جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے زیراہتمام عالمی سطح پر منائے جانے والے”ہفتہ انسانی حقوق“کے سلسلہ میں انٹرنیشنل پارلیمنٹرین کشمیر کانفرنس کا انعقاد

Spread the love

لندن-چودھری عارف پندھیر
جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے زیراہتمام عالمی سطح پر منائے جانے والے”ہفتہ انسانی حقوق“کے سلسلہ میں انٹرنیشنل پارلیمنٹرین کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کا انعقاد جموں کشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل نے یوتھ پارلیمنٹ پاکستان اور انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیزکے اشتراک سے کیا جس کی صدارت چیئرمین تحریک حق خودارادیت راجہ نجابت حسین نے کی، جبکہ کانفرنس سے صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی شہر یارخان آفریدی، چئیرمین یوتھ پارلیمنٹ پاکستان ابرار الحق،کشمیرمیڈیا سروس کے شیخ تجمل السلام، جبکہ برطانیہ اور امریکہ سے ویب نار پر ممبران پارلیمنٹ چئرپرسن آل پارٹیزکشمیر پارلمینٹری گروپ ڈیبی ابرہامس Debbie Abrahams) (جیمس ڈیلی ایم پی (James Daly MP)، چیئرمین لیبر فرینڈز آف کشمیراینڈریو گیوائن ایم پی) (Andrew Gwynne MP،شیڈو ڈپٹی لیڈر ہاؤس آف کامنز لندن افضل خان رکن پارلیمنٹ) (Afzal Khan MP،پال برسٹو ایم پی) MP Paul Bristow ,(ٹونی لائیڈ ایم پی(Tony Lloyd MP)، سارہ اوون ایم پی (Sarah Owen MP),، راچل ہوپکنزایم پی (Rachel Hopkins MP)،سابق ممبر یورپین پارلیمنٹ انتھیہ میکانٹیئر( Anthea McIntyre)، شفق محمد سابق ممبر یورپین پارلیمنٹ، سابق ممبریورپین پارلیمنٹ فلپ بینین) (Philip Bennion، محترمہ عاصمہ قدیرایم این اے ممبر کشمیر کمیٹی پاکستان پارلیمنٹ، اورامریکہ سے یوتھ لابیسٹ فرحانہ شفیع نے خطاب کیا۔
کانفرنس میں ڈائریکٹر جنرل جموں وکشمیرلبریشن سیل فدا حسین کیانی، یوتھ پارلیمنٹ پاکستان کے صدر عبید قریشی، یوتھ پارلیمنٹ پاکستان کے کیبٹ ممبران محمد شہزاد خان، شکیل الرحمان، یوتھ پارلیمنٹ کے جواں ٹ سیکرٹری ولید خان، سیکرٹری میڈیا نعمان خان، سردار رحمان،سید شہباز خان، افشاں تحسین باجوہ، محترمہ گلشن منہاس، طاہرہ سعید، سردارعبدالقیوم خان کے علاوہ این جی اوز اور مختلف سماجی تنظیموں، میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔
کشمیر کانفرنس کے میزبان اور جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستانی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، معصوم بچوں سے لیکر خواتین، نوجوانوں اور عمر رسیدہ افراد کو گرفتار کر کے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں ”جے رام“ کے نعرے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے، مقبوضہ جموں وکشمیر کے اندر عوام کے گھروں پر چھاپے اور اس دوران کشمیریوں باالخصوص نوجوانوں اور معصوم بچوں کا قتل عام ہندوستانی فورسز کا معمول بن چکا ہے۔ راجہ نجابت حسین نے کہا کہ ہماری تنظیم جو خالصتاً ایک غیرسیاسی تنظیم ہے اور گزشتہ پچیس سال سے زائد عرصہ سے کشمیریوں کے بنیادی حق خودارادیت کو اجاگر کرنے کے لئے کام کر رہی ہے نے اس سال یورپ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں ”ہفتہ حقوق انسانی“ شروع کیا ہے اس دوران تحریک کی ٹیمیں سیمنارز، کانفرنسز اور لابی مہم کا انعقاد کر کے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ کشمیری عوام اپنے اس بنیادی انسانی حق کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں جو اقوام متحدہ کے چارٹر کا حصہ ہے اور جسے ہندوستان نے اپنی فوجی طاقت کے ذریعے غصب کر رکھا ہے۔
راجہ نجابت حسین نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو اپنہ ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیں کیونکہ اس وقت مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین رخ اختیار کر چکی ہے خاص طور پر 5 اگست2019 کے ہندوستانی حکومت کے غیر آئنی اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں، اگر عالمی قوتوں نے اپنا دوہرا معیار ختم کر کے اس سنگینی کا احساس نہ کیا تو خطے کے اندر پائیدار امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو لاک ڈاؤن کا اندازہ ہو چکا ہے، مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام 5 اگست2019 کے بعد لاک ڈاؤن میں دنیا کی سب سے بڑی جیل کے اندر زندگی بسر کرنے پر مجبور اور بے بس ہیں۔
کشمیر کانفرنس سے برطانوی ممبران پارلیمنٹ اور سابق ممبران یورپی پارلیمنٹ ڈیبی ابرہامس،جیمس ڈیلی، اینڈریو گیوائن،افضل خان،پال برسٹو،ٹونی لائیڈ،سارہ اوون، راچل ہوپکنز،سابق ممبران یورپین پارلیمنٹ انتھیہ میکانٹیئر،شفیق محمد سابق، پارلیمنٹ فلپ بینین، محترمہ عاصمہ قدیرایم این اے اورامریکہ سے یوتھ لابیسٹ فرحانہ شفیع نے ویب نار پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے وہ پوری طرح آگاہ ہیں، کشمیری عوام جن مشکل ترین حالات سے گزر رہے ہیں،ان کا دنیا کو ادراک کرنا چاہے، انہوں نے کہا کہ وہ اپنے فورمز پر کشمیریوں کے بنیادی حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ممبران پارلیمنٹ نے پاکستان اور ہندوستان پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی طرف بڑھیں تاکہ خطے کے اندر مستقل اور دیرپا امن کا قیام ممکن ہو سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں