چیف جسٹس آف پاکستان کا قرعہ اندازی میں پلاٹ نکل آیا

Spread the love

چوہدری زاہد حیات :اسلام آباد
سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں: ’چیف جسٹس آف پاکستان کا قرعہ اندازی میں پلاٹ نکل آیا‘۔ کہیں کسی نے لکھا کہ؛’پانامہ کا فیصلہ دینے والے جج صاحبان کو قرعہ اندازی میں پلاٹ مل گئے‘۔ ایک پوسٹ میں لکھا تھا: ’پانامہ انکوائری کی نگرانی کرنے والے جج کو بھی پلاٹ سے نواز دیا گیا‘۔ ’تمام بڑے بیوروکریٹس پلاٹ حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں‘۔ان گمراہ کن اور نامکمل خبروں سے عام آدمی کو تاثر یہ ملتا ہے کہ شاید یہ قرعہ اندازی کوئی انعامی لاٹری تھی جسکا چیف جسٹس اور دیگر جج صاحبان نے ٹکٹ خریدا ہوا تھا اور اب قرعہ انکے نام نکل آیا۔ ایک غلط تاثر یہ بھی دیا جا رہا ہے کہ شاید یہ قرعہ اندازی چھپ چھپا کر کی گئی اور عام آدمی کو اسکی ہوا بھی نہ لگنے دی گئی تاکہ صرف انہی افراد کو پلاٹس مل سکیں جنہیں حکومت نوازنا چاہتی تھی،حا لانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے،یہ غلط تاثر وہ لوگ پھیلا رہے ہیں جو یا تو اس پلاٹ کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار سے واقف نہیں یا پھر وہ عدلیہ، افسر شاہی کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے تمام ملازمین کے لیئے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ فاونڈیشن کے نام سے ایک ادارہ کئی برسوں سے قائم ہے جسے گزشتہ سال ہی اتھارٹی کا درجہ دیا گیا۔ یہ اتھارٹی وزارت ہاوسنگ کے تحت کام کرتی ہے۔ وفاقی حکومت کے گریڈ ایک سے بائیس تک کے تمام حاظر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین سینیارٹی کی بنیاد پر ممبر شپ لیتے ہیں،یہ اتھارٹی بڑے شہروں میں مختلف رہائشی اسکیمز کا اجراء کرتی ہے۔ ملازمین کی باقاعدہ میرٹ لسٹیں مرتب کی جاتی ہیں، بلحاظ عمر اور بلحاظ دورانیہ سروس میرٹ لسٹ پر جسکا نمبر آ جاتا ہے اسے اسکی گریڈ اورکیٹیگری کے مطابق پلاٹ الاٹ کر دیا جاتا ہے۔ ایک سکیم میں میرٹ پر آنے والے ملازمین کو کہاں اور کون سا پلاٹ الاٹ کرنا ہے اس مقصد کے لیئے قرعہ اندازی کی جاتی ہے، جس کو سوشل میڈیا کے افلاطون لاٹری کا نام دے رہے ہیں۔انہیں نہیں معلوم کہ ہر کسی کے نام کا قرعہ نہیں لگتا اس کے لیئے باقاعدہ ممبر شپ لینی پڑتی ہے، میرٹ لسٹ پر آنے کے لیئے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے تب ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے تک آپ قرعہ اندازی کے اہل ہوتے ہیں۔ اس وقت اس ہاوسنگ اتھارٹی کے پاس رجسٹرد ممبران کی تعداد دو لاکھ سے بھی ذیادہ ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پلاٹ کے حصول کے لیئے دلی نزدیک نہیں ہے۔ میرٹ لسٹ تک ہر ممبر کی رسائی ہوتی ہے اور وہ جان سکتا ہے کہ اس کے اور پلاٹ کے درمیان کتنا فاصلہ ہے، اسی اوپن میرٹ لسٹ کے باعث کسی کو آوٹ آف ٹرن پلاٹ الاٹ نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر ایسا ہو تو حقدار ممبر اپنی حق تلفی پر عدالت سے رجوع کر لیتا ہے،اس لیئے آوٹ آف ٹرن پلاٹ کی الاٹمنٹ کا خطرہ کم از کم ہاوسنگ اتھارٹی لینے کو تیار نہیں ہوتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں