پریس کلب آف پاکستان یوکے کا ایک انٹرنیٹ پر زوم اجلاس محترمہ مقدسہ بانو کی زیر صدارت منعقد ہوا

Spread the love

مانچسٹر(پریس ریلیز ) پریس کلب آف پاکستان یوکے کا ایک انٹرنیٹ پر زوم اجلاس محترمہ مقدسہ بانو کی زیر صدارت منعقد ہوا جس کی نظامت کے فرائض سہیل حیدر سہوترا نے سرانجام دئیے – اجلاس میں شفیق الزمان ‘ نصر اللہ خان مغل ‘ گلزارخان ‘ سموئیل جیکب ‘ غلام رسول شہزاد ‘ محبوب الٰہی بٹ ‘ چوہدری پرویز مسیح مٹو‘ لیاقت علی عہد ‘ نعیم واعظ اور دیگر ارکان نے شرکت کی – اجلاس میں گذشتہ اجلاس کی کاروائی کو درست ریکارڈ کے طور پر منظور کر لیا گیا جبکہ فیصلہ کیا گیا کہ پریس کلب کی طرف سے ایک ماہانہ نیوز لیٹر انگریزی اور اردو میں شائع کیا جائے گا جس میں پریس کلب کی سرگرمیوں سے ارکان کو آگاہ کیا جائے گا – محبوب الٰہی بٹ کو نیوز لیٹر کی تیاری کی ذمہ داری دی گئی -چونکہ اجلاس سہ ماہی بنیادوں پر تھا جس میں تمام ارکان کی شرکت ہوتی ہے اس لئے اجلاس میں بہت سی تجاویز آئیں جن پر ارکان نے سیر حاصل گفتگو کی اور بہت سے فیصلوں کی منظوری دی – اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاسوںکی کاروائی اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہوا کرے گی جبکہ کاروائی بھی انگریزی زبان میں لکھی جائے گی- اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ ایسے ارکان جنہوں نے اپنا رکنیت کا کانٹریبیوشن ادا کر دیا ہے کی مکمل لسٹ درست ریکارڈ کے طور پر ایگزیکٹو کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گا کیونکہ موجودہ لسٹ میں کچھ نام دو دفعہ لکھے گئے ہیں – اجلاس میں واضح کیا گیا کہ پریس کلب کا جو وفد انسانی حقوق کانفرنس میں شرکت کے لئے مالٹا جانا چاہتا تھا وہ آخری وقت میں نہیں جا سکا جب ائرپورٹ پر وفد کے ارکان کو ہدایت کی گئی کہ انہیں چودہ دن تک مالٹا میں اور مزید چودہ دن تک برطانیہ واپس پہنچ کر قرنطینہ میں رہنا ہو گا – چونکہ اس حوالے سے وفد کی پلاننگ نہ تھی نیز وفد کا دورہ مالٹا صرف ایک ہفتے پر محیط تھا – چنانچہ یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا جبکہ یہ بھی اطلاع آئی ہے کہ کانفرنس دس اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے – وفد کے ارکان کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ اس حوالے سے مکمل معلومات لے کر ہی سفر کا آغاز کریںجبکہ صدرمقدسہ بانو نے ہدایت کی کہ تاریخ کی تبدیلی سے وفد میں زیادہ ارکان شامل ہو سکیں گے- اجلاس میں خزانچی سموئیل جیکب کو یہ ہدایت بھی کی گئی کہ وہ خزانے کی چھ ماہ تک کی رپورٹ ایکزیکٹو کے آئندہ اجلاس میں پیش کریں – اجلاس میںایک قرار داد کے ذریعے جنگ گروپ کے چیف ایگزیکٹو میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری اور انہیں مسلسل حراست میں رکھے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ صحافت کے شعبے میں انتقامی کاروائی ترک کردیں – اگر چھ ماہ تک میر شکیل الرحمٰن کے خلاف چالان نیب عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا تو یہ استغاثہ کی نااہلی ہے جس کانشانہ میر شکیل الرحمٰن کو نہ بنایا جائے – انہیں فوراً غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے – مقررین نے قرار داد کے حق میںخطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت آزادی اظہار اور ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے جو خواب عوام کو دکھا رہی ہے ان کی قلعی کھل گئی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں