لاہور موٹر وے پر خاتون سے زیادتی ڈاکوؤں کی پہلی واردات نہیں بلکہ ڈاکوؤں نے جائے وقوع پر راستے بنا رکھے ہیں

Spread the love

چوہدری زاہد حیات
لاہور موٹر وے پر واردات کی جگہ پر کی ۔ جہاں سے تفتیشی ٹیموں کو بچے کا جوتا ملا تھا، وہاں پر بچے کا جشمہ بھی ملا ہے

موٹروے کیس: ملزم عابد 2013 میں بھی ماں بیٹی سے اکھٹے زیادتی کا نشانہ بنا چکا ہے
جائے وقوع پر ڈاکوؤں نے کھائی سے اوپر موٹروے تک آنے کے لیے باقدہ راستہ بنا رکھا ہے اور محض چند منٹ میں جنگل سے موٹر وے پر پہنچ جاتے ہیں۔

واردات کی جگہ سے تین راستے نکلتے ہیں جن میں سے ایک جنگل، ایک کھائی اور دوسرا دیہات کی طرف جاتا ہے۔

ان دیہات کے رہائشی بھی وارداتوں سے تنگ اور پریشان ہیں۔

خیال رہے کہ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالااور سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

لاہور موٹروے پر خاتون سے زیادتی کے دونوں ملزمان کا سراغ مل گیا
پنجاب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کرنے والے دونوں ملزمان کا سراغ لگالیا گیا۔

متاثرہ خاتون سے حاصل نمونے ملزمان کے ڈی این اے سے میچ کر گئے ہیں، ڈی این اے نمونے فارنزک لیبارٹری کے ڈیٹا بینک میں پہلے سے موجود تھے، دستیاب شناخت کے مطابق ایک ملزم کا نام محمد عابد اور دوسرے کا وقار ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق 27 سالہ عابد کا تعلق بہاول نگر سے ہے، وہ لاہور آتا جاتا رہتاہے، ملزم عابد اشتہاری مجرم ہے کئی وارداتوں کا ریکارڈ ہے۔ ملزمان تاحال فرار ہیں اور اس کی تلاش جاری ہے اور پولیس ذرائع یہ دعویٰ کر رہے کہ وہ بھی جلد قانون کی گرفت میں ہو گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں