ڈاکٹر نوشین اور وکیل عرفان مہر کے قتل کے خلاف احتجاج

Spread the love

جیکب آباد(نامہ نگار) جیکب آباد میں قومی عوامی تحریک کی جانب سے سندھ میں جاگیردارانہ نظام، ڈاکٹر نوشین اور وکیل عرفان مہر کے قتل کے خلاف احتجاج۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں قومی عوامی تحریک کی جانب سے سندھ میں جاگیردارانہ نظام، چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کے ہاسٹل سے ڈاکٹر نوشین کی لاش برآمدہونے اور وکیل عرفان مہر کے قتل کے خلاف ایک احتجاجی جلوس چاکر خان جونیجو، محمد عثمان سومرو، محمد شعبان ابڑو، شاہد جوادی، عمران سولنگی اور دیگر کی قیادت میں نکالا گیا، مظاہرین نے جلوس نکال کر پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا، اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چانڈکا میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں ڈاکٹر نوشین کاظمی کی لٹکی ہوئی لاش اور وکیل عرفان مہر کا قتل ایک سازش ہے، تعلیمی اداروں میں بچیوں کی لٹکی ہوئی لاشیں ملنا تشویشناک بات ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی میں وکیل عرفان مہر کو فائرنگ کرکے سرعام قتل کیا گیا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ کے جاگیردار اور وڈیرے غریبوں کے حقوق پر قابض ہیں اور اس کالے نظام کے ذریعے وہ سندھی قوم کو غلام بنانے کی کوشش کررہے ہیں جس کے لیے سندھی قوم کو بیدار ہونا ہوگا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر نوشین کاظمی اور عرفان مہر کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے ورثاء کے ساتھ انصاف کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں