمک کی فروخت جاری

Spread the love

جہلم(چوہدری عابد محمود +دانیال عابد چوہدری)انتظامیہ کی غفلت اور لا پرواہی کے باعث آئیو ڈین کے بغیر کھلے نمک کی فروخت جاری رہنے سے گلہڑ کے علاوہ بچوں نوزائیدہ بچوں میں ذہنی و جسمانی بیماریوں میں اضافہ، جہلم شہر کے دیہی علاقوں میں بڑوں میں گلہڑ اور بچوں میں زہنی و جسمانی بیماریاں عام ہونے لگیں،حال ہی میں پنجاب حکومت کی طرف سے جہلم سمیت صوبہ پنجاب کے 36اضلاع میں بغیر آئیوڈین نمک فروخت کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی مگر محکمہ صحت جہلم کے ذمہ د اران کی طرف سے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے تاحال مارکیٹ میں فروخت ہونیوالے نمک میں آئیوڈین کی مقدار 10فیصد سے بھی نیچے ہے جبکہ قوانین کے مطابق نمک میں آئیوڈین کی مقدار30فیصد ہونی چاہئے۔ ایک انسان کو دن میں 150 مائیکرو گرام جبکہ حاملہ خواتین میں 200 مائیکرگرام آئیوڈین کی ضرورت ہوتی ہے، مگر آئیوڈین کی کم مقدار پیدا ہوینوالے بچوں میں دماغی کمزوری اور مختلف جسمانی امراض کی شرح انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرتی جارہی ہے، محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اندرون شہر نمک پیسنے والی چکیوں سے نمونہ جات حاصل کر کے تجزیہ کیلئے لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں جن کے نتائج آنے کے بعد ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کے علاوہ چکیاں بھی سیل کی جا سکیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں