جہلم شہرو ملحقہ علاقوں میں گداگروں کی یلغار

Spread the love

جہلم(چوہدری عابد محمود +دانیال عابد چوہدری)جہلم شہرو ملحقہ علاقوں میں گداگروں کی یلغار، شہری پریشان، گداگروں میں زیادہ تعداد بھکارنوں و بچوں کی ہے جو حلیہ سے دوسرے اضلاع کے معلوم ہوتے ہیں، بھکارنیں جگہ جگہ شہریوں کا پیچھا کر کے زبردستی بھیک کا مطالبہ کرتی ہیں جبکہ کم سن بچوں کو جعلی معذور بنا کر یا ذخمی ظاہر کر کے اہم مقامات پر بٹھادیتی ہیں ان دنوں بھکاریوں کی بڑی تعداد نے جہلم شہر کے لاری اڈا،ریلوے روڈ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، جادہ سمیت شہرکے مختلف چوک چوراہوں، بازاروں کا رخ کر لیا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کے لئے گھروں میں آرام کرنا،دکانداروں کا دکانداری کرنا، نمازی افراد کا عبادت کرنا، مسجدوں سے نکلنا، شاپنگ کرنا اور پیدل چلنا عذاب بن کر رہ گیا ہے شہر بھر کی چھوٹی بڑی گلیوں، بازاروں، سڑکوں،چوک، چوراہوں، مسجدوں، ہسپتالوں، مارکیٹوں بس اسٹینڈز پر بھکارنوں کے گھیراؤ کی وجہ سے شہری اور راہگیر شدید ذہنی اذیت کا شکار نظر آتے ہیں اس کے برعکس قانون نافذ کرنے والے ادارے بھکارنوں، بھکاریوں کے سدباب کے لئے اقدامات کرنے کی بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں دوسری جانب گداگری ایکٹ موجود ہونے کے باوجود اس پر بھی کہیں عملدرآمد نظر نہیں آتا،شہریوں پر دھاوا بولنے والی گدا گر خواتین میں کمسن بچیوں اور نوعمر لڑکیوں سمیت عمر رسیدہ خواتین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بھیک مانگنے کے نئے طریقے ایجاد کر رکھے ہیں خواتین کی اکثریت شیر خوار بچوں کو گود میں اٹھا کر بچوں کی کئی روز کی بھوک یا مہلک مرض میں مبتلا ہونے کا حوالہ دے کر اور دیگر مختلف حربے استعمال کرتی اور بھیک وصول کئے بغیر پیچھا نہیں چھوڑتیں، شہریوں نے ڈی پی او سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں