کشمیری ڈائسپورہ ، آزاد جموں وکشمیر کی حکومت ، سیاسی، حریت قیادت کو مل کر مستقبل کے چیلنجوں میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا

Spread the love

لندن(عارف چودھری)
وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ کشمیری ڈائسپورہ ، آزاد جموں وکشمیر کی حکومت ، سیاسی، حریت قیادت کو مل کر مستقبل کے چیلنجوں میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ، مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام نے لازوال قربانیوں کی داستان رقم کی ہے ، قوموں کی زندگی میں مشکل مرحلے آتے رہتے ہیں جن میں ثابت قدم رہنا چاہے، پاکستان کے عوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے چئیرمین راجہ نجابت حیس سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ڈائریکٹرجنرل جموں وکشمیر لبریشن سیل فدا حسین کیانی بھی ملاقات کے دوران موجود تھے۔ راجہ نجابت حسین نے وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کو برطانیہ / یورپ اور پاکستان میں اپنی تنظیم کی سرگرمیوں اور کشمیر کمپین کے لئے آئندہ کے پروگراموں سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم ریاست جموں وکشمیرراجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ ہر مرحلے پر یکجان ہو کر کشمیریوں کا ساتھ دیا ہے ، یوم یکجہتی کشمیر پر پاکستان کی تمام سیاسی قیادت کی طرف سے متفقہ پیغام دُنیا کو جانا چاہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیریوں کےحق خودارادیت کو دبانے اور انسانی تاریخ کے بدترین مظالم کے ذریعے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ختم کرنے کی کوششیں کی ہیں جن میں وہ بُری طرح ناکام رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں نے اپنے حق کےلئے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دی ہیں اورآئے روزدے رہے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ تحریک آزادی کشمیر جنوبی ایشیا کے امن کے تحریک ہے ۔ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کروانا ناگزیر ہے ۔ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کےلئے عملی اقدامات اٹھائے۔عالمی طاقتوں کو اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا چاہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ممالک مقیم کشمیریوں کا مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر اجاگر کرنے میں بڑا واضح کردار ہے جسے مزید موثر اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے راجہ نجابت حسین اور اُن کی تحریک کی ٹیم کے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے کام کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ وہ یورپ ، برطانیہ ار دیگر ممالک میں بھی مسئلہ کشمیر اپنے کام کو پہلے سے زیادہ قوت اور فعال انداز میں جاری رکھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں