ہیومن رائٹس کمیشن پیلٹ فارم پر ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں کہ اس کام کو مشن سمجھ کر آگے لے کر چلوں,کرنل تاج سلطان

Spread the love

میں نے ہمیشہ اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا ہے۔کرنل تاج سلطان کا اردو گلوبل یوکے برطانیہ کو انٹرویو

_انٹرویو بائے جاوید راہی۔

کسی بھی ملک یا معاشرے میں ”محافظین“ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔خاص طور پر جب یہ “محافظین”نیک نیتی اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوں تو پھر معاشرہ یا ملک میں امن و سکون کی فضا قائم ہوتی ہے۔اس سلسلے میں سیکیورٹی اداروں بالخصوص ”افواج“ کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ان کے مصلحت پسندانہ اقدامات سے معاشرے میں موجود شر پسند عناصر کا خاتمہ بھی ہوتا ہے اور نظم و ضبط کی صورتحال بھی بہتر ہوتی ہے۔اداروں میں موجود ایسے تمام افراد مُلک و قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں جو اپنی ڈیوٹی خلوص نیت سے ادا کرتے ہیں۔کرنل(ر) تاج سلطان بھی ایک ایسی ہی شخصیت کے حامل انسان ہیں جنہوں نے اپنی تمام سروس کے دوران نہ صرف مُلک کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے بلکہ عوام الناس کی فلاح کے لیے بھی بہت سے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ انہوں نے پاک فوج کا حصہ بنتے ہی جب اپنی سروس کا آغاز کیا تو جذبہ حب الوطنی سے لیس ہو کر ہر قسم کے خطرات کا سامنا کرنے کے لیے سینہ سپر ہو گئے، دوران سروس مختلف مقامات پر اپنی ڈیوٹی انتہائی جانفشانی سے سرانجام دی۔کامیابی کے زینے پر چڑھتے چڑھتے بالآخر وہ کرنل کی حیثیت سے پاک فوج سے ریٹائرڈ ہوئے مگر ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ ان سے جدا نہ ہوا۔وہ آج بھی اپنی خدمات ملک کی بہتری کے لیے پیش کر رہے ہیں۔انسانی ہمدردی کے کچھ اوصاف اتنے سادہ اور الفاظی سے بے نیاز ہوتے ہوئے صرف اس مادی دنیا کی ضروریات کے حوالے سے اپنی پہچان بن جاتے ہیں۔کرنل تاج سلطان ایڈوائزر نیشنل کمیشن اینڈ وائر آف چالٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن کے اعلیٰ قلمدان پر حاضر سروس ہیں،موصوف کا کہنا تھا کہ بطور کرنل اپنی پیشہ وارانہ سروس پوری ہونے پر میں نے اپنی خدمات فاٹا میں دورانِ آپریشن ایسے جرائم پیشہ باغیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا ورک شرو ع کیا تو قبائلی کمیونٹی نے عدم تعاون کا بھرپور مظاہر کرتے ہماری راہ میں روڑے بچھانے کے علاوہ ہماری پارٹی کو بھی کوئی اہمیت نہ دی مگر میں نے ہمت نہ ہاری اور قبائلی لوگوں کے ساتھ ہر ممکن حد تک دور دراز کے سنگلاخ پتھریلے راستوں پر ایسے دکھی انسانیت کی مدد کو ترستے لوگوں کی مدد کی جن میں اپنے ڈاکٹروں اور سرجن حضرات بمعہ ادویات کے آپریشن کروانے، بچوں کی تعلیم کے لیے اسکولز کا قیام وغیرہ شامل ہے۔ہماری ان خدمات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمارے پروگرام کو فعال بنانے میں ہماری مدد کے لیے آمادہ ہوتے گئے۔ان کے تعاون سے ہم نے اِدھر اُدھر چھُپے ایسے بدنام زمانہ حکومتی مفرور تلف کیے اور ان کو گرفتار کرکے حوالہ پولیس کیا۔یہی نہیں بلکہ ہم نے ایسے دور دراز علاقوں میں تعلیمی ترقیاتی اصطلاحات کو ان قبائل سے روشناس کروایا۔حکومتی فنڈنگ کے بل بوتے پر ہر طرح کا راشن اور گرم کمبل کپڑے وغیرہ فراہم کیے۔ہمارے اس اقدام پر وہ لوگ جو آرمی کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے وہ بھی ہم میں گھُل مِل گئے ان کے بچوں کی ایجوکیشن کے حوالے سے مختلف کیڈٹ اسکولوں اور کالجوں میں داخلے دلوائے یہاں تک کہ میڈیسن کے علاوہ ہر طرح کے آپریشن اور علاج معالجہ کے لیے آرمی کے ڈاکٹر و لیڈی ڈاکٹر کی فراہمی کو یقینی بنایا۔تعلیمی اداروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں کھیلوں کو فروغ، دونوں طرف کی ٹیموں میں انعامات تقسیم کیے۔یہاں تک کہ جو ملکی صورتِ حال کے لیے وبالِ جان کی حیثیت رکھتے تھے اعلیٰ تربیتی اوصاف کے طفیل ان کو ذمہ دار معاشرہ کا حصہ بنایا۔ آرمی کے تشخص اور کامیاب امیج کا حصہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ان قبائلی علاقوں کے رہائشیوں کے دل سے آرمی کا خوف دور کیا اور اس کی جگہ حب الوطنی کا جذبہ اجاگر کیا۔ ہر تہوار پر پھل اور مٹھائیاں وغیرہ تقسیم کیں،ساؤتھ وزیرستان اور افغانستان جہاد ختم ہوا۔افغان طالبان امریکہ کے خلاف دل میں انتہا درجہ کی نفرت رکھتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہم اپنا علاقہ کسی کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے مگر میں نے اپنے پروگرام کو فعال بنانے کے لیے ایسے عناصر کی تمام تر کوششوں کے باوجود اس پر کافی حد تک کنٹرول کیا۔سال2011ء میں آرمی سے ریٹائرڈ ہو کر بطور آرمی آفیسر پشاور، مانسہرہ کرائم کے خلاف جہاد کا آغاز کیا۔ان اضلاع میں خوف کی علامت چیدہ چیدہ افراتفری کی فضا پیدا کرنے والےMoney head جن کے سر پر سرکاری طور پر بھاری انعامی رقم رکھی گئی تھی ان کو تلف کیا اور گرفتار کرکے اضلاع کی پولیس کے سپرد کیا اور اینٹی ٹیریف کورٹ، ملٹری کورٹس کو کیسز بھجوائے اور سخت سزائیں دلوا کر اس معاشرے کے گند کو صاف کرنے میں فعال اقدامات اٹھائے۔ کرنل (ر) تاج سلطان نے “اردو گلوبل یوکے برطانیہ” کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ میں نے ہمیشہ اپنی ذمہ داری کو احسن طریقہ سے نبھایا۔ہوم منسٹری خیبر پختون خواہ، ڈائریکٹر پبلک سیفٹی کمیشن، پولیس ریفارم کے پلیٹ فارم میں ایک بڑی جانفشانی سے ڈیوٹی سرانجام دیتے، اپریل 2021ء میں ایڈیشنل آئی جی جیل خانہ جات کا قلمدان سنبھالتے خیبر پختون خواہ ایریا کی جیلوں کو جدید حوالوں سے لیس کیا۔ پشاور جیل کو از سرِ نو جدید ضروریات سے مزید کرتے قیدیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے آرام اورتربیت کا آغاز کرتے انسانیت کے سر کو اونچا کیا۔ جیلوں میں پبلک کال آفس اور دیگر ضروری سہولتوں کو نا کہ قیدیوں کو فراہم کیا بلکہ ان جیلوں کو ماڈرن انڈسٹری سے منسوب کرتے قیدیوں کو اصلاحی سوجھ بوجھ کا درس دیا۔کرنل ریٹائرڈ تاج سلطان 2013 سے 2017 تک ہزارہ ڈویژن اور سوات ڈویژن میں بحیثیت ڈی ائی جی رہ چکے ہیں انسداد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں انہوں نے کامیابی حاصل کی ہے کیونکہ تاج سلطان خان کا مشن و مقصد دہشت گردی و انتہاپسندی کا خاتمہ تھا اس دوران کرنل ریٹائرڈ تاج سلطان اپنے مقصد و مشن میں کامیاب ہوگئے اس کے بعد 2017 میں کرنل ریٹائرڈ تاج سلطان ڈائریکٹر پبلک سیفٹی کمشن خیبر پختون خواہ مقرر کیا گیا اور 2018 تک انہوں نے اپنی خدمات بہت اچھے طریقے سے سر انجام دی جو قابل فخر ہے اس کے بعد کرنل ریٹائرڈ تاج سلطان ایڈیشنل ائی جی جیل خانہ جات خیبر پختون خواہ مقرر ہوئے اور اپریل 2021 تک انہوں نے خیبر پختون خواہ جیل خانہ جات کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے ہر ڈیپارٹمنٹ میں اپنی خدمات کو مخلصی اور نیک نیتی سے سرانجام دی ہے کرنل ریٹائرڈ تاج سلطان جیسے عظیم افسران کی وجہ سے ہی ادارے اگے جا سکتے ہے ایسے قابل افسران ملک و قوم کی پہچان ہے۔کرنل ریٹائرڈ تاج سلطان کا کہنا تھا کہ میں اس وقت بطور ایڈوائزر نیشنل کمیشن اینڈ رائزر آف چالیڈر ہیومین رائیٹس کمیشن میں ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہوں انشاءاللہ اس پیلٹ فارم پر ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں کہ اس کام کو مشن سمجھ کر آگے لے کر چلوں انٹرویو کے آخر میں کرنل ریٹائرڈ تاج سلطان نے اردو گلوبل یوکے برطانیہ کی ٹیم اور بین الاقوامی گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے چیف ایگزیکٹو اکرام الدین کا شکریہ ادا کیا اور ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا اور گلوبل ٹائمز میڈیا کے چیف ایگزیکٹو اکرام الدین کی ملکی و بین الاقوامی خدمات کو سرایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں