سنٹرل جیل میں بھتہ مافیا کی کارروائیاں جاری۔ قیدیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا

Spread the love

ساہیوال(آصف ندیم سے)
سنٹرل جیل میں بھتہ مافیا کی کارروائیاں جاری۔ قیدیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ سزائے موت کے قیدی کو بھتہ دینے سے انکار مہنگا پڑ گیا۔ اسسٹنٹ سپرٹنڈنٹ رفیق گجر نے 26سالہ اعجاز حیدر کو شدید زخمی کر دیا۔ تشویشناک حالت میں جیل ہسپتال منتقل۔ زخم بگڑنے پر قریب المرگ قیدی گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال منتقل۔ ورثا کی شکایت پر عدلیہ کی برہمی۔ جیل حکام نے تیکھے سوالات سے گھبرا کر انکوائری کرنے والے جج پر عدم اعتماد کر دیا۔ قیدی پر تشدد نہیں کیا، باتھ روم میں پھسلنے سے ٹانگ ٹوٹ گئی۔جیل حکام کا موقف۔ تھانہ قبولہ میں درج قتل کے مقدمہ 495/13میں سزائے موت پانے والے 26سالہ قیدی حیدر اعجاز پر جیل حکام کا وحشیانہ تشدد۔ ٹانگ اور بازو ٹوٹ گئے۔ گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال میں زندگی بچانے کی کو ششیں۔ قیدی حیدر اعجاز کے ورثا کے مطابق اسٹنٹ سپرٹنڈنٹ حاجی رفیق گجر اور حبیب سندھو نے حیدر اعجاز کو بھتہ نہ دینے پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ہڈیاں توڑ ڈالیں۔ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا قیدی کے زخمی جسم پر ٹھڈے برسائے گئے۔ حالت بگڑنے پر جیل ہسپتال میں 38دن تک رکھا گیا۔ زخم بگڑ جانے پر سرکاری ہسپتال منتقل کر دیا۔ ورثا کی شکایت پر ایڈیشنل سیشن جج منیر گل کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا۔ عدالت نے جیل حکام کے موقف سے اتفاق نہیں کیا جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ قیدی حیدر اعجاز غسل خانے میں پاوں پھسل جانے سے گر کر ٹانگ اور بازو تڑوا بیٹھا۔ چکنا چور ہڈیوں کو دیکھنے کے بعد عدالت کی برہمی اور حقائق تک پہنچنے کی جستجو سے خوفزدہ جیل حکام نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو انکوائری افسر کی تبدیلی کے لیے درخواست دے ڈالی۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے جیل حکام کی درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج عارف رضوان کو نیا انکوائری افسر مقرر کر دیا ہے۔ پتہ چلا ہے کہ قیدی حیدر اعجاز کی ٹانگ اور بازو بھاری بوٹوں کے ٹھڈے مارنے سے ٹوٹے ہیں۔ تشدد پسند عملہ ٹوٹی ہڈیوں پر ضربیں لگاتا رہا۔ گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمی قیدی کے زخم بری طرح بگڑ چکے ہیں۔ زخمی کی جان بچانے کے لیے فوری آپریشن کر دیا گیا ہے۔ مضروب کی پسلی سے ہڈی نکال کر ڈال دی گئی ہے۔ قیدی کے ورثا کے مطابق جیل حکام مضروب حیدر کو بیان بدلنے پر مجبور کر رہے ہیں بصورت دیگر جسم کی باقی ہڈیاں بھی توڑ دینے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ورثا نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، چیف سیکرٹری پنجاب، ہوم سیکرٹری، وزیر جیل خانہ جات اور آئی جی جیل خانہ جات سے کارروائی اور دادرسی کا مطالبہ کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں