مختلف سکیموں سے اوپر کرم کو نظر انداز کرنا افسوسناک ہے،ساجد حسین طوری

Spread the love

اوپر کرم میں بہت سارے علاقے ایسے ہے جہاں وہ لوگ ذندگی کے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔رکن قومی اسمبلی

کرم ایجنسی(نمائندہ خصوصی)اردو گلوبل میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف حکومت کی بے حسی عروج پررکن قومی اسمبلی ایم این اے ساجد حسین طوری پاکستان تحریک انصاف حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں صوبائی حکومت نے سنٹرل اور لوئر کرم کیلئے مختلف سکیموں کیلئے فنڈز فراہم کئے ہیں اپر کرم کو مکمل نظرانداز کیا ہے جو اپر کرم کے ساتھ سراسر زیادتی ہے ہم مانتے ہے کہ سنٹرل اور لوئر میں ایسے پروجیکٹس کی ضرورت ہے اور ہونا بھی چاہئے ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اپر کرم میں بھی بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں وہ لوگ زندگی کے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جیسا کہ پیواڑ ،تری منگل، مقبل، زیڑان چھپر ،ملا باغ،وچہ درا، بغکی، دراداڑ ، خار کلے اسی طرح اور بھی علاقے موجود ہیں۔اپر کرم میں جہاں صحت کے ساتھ سکول، روڈز، پروٹیکشن والز اور پینے کے صاف پانی کی بھی اہم ضرورت ہے کرم میں تعینات 73 بریگیڈ نے بھی کافی حد تک مختلف ترقیاتی پروجیکٹس پر کام کئے ہیں جس کے ہم شکر گزار ہے۔علاوہ ازیں وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان سمیت صوبائی وزراء نے کئی بار ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاراچنار کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیکل کالج بنانے کے اعلانات کئے جو ابھی تک صرف اعلانات تک محدود ہے۔آرمی چیف نے ٹراما سینٹر بنا کر افتتاح بھی کیا، صوبائی وزرا  نے بھی 2 بار افتتاح کردیئے مگر ابھی تک ٹراما سنٹر کو کوئی سٹاف فراہم نہیں کیا اس کے علاوہ ہماری ڈیمانڈ تھی کہ پاراچنار میں ایک نرسنگ کالج بنایا جائے،وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال کیلئے بھی زمین مختص ہوا تھا لیکن ابھی تک کوئی خاطر خواہ رزلٹ نہیں نکلا۔ضلع کرم واحد ضلع ہے جہاں ایک ہی ڈسٹرکٹ میں 2،2 ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (DHOs) تعینات ہے۔آبادی کے لحاظ سے صرف ایک (DHO) افسر ہونا چاہیے۔ساتھ میں پاراچنار زنانہ ہسپتال اپ گریڈیشن پر بھی ابھی تک کوئی کام نہیں ہو رہا ہے۔اسکے علاوہ جتنے بھی نیے(BHUs) بی ایچ یوز لوئر اینڈ سینٹرل کرم بن رہے ہے اسی طرح اپر کرم میں بھی بننے چاہیے۔ اور بڑی اور اہم بات جہاں آئی ٹی (IT) یونیورسٹی کیلئے 800 کنال زمین بھی مختص کر دی گئی تھی جس پر کوئی غور فکر نہیں ہو رہا اس کے ساتھ ڈگری کالج نمبر 2 پاکستان پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں بن گیا ،ہینڈ اور بھی کردیا گیا،جس میں ہر قسم کی سہولیات موجود ہے، ہاسٹل، لیکچررز کیلئے ہاسٹل، پرنسپل کیلئے بنگلہ اس کے باوجود پی ٹی آئی حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی جس کیلئے سٹاف دی جائے۔نئے بننے والے سی ایچ سی پرائمری سکولز کو آبادی کے تناسب سے بناے جائے۔پبلک ہیلتھ آفس صدہ شفٹنگ قابل قبول نہیں،ہونا یہ چاہیے کہ صدہ پبلک ہیلتھ آفس کو اپ گریڈ کیا جائے، پاراچنار آفس کو پاراچنار میں ہے رہنے دیا جائے،اگر ذکر کیا جائے حاجی نصراللہ خان لائبریری کا تو مقامی انتظامیہ نے اس کو ایک پرائیویٹ این جی اوز کے حوالے کیا ہے، اور پبلک لائبریری پاراچنار کو ذاتی آفس میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو انتہائی شرمناک فعل ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کیلئے یہ سوالیہ نشان ہے جو دعوے تو کرتے ہے لیکن گراؤنڈ لیول پر کچھ بھی نہیں ہے۔ تو ہم کور کمانڈر 11 کور جنرل فیض حمید سے یہ درخواست کرتے ہے کہ ہمارے ان مسائل پر توجہ دی جائے تاکہ یہ پسماندہ علاقے کے عوام زندگی کے ان بنیادی سہولیات سے مستفید ہوجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں