جہلم تاریخ کے آئینے میں

Spread the love

چوہدری زاہد حیات
اس سرزمین کا نام جہلم کس طرح پڑا؟ اس کے پیچھے کئی روایات اور کئی کہانیاں ہیں جن کا مختصر جائزہ یہاں پیش خدمت ہے۔
جہلم ایک تاریخی اور عسکری ضلع ہے جس کی تاریخ کی حدیں قبل مسیح تک پھیلی ہوئی ہیں۔جہلم کے نام کے بارے میں تاریخ دانوں کی مختلف آراء ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ جہلم کا نام پہلے’’جلہم ‘‘ تھا۔’’ جل‘‘ کا مطلب پانی اور’’ ہم ‘‘ کا مطلب ٹھنڈا ور میٹھاہے’’ جلہم ‘‘ سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔
جبکہ بعض مورخوں نے’’جہلم ‘‘ کی ایک وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ جب دارا اعظم اپنی فتح کے جھنڈے گاڑتا ہوا دریائے جہلم کے کنارے واقع ایک مقام پر پہنچا تو اس نے اپنا پرچم وہاں نصب کر دیا اور اسے’’ جائے علم ‘‘ یعنی’’ پرچم کی جگہ ‘‘ قرار دیا۔ یہ لفظ کثرت استعمال سے’’ جہلم ‘‘ ہو گیا اور جس مقام پر دارا نے اپنا پرچم نصب کیا تھا وہ جگہ اب آباد ہے اور’’ دارا پور ‘‘ کے نام سے معروف ہے جو بجوالہ کلاں کے نزدیک پنڈدادنخان روڈ پر واقع ہے۔ اسی مقام سے آگے’’دلاور ‘‘ کا تاریخی گاؤں ہے جہاں مؤرخین کے مطابق سکندر اعظم کے بسائے ہوئے شہر بوکفالیہ کے آثار ہیں۔
(ڈسٹرکٹ گزٹیئر جہلم)
(تذکرۂ جہلم، صوفی محمد الدین زارؔ)
ایک اورروایت مطابق حضرت سعد بن ابی وقاص۲ کے بھائی حضرت سعید بن ابی وقاص۲ کو دیگر صحابہ کرامؓ کے ساتھ صوبہ سنکیانگ (چین )میں تبلیغ ِ اسلام کے لئے بھیجا گیا۔ وہ سفر کی منازل طے کرتے ہوئے جب جہلم شہر کے سامنے پہنچے تو چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔اس کی چاندنی میں انھوں نے اس شہر کا عکس دریا کے جھلملاتے پانی کی سفید چادر پر دیکھا تو بے ساختہ فرمایا۔ھَذا جھِیْلُم ‘‘اور پھر ان کے یہ الفاظ امر ہوگئے اور ان الفاظ نے اس جگہ کو’’جہلم ‘‘ کا نام دے دیا۔
(علامہ عبدالطیف قادری)
ایک حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ انگریزی میں جہلم کے ہجے’’جہلم ‘‘ نہیں بلکہ’’جھیلم ‘‘ ہیں یعنیJhelumجبکہ جہلم کے ہجےJehlumہونے چاہئیں۔
(ڈسٹرکٹ گزٹیئر جہلم)
احمد شاہ ابدالی کی ڈائری میں جہلم کو’’ جھیلم ‘‘ اور کھاریاں کو’’خاریان ‘‘لکھا گیا ہے۔
(قلمی ڈائری مملوکہ پروفیسر احمد حسین قریشی قلعداری)
ایک روایت یہ بھی ہے کہ’’جہلم ‘‘ یونانی زبان میں ایک چھوٹے نیزہ نما ہتھیار کو کہا جاتا ہے اور چونکہ یونانی سپاہیوں نے راجہ پورس کا مقابلہ انہی نیزوں سے کیا تھا اس لئے اس مقام کا نام’’جہلم ‘‘ ہوگیا۔
(تذکرۂ جہلم، صوفی محمد الدین زارؔ)
نیز جہلم کا شہر اس وقت دریائے جہلم کے مغربی کنارے پر واقع ہے جب کہ اس دور میں یہ شہر دریا کے مشرقی کنارے پر تھا جہاںا س وقت سرائے عالمگیر آباد ہے اور دریائے جہلم کے کنارے کی آبادی آج بھی ’’ پرانی جہلم‘‘ کے نام سے پکاری اور لکھی جاتی ہے۔ نیز جہلم کا علاقہ کھاریاں کی پبی تک پھیلاہوا تھا اور میرپور بھی اس کی حدود میں تھا جسے بعد ازاں گلاب سنگھ کو دے کر کشمیر کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس کا ایک بڑا ثبوت پتن گٹالی یا گٹالیاں ہے جو اس دور میں دریا سے پار تھا اور پتن اور جہلم کے درمیان دریا حائل تھا۔ اس سے آگے کھڑی شریف کا علاقہ تھا اور عارف کھڑی اسی وجہ ’’ میاں محمد بخش جہلمی‘‘ کہلاتے تھے۔
(انٹرویو پروفیسر چوہدری فضل حسین)
حافظ محمد الدین مالک کی کتاب ’’ قرابا دین پنجابی‘‘ کے اختتام پر لکھتے ہیں:
باعث اس کتاب دا کالو آہا پٹھان
چھچھ ہزارہ اوسدا جمن بھوم مکان
آیا پس فقیر دے وچہ موضع سموال
اوسنوں پڑھنے طب دا آہا شوق کمال
کھڑی کڑیالی پرگنہ جہلم پتن پاس
اٹھ ہک کوہ شمال ول بجھ عاجز دا واس
باراں سے تے ہور پنجاہ ہجری سنہ تمام
ترے مہینے اوپر دن گذرے ہوئی تم کلام
ہردم منگاں رب تھیں کر امید احسان
نال ایمان سلامتی چھوڈاں ایہ جہان
( قرابا دین پنجابی، مطبع مصطفائی لاہور ص99 مملوکہ میاں محمد ارشدقادری)
ان اشعار سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ علاقہ سموال اور’’ کھڑی‘‘ پرگنہ جہلم میں تھے۔
اسی صفحہ پر اشعار کے اختتام پر مصنف کا اجازت نامہ ہے جس کے نیچے ’’ حکیم حافظ محمد ساکن سموال علاقہ جہلم‘‘ لکھا ہے۔
اسپ سکندری یعنی سکندرِ اعظم کا گھوڑا
ایک عام غلط فہمی پیدا ہو چکی ہے کہ’’جہلم ‘‘ا سکندرِ اعظم کے گھوڑے کانام تھا حالانکہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔۔ا سکندر اعظم کے گھوڑے کا نام’’بیوک فالس ‘‘ تھا جسے’’بیوسی فالا ‘‘ بھی لکھا جاتا ہے۔ یہ گھوڑا سکندر اعظم نے تیرہ برس کی عمر میں حاصل کیا تھا۔ گھوڑوں کا تاجر فیلونکس اس گھوڑے کے تیرہ ٹیلنٹ مانگ رہاتھا مگر کوئی اس گھوڑے کو رام نہ کر سکا تب سکندر نے گھوڑے کو رام کرلیا اور اسے اپنے لئے لے لیا۔بیوک فالس کا مطلب ’’ بیل کے سر والا ‘‘ ہے۔یہ گھوڑا تھسلی نسل کا تھا۔جب سکندر نے اس گھوڑے کو رام کرلیا تو اس کے باپ نے کہا تھا:
’’ میرے بیٹے! تمہارا یہ کارنامہ دیکھ کر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مقدونیہ کی ریاست تمھارے لئے بہت چھوٹی ہے۔‘‘
(پلوٹارک)
یہ گھوڑا355ق م سے326ق م تک سکندر کے ساتھ رہا اور سرزمین جہلم اس گھوڑے کی قبر بنی۔مؤرخین کے مطابق موت کے وقت اس گھوڑے کی عمر تیس سال تھی جو اوسط عمر ہے تاہم حقیقت یہ کہ یہ گھوڑا ’’ہائیڈاسپس ‘‘یعنی ’’جہلم میں لڑائی‘‘ کے وقت زخمی ہو کر مرا تھا۔ سکندر کے نزدیک یہ گھوڑا کسی ہیرو سے کم نہیں تھا اور وہ اس کی موت کا تصورتک نہیں کرسکتا تھا۔
اس گھوڑے کو لڑائی کے دوران راجہ پورس کے بیٹے نے اپنے زہر میں بجھے ہوئے برچھے سے گھائل کردیا تھا۔ سکندر نے اس بہادر راجکمار کو موت کے گھاٹ اتار دیا تاہم زخمی گھوڑا بھی جانبر نہ ہوسکا۔ سکندر نے اپنے چہیتے گھوڑے کو ’’دلاور‘‘ کے مقام پر دفن کرایا اورآبادی کا نام’’ بوکفالیہ ‘‘(اسکندریہ) رکھ دیا۔ اسی نسبت سے جہلم کا ایک پرانا نام بوکفالیہ بھی پرانی کتابوں میں ملتا ہے۔دلاور کی بستی جس بلند ٹیلے پر آباد ہے اس کے نیچے تاریخ کے متعدد سربستہ راز دم سادھے لیٹے ہوئے ہیں مگر کھدائی نہ ہو پانے کی وجہ سے یہ راز ظاہر نہیں ہوسکے لیکن عہد انگریزی میں یہاں سے سکندر کے چہیتے گھوڑے ’’ بیوسی فالا‘‘ کی باقیات اور اس کے ساتھ دفن کیے گئے مجسمے برآمد ہوئے تھے جو اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ سکندر نے اس مقام پر کوئی بستی بسائی تھی۔
اہل گجرات ہم قافیہ ہونے کی وجہ سے موجودہ پھالیہ(منڈی بہاؤالدین ) کو بوکفالیہ سمجھتے ہیں تاہم سکندر نے جس مقام کو’’بوکفالیہ ‘‘ کا نام دیا تھا اس کا قدیم نام اودھی نگر تھا

کچھ تاریخی حقائق یہ بھی کہتے ہیں
’’یہ ضلع اضلاع پنجاب سے قسمت راولپنڈی(ڈویژن) کے ماتحت ہے اور لاہور دارالخلافت پنجاب سے ایک سودو میل کے فاصلہ پر نسبت گوشہ شمال و غرب واقع ہے۔ عملداری سرکار انگریزی سے پہلے صدر مقام اسکا پنڈدادنخان کہا جاتا تھا۔ چنانچہ عملداری سرکار انگریزی سی ۱۸۵۰ تک صدر مقام پنڈدادنخان ہی رہا اور ضلع پنڈدادنخان لکھاجاتا تھا۔ لیکن یکم اگست ۱۸۵۰ء سے صدر مقام تبدیل ہو کر حسب تجویزبو بن بورنگ صاحب بہادر بسبب واقع ہونے لب سٹرک جرنیلی لاہور، پشاور کے جہلم صدر مقام مقرر ہوا اور قصبہ جہلم دریائے جہلم کے کنارہ پر واقع ہونے کے باعث سے جہلم کہلاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں