عمران خان اور اس سے پہلے والی حکومت کی کارکردگی دیکھنے کے بعد پاکستان کی عوام اب ملک میں نوجوان قیادت چاہتی ہے

Spread the love

کشمور / کندھ کوٹ (31 اگست 2021) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں فی الفور صاف و شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اور اس سے پہلے والی حکومت کی کارکردگی دیکھنے کے بعد پاکستان کی عوام اب ملک میں نوجوان قیادت چاہتی ہے۔ بہت جلد دیکھیں گے، لوگ بڑی تعداد میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونا شروع ہوں گے۔ کشمور میں مزاری ہاوَس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ جس طرح عوام ان کا والہانہ انداز میں استقبال کر رہے ہیں، اس سے ثابت ہے کہ عوام پاکستان پیپلز پارٹی کو چاہتے ہیں۔ پاکستان کے لوگوں کو اب پی پی پی جیسی عوام دوست جماعت چاہتے ہیں، جو انہیں ریلیف دے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب تیار ہیں، انہیں اب نوجوان قیادت چاہیئے، پاکستان پیپلز پارٹی کی معاشی پالیسیاں، روزگار اور مہنگائی میں کمی چاہیئے۔ پاکستان میڈیا ڈولپمینٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے معاملے پر بات کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کے اس اقدام کو مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے مذکورہ اقدام سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، اظہارِ خیال اور آزادیِ صحافت کو تو نقصان ہوگا، لیکن ان بچوں کا بھی نقصان ہوگا، جو سوشل میڈیا کے ذریعے بلاگز چلاتے اور خبریں پہنچاتے ہیں۔ حکومت ان بچوں کا روزگار بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، مذکورہ قانون اور میڈیا پر پابندیاں لگانی کی کوشش کی مذمت کرتی ہے۔ میڈیا کے دوستوں سے وعدہ کرتے ہیں، اس معاملے کو پارلیمان، سینیٹ میں اٹھائیں گے، عدلیا میں جانا پڑے گا، تو وہاں بھی جائیں گے۔ ہمارے لیئے یہ کالا قانون ہے، اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔ پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ میری یہ ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ بند کمرے میں رہنے کی بجائے عوام کے درمیان میں رہوں، اور اس سلسلے میں وہ مختلف علاقوں کا دورہ بھی کرتے رہتے ہیں، تاکہ وہاں کے حالات کا بذاتِ خود جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک سیاسی جماعت ہے، اس کی سیاست کو بریک نہیں لگتی، اور وہ مسلسل الیکشن کی تیاریاں کرتی رہتی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک میں جلد از جلد صاف و شفاف انتخابات کرائے جائیں۔ یہ دھاندھلی زدہ حکومت ہے، جس کو ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔ عوام کو بجلی کے بل، کھانے پینے کی اشیاء کے بل، مہنگائی کی صورت اور پئٹرول کی قیمت کی شکل میں موجودہ حکومت کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی نااہلی و نالائقی کا بوجھ پاکستان کی عوام کو نہیں ڈالنا چاہیئے۔ پی ڈی ایم کی سرگرمیوں کے متعلق سوال کے جواب میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک تو بہت پہلے شروع ہونی تھی، لیکن میں دعاگو ہوں کہ سیاسی سرگرمیوں سے پی ٹی آئی حکومت کو جو بھی ہو سکے، نقصان ضرور پہنچے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں تھوڑا سا کنفیوژن ہے کہ پی ڈی ایم کی جانب سے پہلے بھی احتجاجی تحریک کی تیاریاں ہوئی تھیں، لانگ مارچ کے اعلان بھی ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے عمران خان کو اس کی اپنی اسمبلی میں شکست دی تھی، تب ہمارے دوستوں نے عین اس موقعے پر لانگ مارچ کو یہ بول کر ملتوی کیا تھا کہ استعیفوں کے بغیر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر اب وہ لانگ مارچ کا اعلان کر رہے ہیں، تو امید ہے استعیفے دے کر ہی احتجاجی مارچ پر نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا اعلان کرکے مُکر جانا اپوزیشن کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں مل کر کام کر رہی ہوں یا انفرادی طور، دونوں صورتوں میں ضروری ہے کہ ان کی سوچ اور موقف واضح ہو۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نشاندہی کرتے کہا کہ جب تک پی ڈی ایم نے پی پی پی کی تجاویز پر عمل کیا، اپوزیشن کی جیت اور حکومت کو شکست ملتی رہی۔ فاٹا سے پشین، پشین سے کراچی، اور کراچی سے ڈسکہ تک ہم جیت رہے تھے۔ اپوزیشن سنجیدہ تھی، عوام ہماری بات مان رہے تھے، اور ہم حکومت کو شکست دے رہے تھے۔ نیشنل اسمبلی میں حکومت کو شکست دلا کر، ہم نے اسی دن حکومت کو ختم کردیا تھا۔ لیکن اس کے بعد جب کنفیوژن سامنے آنے لگا، ہر ایک کا اپنا بیانیئہ تھا، تو پاکستان کی عوام نے ان کنفیوژنز کو مسترد کردیا ہے۔ اگر اپوزیشن سنجیدہ ہوجائے، اور پہلے بزدار اور اس کے بعد عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لے آئے، تو ان سلیکٹڈ حکمرانوں کو ہٹایا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے ناراض ارکان سے روابط کے متعلق سوال کے جواب میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پارٹی نے تاحال اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، لیکن پارٹی کو کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا موجودہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے، وہ سیاسی انتقامی کروانے، نیب کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے اور عزت دار لوگوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنانے میں سنجیدہ ہے۔ دریں اثناء، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سابق صوبائی وزیر سردار سلیم جان مزاری سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی۔ اس سے قبل چیئرمین پی پی پی نے پارٹی کے رکنِ سندھ اسمبلی میر عابد سندرانی سے ان کے بھائی مرحوم ماجد خان سندرانی کے انتقال پر تعزیت کی۔ مزید برآن، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کندھ کوٹ میں سردار محبوب بجارانی سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی۔ دوسری جانب، نوڈیرو سے ضلع کشمور کندھ کوٹ کے سفر کے دوران چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا جگہ جگہ والہانہ استقبال کیا گیا۔ ہر جگہ شہریوں نے پی پی پی چیئرمین کی گاڑی پر گلپاشی کی، اور جیالے بجاں تیر بجاں کی دُھن پر رقص کرتے نظر آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں