ٹائیفائیڈ کے ٹیکوں سے پیدا ہونے والے خوف و ابہام کو دور کرنے کے لیےجہلم آگاہی مہم کا آغاز

Spread the love

جہلم(چوہدری عابد محمود +چوہدری دانیال عابد)جہلم ٹائیفائیڈ کے ٹیکوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے خوف و ابہام کو دور کرنے اور مہم کو کامیاب بنانے کے لئے یونیسیف، ڈبلیو ایچ او اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی جہلم کی طرف سے باقاعدہ طور پر آگاہی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی جہلم میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف، سرکاری محکموں کے افسران، ڈبلیو ایچ او، یونیسیف اور پی ایچ سی گلوبل کے نمائندہ نے شرکت کی۔تقریب کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ نے بتایا کہ ضلع جہلم میں ٹائیفائیڈ کے حفاظتی ٹیکوں کی مہم 14 جون سے 26 جون تک جاری رہے گی جس کے دوران 9 ماہ سے 15 سال کی عمر کے 1لاکھ 46 ہزار سے زیادہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔ اب یہ ویکسین توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے شیڈول میں شامل کر دی گئی ہے۔ٹائیفائیڈ کانجوگیٹ ویکسین ٹائیفائیڈ کی بیماری سے طویل عرصے کے لئے حفاظت فراہم کرتی ہے۔ یہ ویکسین قوت مدافعت بڑھاتی ہے اور بچوں کے لئے بہت موزوں ہے۔ اس کے استعمال سے نہ صرف ٹایئفائیڈ کے کیسز میں کمی بلکہ اینٹی بائیوٹک کے استعمال میں بھی کمی آئے گی اور ادویات کو مزاحمت کرنے والے کیسیز میں بھی کمی واقع ہو گی۔ مہم کے بعد یہ ٹیکہ چھوٹے بچوں کو شیڈول کے مطابق 9 ماہ کی عمر میں خسرہ کے ٹیکے کے ساتھ لگایا جائے گا۔ یہ ٹیکہ عمر کے حساب سے پٹھوں میں لگایا جاتا ہے۔ 9 ماہ سے دو سال تک کی عمر کے بچوں کو دائیں ران کے اوپر کے حصے میں اور دو سال سے زیادہ اور 15 سال تک کی عمر کے بچوں کو دائیں بازو کے اوپر کے حصے میں لگایا جائے گا۔ ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ نے کہا کہ ٹائیفائیڈ کی ویکسین ایک محفوظ ویکسین ہے اور اس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں