جہلم تھانہ صدر پولیس نے بیوہ خاتون کی درخواست پر کارروائی کرنے کی بجائے متاثرہ خاتون کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں،

Spread the love

جہلم(رانا نوید الحسن +عبدالغفارآذاد)جہلم تھانہ صدر پولیس نے بیوہ خاتون کی درخواست پر کارروائی کرنے کی بجائے متاثرہ خاتون کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں، درخواست کے گواہان کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں، بیوہ کا ڈی پی او جہلم سے نوٹس لینے کا مطالبہ، تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر کے علاقہ محلہ قیصر آباد کی رہائشی خاتون مسرت بی بی نے ڈی پی او شاکر حسین داوڑ کو تحریری درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ میرا خاوند وفات پا چکا ہے، میرے گھر کا کفیل میرا حقیقی بیٹا ہے، میرے بیٹے عرفان پر پولیس تھانہ صدر نے بے بنیاد، من گھڑت منشیات کا مقدمہ درج کر کے پابند سلاسل کر دیا ہے، جس کی بابت ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ میرے بیٹے کو پولیس نے جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا ہے، میں نے ڈی پی او کو داد رسی کے لئے درخواست دی جو کہ انکوائری کے لئے ڈی ایس پی صدر سرکل محمد اکرم گوندل کو بھجوا دی گئی، موقع کے گواہان اور میرے بیٹے پر لڑائی جھگڑے کی درخواست دینے والی خاتون کو ڈی ایس پی کے سامنے پیش کیا گیا اور ان کے بیانات قلم بند کروائے گئے، اسی دوران تھانہ صدر پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے موقع کے گواہان کو ڈرانے دھمکانے کا عمل شروع کر دیا گیا اور مجھ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا گیاکہ اگر تم درخواست واپس نہیں لوگی تو مزید مقدمات میں تمہارے بیٹوں کو پھنسایا جائیگا۔ دکھیاری بیوہ نے ڈی پی او سمیت حکام بالا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ پولیس وردی میں ملبوس کالی بھیڑوں کیوجہ سے عوام کا پولیس پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے کیونکہ ڈی ایس پی صدر سرکل کے طلب کرنے کے باوجود تھانہ صدر پولیس کے اہلکار انکوائری کے لئے پیش نہیں ہوئے اور مختلف حیلو ں بہانوں سے سارا سارا دن ڈی ایس پی کے دفتر بٹھائے رکھاکہ پولیس اہلکارآئیں گے تو آپ کی انکوائری مکمل کر دی جائیگی۔ 4 روز سے میں چشم دید گواہوں سمیت حصول انصاف کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھارہی ہوں، اس حوالے سے عوامی و سماجی حلقوں نے ڈی پی او سے مطالبہ کیاہے کہ نفرت جرم سے ہونی چاہیے نہ کہ اللہ کی پیدا کی گئی مخلوق سے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں