اخبارات میں وزیر امور کشمیر کے گلگت گا بلتستان بارے چھپنے والے بیان کو مسترد کرتے ہیں

Spread the love

رپورٹ سید آ ل محمد
نوٹنگھم۔۔۔۔۔۔ لبریشن فرنٹ کےزونل صدر سید تحسین گیلانی نے گلگت بلتستان کوصوبہ بنانے کےخبروں کے بعدموقف اختیارکرتے ہوئے کہاکہ اخبارات میں وزیر امور کشمیر کے گلگت گا بلتستان بارے چھپنے والے بیان کو مسترد کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان منقسم ، متنازعہ و محکوم ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبت ہا کا حصہ ہے۔ ہم حکومت پاکستان پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ حقوق کی آڑ میں اس محکوم و منقسم ریاست کے ٹکڑے کر کے قبضہ کرنا باشندگان ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبت ہا کو ہر گز قبول نہ ہو گا۔انہوں نے کہاکہ
حکومت پاکستان باشندگان ریاست کی نظروں میں خود کو مودی حکومت کے برابر لانے کے بجائے گلگت بلتستان کے لگ بھگ دو ملین باشندوں کا احساس محرومی دور کرنے اور انکو معاشی ، سماجی و سیاسی پسماندگی سے نکالنے کیلئے مندرجہ ذیل اقدامات کرے ۔گلگت بلتستان کی مقامی حکومت کو اندرونی طور پر ( سیاسی، معاشی اور انتظامی لحاظ سے) مزید بااختیار بنایا جائے ۔
گلگت بلتستان کے وسائل اور زمین پر اس خطے کے باشندوں کا حق ملکیت تسلیم کیا جائے ۔

گلگت بلتستان کی زمین اور وسائل استعمال میں لاتے ہوئے بین الاقوامی قوانین اور مسلمہ جمہوری و اخلاقی اصولوں کے مطابق ان وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی مقامی حکومت کے ذریعے وہاں کے مقامی باشندوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے ۔
۔
گلگت بلتستان میں تعلیم ، صحت، سیاحت اور ذرائع روزگار کے دیگر شعبوں کو ترقی دی جائے۔

سی پیک اور دیامر ڈیم کے منصوبوں میں مقامی حکومت کے ذریعے مقامی باشندوں کو باقاعدہ فریق تسلیم کیا جائے ۔

گلگت بلتستان میں باشندہ ریاست قانون کو فی الفور بحال کیا جائے اور گزشتہ پچاس سالوں کے دوران غیر مقامی باشندوں کو جاری کیے گئے ڈومیسائلز منسوخ کیے جائیں ۔

گلگت بلتستان میں بابا جان ، افتخار کربلائی اور دیگر سیاسی اسیران کو رہا کر کے تمام غیر انسانی اور کالے قوانین کا خاتمہ کیا جائے ۔

گلگت بلتستان کی سپریم کورٹ میں مقامی ججز تعینات کیے جائیں۔

گلگت بلتستان کی ملازمتوں میں غیر مقامی افراد کی تعیناتی بند کی جائے اور تمام لینٹ افسران واپس کیے جائیں ۔

گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ سیاست کا خاتمہ کیا جائے.

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے درمیان اور سکردو و کارگل کے درمیان زمینی راستہ بحال کیا جائے ۔

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی مشترکہ حکومت ( مشترکہ انتظام ) تشکیل دینے کے اقدامات کیے جائیں۔

مسئلہ ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبت ہا کے حتمی ، منصفانہ اور اقوام متحدہ کی 13 اگست 1948 کی قرارداد کے تحت تجویز کردہ حل کیلیے عالمی برادری کی نگرانی میں بامقصد، عملی اور نتیجہ خیز مزاکرات و اقدامات کا آغاز کیا جائے ۔

سید تحسین گیلانی
صدر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یو کے زون

Please follow and like us:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں