غریب وال فیکٹری کی شفا اور بیماریاں

Spread the love

چوہدری زاہد حیات۔
غریبوال سمنیٹ فیکٹری یونین کونسل ساووال کے لیے اب تک وہ دوائی ثابت ہوئی ہے جس کی شفا بہت کم اور محدود پیمانے پر ہوئی لیکن اس دوائی کے مضر اثرات نے پوری یونین کونسل کو متاثر کیا
یہ فیکٹری علاقہ کے لیے ایک سونے کی چڑیا ثابت ہو رہی تھی اس کے ورکر کی خوشحالی کی مثالیں دی جاتی تھیں لگ بھگ دو ہزار لوگوں کارخانے سے براہ راست وابستہ تھے اور اتنے ہی بلواسطہ اس سے روزی روٹی کما رہے تھے یہ سب اس وقت ہو رہا تھا جب اس فیکٹری کی پروڈکشن محض اٹھارہ سو ٹن تھی پھر یہ کارخانہ سرکار سے نجی شعبے کو منتقل ہو گیا بات لمبی ہو رہی ہے یہ فیکٹری اٹھارہ سو سے سات ہزار ٹن پر پہنچ گئی ۔
اور فیکٹری انتظامیہ کی باگ ڈور ہارون صاحب نے سنبھال لیے جن کی ایک نقظہ کی پالیسی سامنے آئی کہ کچھ لوگوں کو نواز کر باقی سب گھن چکر بنا دو اپنی اس پالیسی کو انہوں نے انتہائی کامیابی سے استعمال کیا۔ یہ نوازے گئے لوگ اپنے ہی عوام اور علاقے کے حقوق غصب کرنے میں فیکٹری انتظامیہ سے آگے بڑھ گئے ایک عام سے عقل کا مالک بھی بندہ بھی آسانی سے یہ بات سمجھ سکتا کہ سرمایہ دار اگر کسی ہر دو ہزار بھی خرچ کرتا ہے تو دس ہزار منافع کے لیے اور یہاں تو کچھ لوگوں کو بے انتہا نوازا کر علاقے کے سارے حق حقوق بےدری سے چھپنے گیے ۔۔اب نوبت یہ ہےکہ مقامی نوازشات یافتہ لوگ فیکٹری انتظامیہ کو مشورے دیتے کہ کسیے اس علاقے کے مزدوروں کو دبانا اور کسیے اس علاقے کے وہ حقوق جو فیکٹری ادا کرنے کی پابند ان کو غضب کرنا ہے ۔اپنے بچوں کی شفا کے لیے کتنے بچوں کو مریض بنا رہے یہ لوگ اب اس کا سدباب صرف اور مقامی یونین کونسل ساووال کے اتحاد میں مضمر ہے کیونکہ سب سے زیادہ سے متاثر بھی یہ اور سب سے زیادہ حقدار بھی یہ
اپنے حق کو ہچان لینا اور پھر اس کے لیے لڑنا ہی زندگی ہے
ہماری یونین کونسل کے ہر قبرستان میں ایک مزدور ضرور ایسا دفن ہے جو فیکٹری انتظامیہ اور اس کے حواریوں کے مفادات کی بھنیٹ چڑھا ہوا ۔
اھل یونین کونسل ساووال ڈسپنسری واثر سپلائی یہ تمہارا حق ہے کسی کا احسان نہیں فیکٹری مالکان سے بھی دست بدست گزارش کہ اس دوائی کے شفا کے اثرات کو اس علاقے اس یونین کونسل تک پھیلائیں ۔تو انشاللہ یہ ہورا علاقہ اس فیکٹری کا محافظ ہو گا کیونکہ پالیسوں بسے اختلاف کیا جا سکتا ہر اس علاقے میں غریب وال سمنیٹ کی موجودگی بھی اللہ کی نعمت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں