مشہور سماجی و سیاسی شخصیت ملک و قوم خصوصا جہلم کی بیٹی رشیدہ عزیز صاحبہ ( صدر میٹروپولیٹن پاکستان تحریک انصاف ) نے وومن ویلفیئر سوسائٹی کے آفس میں ایک پریس کانفرنس

Spread the love

مشہور سماجی و سیاسی شخصیت ملک و قوم خصوصا جہلم کی بیٹی رشیدہ عزیز صاحبہ ( صدر میٹروپولیٹن پاکستان تحریک انصاف ) نے وومن ویلفیئر سوسائٹی کے آفس میں مورخہ 14 ستمبر 2020 کو ایک پریس کانفرنس کی جس میں خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین جن میں رشیدہ عزیز،ایڈووکیٹ شازیہ نیئر،فوزیہ سلیم،عمارہ عزیز، پروفیسر شاہدہ عبداللہ،تنویر فاطمہ،مسز ایڈووکیٹ امجد فاروق گوندل، مسز ساجد محمود اور مومنہ ماہرو گوندل نے شرکت کی۔ رشیدہ عزیز صاحبہ کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات کو عام کیا جائے سزائیں اسلام کے مطابق متعین کی جائیں اور انہیں لاگو کیا جائے۔
سابقہ پرنسپل گورنمنٹ کالج برائے خواتین پنڈدادن خان پروفیسر شاہدہ عبداللہ صاحبہ نے تعلیم و تربیت پر زور دیا اور ماوں اور اساتذہ سے درخواست کی کہ بچوں کی خاص تربیت کریں تو ہی ہم معاشرے میں بہتری لا سکتے ہیں۔
انہوں نے تربیت کی اہمیت کو اپنے اس شعر سے واضح کیا
یہ نسل نو کی کج روی بتارہی ہے خود ہمیں
کمی ہے کچھ نہ کچھ ضرور آج کل کی ماوں میں
تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ حکومت سے اپیل کی کے شر عی حدود کا نفاذ کیا جائے
ایڈووکیٹ شازیہ نیئر صاحبہ کا کہنا تھا کہ کہ اگر مجرموں کو نشانہ عبرت بنا دیا جائے تو ہی ایسے واقعات سے بچا جاسکتا ہے ہمیں ان واقعات کی روک تھام کے لئے کام کرنا ہوگا۔
فوزیہ سلیم صاحبہ نے بھی تمام خواتین سے متفق ہوتے ہوئے حکومت سے اپیل کی کہ ایسے ظالموں کو جو بچوں اور بچیوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہیں انہیں پھانسی دے کر چوک میں لٹکا دینا چاہیے۔
عمارہ عزیز صاحبہ نے بھی آئے دن ہونے والے جنسی بدفعلی اور قتل کے واقعات کی شدید مذمت کی۔
مومنہ ماہرو گوندل صاحبہ نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان سے پہلے سے لے کر اب تک خواتین کا بہت موثر کردار رہا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مرد کو جنم دینے والی عورت ہی ہوتی ہے اور وہ اسی جنس سے درندوں کے جیسا سلوک کرتا ہے دنیا کے کسی بھی خطے میں خواہ وہ کسی بھی مذہب کے لوگ کیوں نہ ہوں یہ ضروری ہے کہ خواتین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھیں اور انہیں ان کا تحفظ فراہم کریں ملک پاکستان اپنی قوم اعوام کا تحفظ فراہم کرنا جانتا ہے اور ہم ہر دم ملک کی بہتری کے لیے مددگار تنظیموں کے ساتھ ہیں
دیگر خواتین نے بھی آئے روز ہونے والے واقعات کی مذمت کی اور متفقہ طور پر حکومت سے گزارش کی ہے کہ ایسے درندوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں