بکوٹ ایک مثالی گاوں

Spread the love

تحریر-سہیل تنویر
آج آپ کو ضلع ایبٹ آباد کے ایک خوبصورت گاوں بکوٹ سے متعارف کرواتے ہیں. آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان بہتے ھوئے خوبصورت دریائے جہلم کے کنارے پہ واقع اس گاوں کی آبادی تقریباً بیس ھزار نفوس پہ مشتمل ھے. کسی زمانے میں یہاں کے لوگوں کا بنیادی زریعہ معاش زراعت تھا مگر بنیادی سہولتوں کے فقدان کے پیش نظر لوگ آہستہ آہستہ اپنی زمینوں کو بنجر چھوڑ کہ یہاں سے شہروں کیطرف نقل مکانی کرتے گئے اور یوں یہ خوبصورت گاوں جس کے کھیت چاول، گندم، مکئ جو اور کئ قسم کی سبزہوں اور پھلوں سے لہلہاتے تھے بنجر ھونا شروع ھوگئے.
پاکستان بننے سے لیکر آج تک کسی بھی حکومت نے اس علاقے کی محرومیوں کو دور کرنا تو درکنار ان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھنا بھی گوارہ کرنا مناسب نہیں سمجھا. اور نہ ہی کبھی کسی نے یہ اندازہ کرنا گوارہ سمجھا کہ یوں بکوٹ اوراس جیسے سینکڑوں نہیں ھزاروں خوبصورت علاقوں کو نظر انداز کرنے سے ھم نہ صرف اپنی زمینیں بنجرر کرتے جا رھے ہیں بلکہ شہری آبادی پر بھی ایکسٹرا بوجھ ڈالتے جا رھے ھیں.
کسی بھی علاقےکے مکینوں کو اپنے ہی علاقے میں رکھنے کے لئے صرف چند بنیادی سہولتوں کی ہی تو ضرورت ھوتی ھے. جس میں صحت کے لئے ہسپتال، پینے کے لئے صاف پانی، تعلیم کے لئے سکول اور سب سے بڑھ کر آمد ورفت کے لئے سڑک انتہائ ضروری اور بنیادی حقوق ھیں جسکی تمام تر زمہ داری ریاست کے سر ھوتی ھے.
گا وں کی سب سے منفرد بات جس کی مثال دنیا میں خال خال ہی ملے گی وہ یہ ھے کہ بیس ھزار کی آبادی کے اس گاوں نے ہمیشہ حکومتوں کے اس سوتیلی ماں جیسے رویے کو ہمیشہ اپنی تقدیر سمجھ کے نہ صرف برداشت کیا بلکہ ان کے منہ پہ چانٹا مارتے ھوئے ھر ایک سہولت کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت کام کیا جب بھی ضرورت پڑی گاوں کے فراخ دلوں نے دل کھول کے چندہ دیا اور ٓآج اس گاوں میں ھائ سکول بھی ھے، ھسپتال بھی ھے ٹیلی فون ایکسچینج بھی ھے پانی بھی گھر گھر میں ھے.گزشتہ دو تین سالوں میں پانی کی کی کئ اسکیمیں کروڑوں کا چندہ جمع کر کے بنائ گئیں. بہت سیے راستے چندہ کی رقم سے نہ صرف کشادہ کئے گئے بلکہ ان کو پختہ بھی کیا گیایہاں تک کہ زلزلہ سے متاثرہ مرکزی مسجد کو بھی گاوں کے لوگوں نے تقریباً دو ڈھائ کروڑ روپے جمع کر کے اپنی مدد آپ کے تحت دوبارہ تعمیر کیا. اسکے علاوہ اسی گاوں کی ایک ویلفئر فاونڈیشن نہ صرف اپنے گاوں کے پرائمری اور ھائ سکولز کو ھر سال ھزاروں مستحق طلبا؛ کومفت کاپیاں اور دیگر سٹیشنری مہیا کرتی ھے بلکہ دوسرے ملحقہ علاقوں کو بھی اسطسہولت سے مستفید کرتی ھے. مزید یہ کہ بیماروں کو بروقت ہسپتال منتقل کرنے کے لئے فاونڈیشن نے دو ایمبولینسوں کا بھی بندوبست کر رکھا ھے. یہ وہ چیزیں تھیں جن کو دیکھا دیکھی ملحقہ علاقے بھی متاثر ھوئے اور بکوٹ گاوں تمام علاقے کے لئے ایک مثال بننا شروع ھوا اب دیگر گاوں جن میں کھن اور بھن سرفہرست ھیں جہاں لوگوں نے لاکھوں جےچندےڈال کے اپنے راستے خود بنانا شروع کر دئے.
بکوٹ کے لئےسب سے مشکل کام سڑک تھا جس کے نہ ھونے سے گاوں والوں کو دوسرے شہروں اور علاقوں میں پہنچنا مشکل تھا کچا سا ایک جیپ کا رستہ تو تھا مگر نہ ھونے کے برابر. کبھی کسی انتہائ نگہداشت کے مریض کو شہر کے ہسپتال پہچانا پڑ جاتا تو امکان یہی ھوتا کہ مریض راستے میں ہی دم توڑ دے گا. کبھی بارشوں کہ وجہ سے لینڈسلائڈنگ ھو جائے تو گاوں میں نہ صرف کھانے پینے کی چیزوں کی سپلائ بند بلکہ اپنے ضلعی مرکز ایبٹ آباد تک پہنچنا محال جہان سب جانتے ہیں کورٹ کچہری کے لئے جانا آنا لگا رہتا ھے. زچگی کے مشکل ترین محلوں پہ کئ مائیں اپنے دوسرے بچوں کو بن ماں چھوڑ کہ دائ اجل ھوئیں. غرضیکہ صرف 11 کلومیٹر کی ایک سڑک نہ ھونے کی وجہ سے پورا گاوں ھر وقت سہما سہما سا رہتا تھا کہ خدا نخواستہ کچھ ایمرجنسی نہ پڑ جائے. اکتوبر 2005 کے زلزلے نے جو تباہی مچائ اس میں بھی سڑک نہ ھونے کی وجہ سے کئ کئ ہفتے گاوں تک راشن پانی نہ پہنچایا جا سکا. بلکہ کسی بھی امداد کو پہنچنے میں بہت وقت لگا تھا. یہاں تک کہ اساتذہ کرام جب تبدیل ھو کے یہاں آئیں تو وہ بھی بہت جلد اپنی تبدیلی کروا لیتے ہیں کیوںکہ ان کے لئے آنے جابے کا مسئلہ رہتا ھے ڈاکٹرز تو اس علاقے کو مہنہ نہیں لگاتے کیوںکہ سڑک کا نظام نہیں. دیگر سرکاری افسران بھی اسی طرح پہلو تہی کرتے ھیں.
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا لوگوں میں اپنی مدد آپ کا بے پناہ جزبہ ھے اور جتنی سہولیات اس وقت گاوں میں موجود ہیں وہ اسی جزبے کا شاخسانہ ہیں. لہزا سڑک کی اس محرومی اور ضرورت کو مد نظر رکھتے ھوئے نوجوانان بکوٹ نے اس سال اس سڑک کو اپنی مدد آپ کے تحت بنانے کی ٹھانی
شروع میں یہ ایک ناممکن سا کام لگتا تھا اور ایسا سوچا جا رھا تھا کہ جوان خون ھے چند ہفتوں میں زرا ٹھنڈا پڑ جائے گا اور بات آئ گئ ھو جائے گی لیکن سلام ھے ان نوجوانو‌ں پہ کہ جنہوں نے گرمیوں کے تپتے دنوں یا سردیوں کے ٹھٹرتے موسم یا بارش کی شدتوں کا احساس کیا ھو اور پورے سال میں ایک دن بھی رکے ھوں اور سلام ھے ان فراخدلوں کو کہ جنہوں نے اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کہ زرا بھی پرواہ کی ھو اور اپنا ھاتھ پیچھے کھینچا ھو. آج ما شا اللہ سڑک کا بیشتر حصہ تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچ چکا ھے. ان نوجوانوں اور ان جیسے جزبہ رکھنے والے دیگر پاکستانیوں کو حکومتی سطح پر حوصلہ افزائ کی سخت ضرورت ھے کیوںکہ یہ ملک اگر ترقی کرے گا تو اسی جزبے کی وجہ سے ترقی کر سکے گا.
ریاست ماں کے جیسے ھوتی ھے اور موجودہ حکومت اسی دعوے کہ اوپر قائم ھوئ تھی کہ یہ لوگوں کے حقوق پر ان سے انصاف کرے گی. لیکن ہمیشہ کی طرح ایسے لگتا ھے جیسے ریاست کا ترقی کا نقشہ ان دور دراز علاقوں تک پہنچتا ہی نہیں. اور اس پر طرہ یہ کہ یہاں کے منتخب نمائندگان بھی اپنے علاقے کی محرومیاں صاحبین اقتدار تک پہنچانے میں ہمیشہ ناکام رھے . جو کہ بزات خود ایک شرم کا مقام ھے. یہاں پہ ایک بات کا زکر کرتا چلوں کہ روزگار کے سلسلے میں گاوں کے اکثر لوگ اپنی زندگیاں خلیجی ممالک میں گزار رھے ہیں اور کئ محنت کے اس سفر میں اپنی زندگیاں تپتے صحراوں میں ھار بھی چکے ھیں. ترسیل زر کی شکل میں ملکی خزانے کو بھرنے کی ان لوگوں کوشش کیا کسی بھی حکومت کو اتنا شرم بھی نہیں دلاسکتی کہ ان لوگوں نے جہاں اپنے بچوں کو اپنے سے دور رکھ کے پڑھایا تاکہ وہ ریاست کے اچھے شہری بن سکیں وہاں ریاست کے کرنے والے کاموں کا بیڑا بھی خود اپنے کندھوں پہ اٹھایا. وہاں ریاست ایک چھوٹی سی سڑک جو کہ ان کا بنیادی حق ھے، بھی ان کو انکی مہربانیوں کے اعتراف میں بنوا کے نہ دے سکے؟
میری عوام الناس سے اپیل ھوگی کہ وہ ان نوجوانوں کے اس بڑے خواب کو پورا کرنے میں ان کا ساتھ دیں اسکے علاوہ اپنی حیثیت کے مطابق سوئ ھوئ کے پی کے حکومت اور وفاقی حکومت تک بھی ان سچے سپاہیوں کی داستان پہنچائیں تاکہ انھیں احساس ھو اور وہ ماں کے جیسا ھونا بن کےدکھا سکیں اور اس سڑک کو حکومتی سرپرستی میں پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں.
یہ وہی گاوں ھے جس کی ایک آبشار سنگم آبشارپورے پاکستان کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ھے مگر خراب راستوں کی وجہ سے اس خوبصورت سیاحتی مقام تک رسائ بعض اوقات مشکل ھو جاتی ھے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں