کرونا وائرس کی نئی اقسام اور کاک ٹیل ویکسین

Spread the love

رپورٹ چوہدری زاہد حیات
امریکی سائنسدانوں نے معلوم کیا ہے ہے کہ اگر ایک سے زیادہ اینٹی باڈیز (ضد جسمیے) کو ایک ساتھ استعمال کی جائیں تو یہ کووِڈ 19 وائرس کی ان نئی اقسام کے خلاف بھی بہت مفید اور موثر ثابت ہوئیں ہیں تحقیق کے یہ نتائج بلاشبہ انسان کے لیے اچھی خبر ہے کیونکہ کرونا وائرس جس تیزی سے اپنی ہیت تبدیل کر رہا ہے وہ ایک تشویش ناک امر تھا جو حالیہ مہینوں کے دوران سامنے آئی ہیں۔
یاد رہے کہ کورونا وائرس کے علاج میں ’’اینٹی باڈی تھراپی‘‘ یعنی اینٹی باڈیز سے علاج کا تصور پچھلے ایک سال میں بہت کامیاب ثابت ہوا ہے
تاہم وہ اینٹی باڈیز جو ناول کورونا وائرس کی پرانی اقسام کو شکست دینے میں مفید پائی گئیں، وہ الگ الگ اس موذی وائرس کے خلاف زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکیں اور کرونا کو شکست دینے میں اس طرح کامیاب نہیں ہوئیں جس طرح کی امید تھی
اس پچیدہ مسلے کے حل کےلئے امریکی تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں نے مختلف اقسام کی اینٹی باڈیز ایک ساتھ ملا کر کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف آزمائیں تو نتائج کافی بہتر سامنے ائے
تجربہ گاہ میں زندہ انسانی خلیات پر انجام دیئے گئے ان تجربات کے امید افزاء نتائج برآمد ہوئے، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اینٹی باڈیز کی ’کاک ٹیل‘ نے کورونا وائرس کی پرانی اور نئی، ہر طرح کی اقسام کے خلاف بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
اگرچہ یہ ابتدائی تجربات ہیں لیکن طبّی ماہرین کو اعتماد ہے کہ عملی میدان میں بھی ایک سے زیادہ اینٹی باڈیز کا بیک وقت استعمال نہ صرف کورونا وائرس کی تمام موجودہ اقسام کے خلاف مفید رہے گا بلکہ یہ کورونا وائرس کی اُن اقسام کا مؤثر علاج بھی ثابت ہوگا جو ممکنہ طور پر آئندہ چند ماہ میں سامنے آسکتی ہیں۔ کیوں یہ وائرس آپنی ہیت بدل بدل کر حمل اور ہو رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں