جہلم چائلڈ لیبر کے خاتمے کے دعوے تاحال سیاسی نعروں تک ہی محدود

Spread the love

جہلم(چوہدری عابد محمود +شیخ زلفی)جہلم چائلڈ لیبر کے خاتمے کے دعوے تاحال سیاسی نعروں تک ہی محدود، ضلع کے شہری اور دیہی علاقوں میں کمسن بچوں سے چند روپوں کے عوض مشقت کرانے کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا۔صوبہ سے چائلڈ لیبر کا خاتمہ کرنے کے لئے برسر اقتدار آنے والی حکومتوں کی جانب سے بلند و بانگ دعوے کئے جاتے رہے مگر ضلع جہلم میں حقیقت کا رنگ کہیں بھی نظر نہ آسکا، جن کمسن بچوں کے ہاتھ میں قلم اور کتاب ہونی چاہیے وہی بچے ورکشاپوں، ہوٹلز، ریسٹورنٹس، چائے کے کھوکھوں، پٹرول پمپوں، اینٹوں کے بھٹوں، مسافر گاڑیوں میں مشقت، کچرا چننے، کباڑیوں کی دکانوں میں کام کرتے نظرآتے ہیں۔مذکورہ بچوں سے انتہائی کم اجرت پر مسلسل کئی کئی گھنٹوں تک مشقت کروائی جاتی ہے، اور یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر محنت مشقت کرنیوالے بچوں کو معمولی غلطی کرنے پر جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتاہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ روز بروز چائلد لیبر میں اضافہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے جس معاشرے میں مستقبل کے معماروں کے ہاتھ میں قلم کی بجائے ہتھوڑا پکڑوا دیا جائے وہ معاشرہ کبھی بھی ترقی کا سفر شروع نہیں کر سکتا، عوام کی نظروں میں چائلڈ لیبر کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ان کو بنیادی ضروریات زندگی پر ریلیف حاصل نہیں ہوپاتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تبدیلی کی دعوئے دار حکومت غربت اور محرومی کا خاتمہ کرنے کے لئے انقلابی اصلاحات نافذ العمل کرے تاکہ خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے ساتھ چائلڈ لیبر جیسی لعنت کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں