جیکب آباد میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے سول سوسائٹی کی جانب سے ”یونیورسٹی دو“ مہم جاری،

Spread the love

جیکب آباد(نامہ نگار) جیکب آباد میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے سول سوسائٹی کی جانب سے ”یونیورسٹی دو“ مہم جاری، مقامی سطح پر سوشل میڈیا پر ”یونیورسٹی دو“ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں گذشتہ تین سالوں سے یونیورسٹی کے قیام کے لیے سول سوسائٹی کی جانب سے شروع کی گئی ”یونیورسٹی دو“ مہم میں اب تیزی ہوچکی ہے، سول سوسائٹی کی جانب سے یونیورسٹی کے قیام کے لیے سوشل میڈیا پر ”یونیورسٹی دو“ کا ٹرینڈ چلایا جارہا ہے جو اس وقت سوشل میڈیا پر بہت تیزی سے چل رہا ہے جس میں ضلع بھرسے تعلق رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں حصہ لے رہے ہیں، جیکب آباد کے شہری حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ جیکب آباد میں شاہ عبداللطیف یونیورسٹی یا سندھ یونیورسٹی کا کیمپس قائم کیا جائے تاکہ تعلیم کے لحاظ سے سندھ کے سب سے پسماندہ ضلع کے نوجوان بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں، اس سلسلے میں ”یونیورسٹی دو“ مہم کے اہم اراکین سماجی تنظیم کمیونٹی ڈولپمنٹ فاؤنڈیشن کے سی ای او محمد جان اوڈھانو، سٹی فورم کے چیئرمین حماد اللہ انصاری، پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے رہنما ندیم قریشی، ایڈوکیٹ جی ایم سومرو،سماجی رہنما ندیم بہرانی، صحافی زاہد حسین رند، کمیونسٹ پارٹی کے کامریڈ گل مستوئی سمیت نصیب اللہ ہانبھی، عبداللہ مگسی، خادم اوڈھانو، گل بلیدی اور دیگر نے کہا کہ جیکب آباد میں گذشتہ تین سالوں سے یونیورسٹی کے قیام کے لیے مہم چلا رہے ہیں اور اس سلسلے میں حکومتی نمائندوں کو کئی بار آگاہ کیا اور انہیں درخواستیں دی کہ وہ جیکب آباد ضلع میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے کوشش کریں لیکن افسوس ہے کہ تین سال سے جاری اس مہم کا حکومتی نمائندوں پر کوئی اثر نہیں ہورہا اور انہوں نے کوئی کردار ادا نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ تین سال قبل جیکب آباد میں مہران یونیورسٹی کا کیمپس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کا نوٹیفکیشن بھی نکالا گیا تھا اور جیکب آباد میں اس کے لیے جگہ کا تعین بھی کرلیا گیا تھا لیکن پھر سیاسی مداخلت کی وجہ سے وہ یہاں سے مایوس ہوکر چلے گئے اور وہ کینسل ہوگیا، انہوں نے کہا کہ حکومت نے خود اعلان کیا ہے کہ سندھ کے ہر ضلع میں یونیورسٹیاں قائم کی جائیں گی تاکہ تعلیم کو عام کیا جائے حکومت کے ایسے اعلان کے بعد سندھ کے اکثر اضلاع میں یونیورسٹیوں کے کیمپس قائم کئے گئے لیکن جیکب آباد ابھی تک اس سے محروم ہے، انہوں نے کہا کہ جیکب آباد میں سرکاری اور پرائیوٹ کالجز سے ہر سال ایک اندازے کے مطابق 6 ہزار طلبہ و طالبات نکلتے ہیں لیکن یونیورسٹی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہوجاتے ہیں اکثر طلبہ و طالبات غربت کی وجہ سے شہر سے باہر یونیورسٹی کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتے اس لیے وہ بارویں جماعت پاس کرکے گھر میں بیٹھ جاتے ہیں چند ہی طلبہ ہونگے جو اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹی جاتے ہیں اگر جیکب آباد میں یونیورسٹی کا کیمپس ہوگا تو کالجز سے نکلنے والے تمام طلبہ باآسانی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں گے،انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کے حوالے سے ضلع جیکب آباد سندھ میں سب سے پسماندہ ضلع ہے جہاں کالجز سے ہر سال ہزاروں طلبہ و طالبات نکلتے ہیں لیکن ان میں سے یونیورسٹی جانے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے، انہوں نے کہا کہ جیکب آباد میں جنرل یونیورسٹی قائم کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں، ان کا کہنا تھا کہ ”یونیورسٹی دو” مہم میں سماجی تنظیموں کے کارکنان اور صحافی سب سے زیادہ حصہ لے رہے ہیں لیکن اس تمام مہم کے دوران افسوسناک بات یہ ہے کہ جیکب آباد کے سیاستدان اس مہم سے دور ہیں حالانکہ وفاقی وزیر محمد میاں سومرو اور صوبائی وزیر میر اعجاز حسین جکھرانی کا تعلق جیکب آباد سے ہے انہیں اس مہم میں حصہ لینا چاہئے تھا لیکن وہ اس سے باخبر ہوکر بھی بے خبر ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ جیکب آباد میں شاہ عبداللطیف یونیورسٹی یا سندھ یونیورسٹی کا کیمپس قائم کیا جائے تاکہ جیکب آباد کے غریب طلبہ و طالبات بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں